اختصارئےڈاکٹر علی شاذفلکھاری

کچھ چکنی چپڑی ترقی پسندی کے بارے میں ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف

چند ماہ پہلے پاکستان میں ترقی پسندوں کی ایک نئی پود نے جنم لیا ہے۔ یہ نسل نوازشریف جیسے سیاستدان کو اپنا رہبر و رہنما بنا بیٹھی ہے۔ یہ وہ ٹولہ ہے جو کمیونزم کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہے اور پھر بھی خود کو ترقی پسند کہنے پر بضد ہے۔ ان کے خیال میں کمیونزم ایک جذباتی نعرہ تھا جو نئے زمانے میں اپنی عملی افادیت کھو چکا ہے۔ ان لوگوں میں میرے کچھ بہت محترم بزرگ دوست شامل ہیں اس لیے میں کھل کر ان کے بارے میں لکھوں گا تو شاید وہ بےادبی ہو گی۔
ان حضرات کا کہنا ہے کہ نئے زمانے میں سوشل ڈیموکریسی یعنی اصلاحات کی سماجی جمہوریت بہترین نظام ہے۔ اس کے لیے ایسے لوگوں کو آگے آنا چاہیے جو ایک حد تک سرمایہ داروں کو ٹف ٹائم دے کر غریبوں پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ کم کر سکیں۔ ان کی دانست میں پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کی ذمہ دار فوج اور اس کی ریشہ دوانیاں ہیں۔ یہ سمجھتے اور سمجھاتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف میاں نواز شریف اور اس کی بیٹی بھٹو اور بینظیر کی طرح نجات دہندہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی چونکہ اب کھل کر فوج اور ایجنسیوں کی آلہء کار بن چکی ہیں، اس لیے وہ ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکتیں۔ اس گروہ کی چکنی چپڑی ترقی پسندی نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا ہے اور کئ لوگ سوشلزم سے بدگمان ہو کر میڈیا پر ان کے ہمنوا بن گئے ہیں۔
یکم اگست 2018 کو لاہور کے معروف ترقی پسند شاعر کامریڈ عابد حسین عابد نے مجھے پاک ٹی ہاؤس لاہور میں منعقد ہونے والی شعری نشست میں مدعو کیا۔ میں نے انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹینڈینسی کے دفتر سے کامریڈ راشد خالد کو ساتھ لیا اور اس تقریب میں جا پہنچا۔ ہم وہاں ترقی پسند ادیبوں اور اردو اور پنجابی کے شعراء کی ایک بڑی تعداد کو دیکھ کر بےحد متاثر ہوئے۔حاضرین نے شعراء کے کلام پر جو تنقیدی گفتگو کی اس کا لب لباب یہ تھا کہ آج کے دور میں اشتراکی مزاحمتی شاعری اور ادبی تخلیقات کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ شرکاء نے کہا کہ یہ دور معاشرتی ناانصافی، ظلم اور سرمایہ دارانہ جبر کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ شریک گفتگو ادیبوں نے صرف معاشرتی دکھوں کی شاعری سے نکل کر ان کے سائنسی اور نظریاتی حل پیش کرنے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ سوشلزم ہر معاشرے کی تہذیب و تمدن، رہن سہن، ادب اور فنون لطیفہ سے جڑت بنا کر ارتقاء کی منازل طے کرتا ہے۔ ایک ترقی پسند شاعر اور ادیب یاسیت کا نہیں بلکہ امید اور انقلاب کا شاعر ہوتا ہے۔ اس تقریب کے منتظم عابد حسین عابد کا کہنا تھا کہ اس فورم پر رومانی اور ذاتی دکھوں پر مبنی شاعری کے ساتھ ساتھ براہ راست مزاحمتی تخلیقات پیش کی جانی چاہییں۔ ساتھ ہی ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا اس دور کے ترقی پسند سچے شاعر کا ہر شعر کسی نہ کسی حوالے سے طبقاتی تقسیم اور اس کے اثرات سے جنم لیتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مزاحمتی ترقی پسند شاعری ہر دور میں سوشلسٹ انقلابات کا پیش خیمہ رہی ہے اور ایک بار پھر بہت جلد برپا ہونے والے مستقل اور عالمگیر سوشلسٹ انقلاب کی نقیب ثابت ہو گی۔

پاکستان کے دل میں اتنی شاندار نشستوں کو ہفتہ وار کامیابی کے ساتھ منعقد کرنے پر کامریڈ عابد، کامریڈ حسین شمس رانا اور دیگر منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں. پروگرام سے واپسی پر میں نے اور راشد نے پروگریسو ہاتھ الائنس اور ریڈورکرزفرنٹ کے زیر اہتمام بہت جلد منعقد ہونے والے مشاعرے میں انجمن ترقی پسند مصنفیںن کی مدد لینے پر بھی گفتگو کی. اس نوعیت کی علم و آگہی سے بھرپور مسلسل کامیاب نشستیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سوشلسٹ نظریہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ و پائندہ ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے پاس اس دنیا کو جنگ و جدل اور مکمل تباہی سے بچانے کے لیے اور کوئی راستہ اور حل موجود ہی نہیں ہے.

علی شاذف

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker