Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, اپریل 24, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی
  • عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • بلوچستان کے ضلع چاغی میں مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، نو افراد ہلاک
  • اسلام آباد کی کرفیو جیسی صورتِ حال میں ’’ خیر کی خبر ‘‘ نصرت جاوید کا کالم
  • ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ارشاد بھٹی معافی مانگ لی : میں لالی ووڈ کوئین ہوں ، معاف کیا : اداکارہ میرا
  • ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی
  • بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم
  • امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • جنم ، قلم اور اظہار الم : غلام دستگیر چوہان کی یاد نگاری
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»ادب»ملتان اور رضی : میری یادداشت میں : ڈاکٹر خاور نوازش کا مضمون
ادب

ملتان اور رضی : میری یادداشت میں : ڈاکٹر خاور نوازش کا مضمون

ایڈیٹرفروری 17, 202377 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

ملتان کا جب بھی کہیں ذکر آئے توروایتاً مقرر یا محرر اس شہرکا ذکر ”مدینة الاولیا “کے سابقے اور ” شریف “ کے لاحقے کے ساتھ شروع کرتا ہے اور کم و بیش پوری گفتگو یا تحریر انہی سابقوں لاحقوں کے سیاق و سباق میں ہوتی ہے۔ ہم بھی اپنی نام نہاد ہوش مندی کے ابتدائی دنوں میں اس شہر کو مذکورہ مقدس نسبت سے ہی جانتے تھے ۔ پھر کچھ زبان کا چسکا لگا تو علم ہوا کہ اس شہر کی ایک نسبت سوہن حلوہ بھی ہے، کھیل کا چسکا لگا تو جانا کہ اس کی ایک نسبت انضمام الحق بھی ہے۔ ہم ملتان کی ان تین نسبتوں کی جان کاری کے ساتھ زمانہ ء طالب علمی میں جب اس شہر میں وارد ہوئے تو9 نمبر چوک سے گھنٹہ گھر تک ٹانگے چلنے کا موسم آخری سانسیں لے رہا تھا،سو معمولی سا ہی سہی بہرحال ہمیں یہ افتخار حاصل ہے کہ ہم نے فلائی اوروں کے جال سے پہلے کا ملتان بھی دیکھا۔ اُس کے بعد سوہن حلوہ انٹرنیشنل ہو گیا، ہمارا انضمام الحق مولانا طارق جمیلی ہو گیا، اوراس شہر کی وہ ایک نسبت جو ”شریف“ کی تھی یہاں کے مخدوموں کی باہمی لڑائی نے ہم پر یوں آشکار کی کہ اب کوئی پوچھے کہ آپ کہاں سے ہیں تو بس نہیں چلتا کہ بتائیں اُس ”مُولتان“ سے ہیں جہاں پرہلاد مندر ،سورج کنڈ مندر، اَلنگ ، خونی برج، پُل موج دریا، قلعہ کہنہ قاسم، چھ تاریخی دروازے، گھنٹہ گھر، کرائسٹ چرچ اور سیکڑوں فقیروں کی وہ درگاہیں ہیں جن میں امن، آشتی، سکون اور بقائے باہمی پر استوار پانچ ہزار سالہ قدیم معاشرے کی گواہی تلاش کی جا سکتی ہے۔
اس کے بعد ہم نے تعلیمی میدان میں اپنے لیے ادب کا شعبہ منتخب کیا تو گویا ملتان کی نسبتوں کا ایک نیا در کھل گیا۔ باکمال ادیبوں، دانشوروں سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔ اُردو اکادمی ملتان نوجوانوں کی تربیت کا بنیادی ادارہ تھا، وہاں بیٹھ کر فن کے رموز سیکھنے سے بڑھ کر اپنی رائے دینے اور بات کہنے کاکچھ ہنر سیکھا۔شعبہ اُردو بہاءالدین زکریایونیورسٹی ملتان پر بھی وہ نسبتاً بہتر وقت تھا۔زبان و ادب سے لگاؤ کے اُس ابتدائی زمانے میں بہت سی نامور ہستیوں کی زیارت یہیں ملتان میں ہوئی ۔ اُس زمانے میں ( اور شاید اب بھی)ملتانیوں کو کراچی لاہور کی نسبت قریب محسوس ہوتا تھا۔ فرمان فتح پوری، محمد علی صدیقی،معین الدین عقیل، سحر انصاری اور آصف فرخی صاحب کی زیارت یہیں ہوئی۔ اِدھر سے احمد فراز، انتظار حسین، گوپی چند نارنگ،مستنصر حسین تارڑ، ڈاکٹر مبارک علی، کشور ناہید، حمید اختر، قاضی جاوید، ظفر اقبال، اصغر ندیم سید، سید جعفر احمد، احمد سلیم،ڈاکٹر اے بی اشرف،ڈاکٹر نجیب جمال، رشید امجد اور مسعود اشعرایسے اُردو زبان و دانش کے عظیم ستونوں سے یہیں ملاقاتیں ہوئیں اور اُن سب کو سننے کا شرف حاصل ہوا۔ اُس دور میں شعبہ اُردو ، بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کو چلانے والے مقامی لوگ تھے سو شعبے اور شہر کے درمیان ایک مضبوط رابطہ بھی استوارتھا۔ علی تنہا، سید اصغر علی شاہ،اسلم انصاری، محمد امین،نوشابہ نرگس،لطیف الزماں خاں، انور زاہدی،صلاح الدین حیدر، شمیم حیدرترمذی، مختار ظفر، خالد سعید، انور جمال، مبارک مجوکہ،حیدر عباس گردیزی، ممتاز اطہر،فیاض تحسین ،شاکر حسین شاکر، رضی الدین رضی، قمر رضا شہزاد، شہناز نقوی شعبہ اُردو تشریف لاتے اور اُن سے ملاقاتیں ہوتیں۔
ملتان کی ان خوبصورت نسبتوں سے شعبہ اُردو کے علاوہ اُردو اکادمی ملتان ،ملتان آرٹس فورم اور انجمن ترقی پسند مصنفین ملتان کی ادبی مجالس میں بھی ملاقاتیں ہو جاتیں۔ ان مجالس میں تواتر سے شریک ہونے سے ہم پر ملتان کی ایک اور نسبت وا ہوئی اور وہ تھی یہاں کے ادیب ، شاعر اور اُن کی ایسی باہمی رنجشیں جن کے محرکات بھی دلچسپ ہوتے۔ ادبی تاریخ میں دبستان ِ ملتان کا جب بھی کوئی ایک اختصاص طے ہوگا تو میری دانست میں وہ اس دبستان کے وابستگان کا اسلوب اور اس اسلوب میں جملے کی کاٹ ہوگا۔ ہم نے کچھ ملتانی ادیبوں کی تخلیقات اور تنقیدات کو اِسی اسلوب اور جملے کی نذر ہوتے بھی دیکھا۔ ایک جملہ کسنے کے لیے یہاں پوراپورا افسانہ، کالم، خاکہ اور مضمون بھی لکھا جاتاہے اور ایک جملہ بولنے کے لیے پوری تقریر بھی ہوتی ہے۔ یہاں کے ادیبوں کی باہمی چپقلشوں کا منبع بھی اکثر اوقات وہی ایک جملہ ہوتا ہے۔آپ ہماری اس رائے سے بالکل اختلاف کیجیے، آپ کا سچ ہمارے سچ سے مختلف ہو سکتا ہے، لیکن ہم نے عالمانہ روایت کے حامل ملتان سے زیادہ جملہ باز ی کی روایت کا حامل ملتان دیکھا۔ ویسے یہ کوئی ایسی منفی بات بھی نہیں اگر جملے میں دشنام طرازی کے بجائے تخلیقیت ہو اور جملہ کسنے والا تضحیک اور مزاح کے فرق کو سمجھتا ہو۔بہرکیف ہم اُس ملتان کو دیکھنے سے محروم رہے جس میں کشفی ملتانی، کیفی جامپوری، عرش صدیقی،مہر عبدالحق، علامہ عتیق فکری، محسن نقوی، انوار انجم، فرخ درانی، عبد الرشید، جابر علی سید،ارشد ملتانی، زوار حسین،منشی عبد الرحمن، تاثیر وجدان، اقبال ارشد، حزیں صدیقی، حسین سحر،رحمن فراز، فاروق عثمان، اے بی اشرف، حسن رضا گردیزی اور شبیر حسن اخترایسے بہت بڑے اذہان موجود تھے۔وہ لوگ جو بات کہنے کا فن جانتے تھے اورجنھوں نے یہاں عالمانہ روایت کو پروان چڑھایا ۔ہم نے اُس ملتان کو صرف کتابوں میں پڑھا ۔ جس ملتان کو ہم نے اپنی آنکھوں اور کانوں سے محسوس کیا اُسے اکیسویں صدی شروع ہوتے ہی اُردو کے تہذیبی رکھ رکھاؤ اور وضع داری سے بدہضمی اور سرائیکی کی مٹھاس سے شوگر کا خطرہ پیدا ہو چکا تھا،پھر سوشل میڈیا کی آمدہوئی اورساری دانش ایک سوشل میڈیائی کمنٹ یا سٹیٹس میں سمٹنے لگی ،ادیب کا فوکس اپنی تحریر سے زیادہ تصویر پر ہو رہا تھا، ادبی مجالس کا کلچر بھی تبدیل ہو گیا،ملتان ٹی ہاؤ س جیسے پراجیکٹس کے ذریعے کچھ لوگوں نے کوشش کی کہ یہاں کے ادبی کلچرکو جوایک عرصے سے اس شہر کی واحد خوش کن نسبت تھا ، بچایا جا سکے، پھر ایک وبا آئی اور اس شہر کا تو کیا پورے ملک بلکہ پوری دنیا کا ہی علمی و ادبی کلچر تبدیل ہو گیا۔
اسی ملتان کے رضی سے ہماری پہلی ملاقات کوئی پندرہ سولہ برس پہلے تب ہوئی جب ہم صبح سے شام تک ستارے ملاتے تھے اور اُس نے آکر ہمیں بتایا کہ ”کنارے مل نہیں سکتے، محبت کی کہانی میں، محبت کرنے والوں کے، ستارے مل نہیں سکتے“۔ شعبہ اُردو کے ایک مشاعرے میں پہلی بار رضی کو سنا اور ہمیں اُس سے دِل لگی ہو گئی۔ اس کے بارے میں مزید جانا تو پتا چلا کہ وہ 1995ءمیں ”دن بدلیں گے جاناں“ کے ساتھ ایک اُمید سے جڑا ہوا ،1999ءمیں ”ستارے مل نہیں سکتے“کے ساتھ مایوس ہوتا ہوا اور پھر 2003ءمیں ”تمہیں دل میں بسانا ہے“ کے ساتھ نئے ارادے باندھتا ہوا ایسا شاعر ہے جس کی شاعری رومان کے لبادے میں گہرے سیاسی و سماجی شعور کی حامل ہے ۔ رضی کو مزید پڑھا اور سنا تو محسوس ہوا کہ اُس کے ہر شعر کی نازک پتی خارجی ماحول کے تلخ حقائق کا بھاری بھرکم پتھر ایسے ہی اٹھائے ہوئے ہے جیسے خود رضی اپنے احساسات میں آمریتوں کے ادواراور اُن کی باقیات کا کرب لیے مضبوطی سے کھڑا ہے۔
پھر کچھ عرصے بعد ہم اُس رضی سے ملے جس نے پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر پر گولیاں برسانے والے کو غازی لکھنے اور کہنے سے انکار کرکے قاتل کہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارے خطے کے سب سے زیادہ انسان دوست اور غیر متشدد رویے کے حامل مذہبی مسلک بریلویت کو شدت پسند اور بنیاد پرست بنانے کا آغاز ہوا۔اُس دورکے اخبارات اور تقریبات میں ملتان سے تعلق رکھنے والے یقینا اور بھی لوگ ہوں گے جنھوں نے اس موضوع پر لکھا اور بولا، لیکن ہمیں بہرکیف جو دو صحافی نظر آئے اُن میں ایک عامر حسینی تھے اور دوسرے رضی الدین رضی جنھوں نے جرات کے ساتھ لکھا اور بولا۔ یہ ہماری شاعر رضی کے بعد صحافی رضی سے ملاقات تھی۔پھر گویا ایک مسلسل رابطہ اورتعلق قائم ہو گیا۔ اُس کی انسان دوستی، ملنساری اور سچ بولنے اور لکھنے کی ہمت نے ہمیں ہمیشہ متاثر کیا۔ رضی اور شاکر کا نام ملتان اور ملتان سے باہر کے دوست ہمیشہ ایک ساتھ لیتے ہیں اور میری ذاتی رائے میں اس دوستی اور جڑت نے دونوں کو بہت سے جمالیاتی و غیر جمالیاتی الزامات اورمخالفتوں سے بھی بچایا ہے۔ رضی جتنا ”چھِتاصحافی“ ہے ، شاکر اتنا ہی ”ٹھنڈا مٹھامانوُں“ ہے۔ لیکن ان سب باتوں سے قطع نظراِن کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ ملتان کی وہ متوازی تاریخ اپنے سینے میں اٹھائے پھرتے ہیں جو کتابوں اور اخبارات میں نہیں مل سکتی۔ملتان کی ادبی محفلوں ، مختلف خانوادوں، سیاسی تحریکوں، مقامی ادیبوں ، سیاستدانوں اور صحافیوں کی نجی اور پیشہ ورانہ زندگیوں، مختلف اداروں اور تنظیموں کے عروج و زوال، صحافتی تاریخ اور اس شہر کے ثقافتی و تاریخی مقامات کا احوال جتنا ملتان کے اِن دونگینوں کے قلب و ذہن میں محفوظ ہے وہ کسی اور جگہ بمشکل دستیاب ہوگا۔ متذکرہ احوال کے کچھ گوشے اب ان دونوں نے سامنا لانا شروع کیے ہیں۔ رضی نے پچھلے کچھ عرصے میں ”رفتگان ِ ملتان“، ”وابستگان ِ ملتان“ اور”سخن وران ِ ملتان(۱) اور (۲)“کے ذریعے اس خطے کی اہم شخصیات کے بارے میں اپنے تاثرات قلم بند کیے ۔ ابھی حال ہی میں ان پر ایک اور نیک خیال نازل ہوا کہ اپنے کالموں کو کتابی شکل میں اکٹھا کر دیا جائے۔ایک کتاب ”کالم، کہانیاں، خاکے“کے عنوان سے منظرِ عام پرآچکی ہے اور یہ غالباً اس سلسلے کی دوسری کتاب ہے جس میں”ہوتل بابا“ کے قلمی نام سے لکھے گئے کالم شامل کیے جا رہے ہیں۔رضی نے اپنے ایک کالم میں ہی ہمیں بتایا کہ یہ قلمی نام انھیں ڈاکٹر انور سدید نے بابا ہوٹل کی مناسبت سے عطا کیا تھا۔ نواں شہر چوک ملتان میں جس جگہ پر اب بابا آئس کریم ہے وہاں کسی زمانے میں بابا ہوٹل قائم تھا اور اُس کے سامنے تاج ہوٹل( جو ابھی تک موجود ہے)۔ملتان کے دانشوراور ادیب اکثر اوقات انہی دو جگہوں پر پائے جاتے تھے۔ جو ذرا عوامی مزاج اور طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے وہ بابا ہوٹل میں محفلیں جماتے اور جو ذرا خود کو عوام سے فاصلے پر یا یوں کہہ لیجیے کہ” ڈرائنگ روم مزاج “کے لوگ تھے وہ تاج ہوٹل کو ترجیح دیتے۔ جو ان دونوں جگہوں کی بچ کھچ ہوتی وہ دہلی مسلم ہوٹل، گلڈ ہوٹل اور کیفے عرفات وغیرہ پر ملتی۔ ہماری نسل نے وہ زمانہ تو نہیں دیکھا لیکن اُس دور کے واقعات ضرور سنے ہیں ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جیسے لاہور کے پاک ٹی ہاؤس کی کہانیاں ہیں کم و بیش ویسے ہی ملتان کا بابا ہوٹل تھا۔ رضی الدین رضی کی ادبی زندگی کا ایک بڑا عرصہ وہاں گزرا۔”ہوتل بابا“ کے قلمی نام سے رضی الدین رضی ہفت روزہ ”دید شنید“ میں ایک کالم ”تحفہء ملتان“لکھتے رہے۔ ہماری معلومات میں رضی نے کالم نگاری کا آغاز ”ڈرتے ڈرتے“ کے مستقل عنوان سے روزنامہ ”سنگ ِ میل“سے کیا تھا۔اس کے بعد ”نوائے ملتان“ ، ”دید شنید“، روزنامہ ”جسارت“ اور ”قومی آواز“میں کالم نگاری کی۔ ملتان سے شائع ہونے والے نمائندہ اخبارات ”امروز“، ”نوائے وقت“ اور ”آفتاب “ کے لیے بھی لکھا۔ گویا وہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ملتان کی صحافیانہ روایت کا بھی ایک مضبوط حوالہ ہے۔
اس کتاب میں شامل کالم پڑھتے ہوئے مجھے قدم قدم پر یہ احساس ہوتا رہا کہ یہ کوئی اور رضی الدین رضی ہے جس کے ہاں شوخی، شرارت، شگفتگی ایسی ہے جو ہمیں گزشتہ پندرہ بیس سال کے رضی میں بہت کم نظر آتی ہے۔ اپنے پہلے کالم میں وہ لکھتا ہے کہ”تحفہ ء ملتان“ لکھتے ہوئے ہم دید اور شنیددونوں کو قارئین تک پہنچائیں گے، لیکن ان کالموں میں واقعات کی تفصیل اور اسلوب سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ ایک صحافی کا قلم رواں دواں ہے، یہ کالم صرف دیدنی اور شنیدنی نہیں ہیں بلکہ کہانی اور بیان اپنے مکمل تناظرکے ساتھ موجودہیں۔ ہم نے اس مضمون کے آغاز میں دبستان ِ ملتان کے جس اختصاص کا اظہار کیا ہے ، رضی کے ہاں بھی وہ اختصاص موجود ہے۔ یہ کالم پڑھتے ہوئے ہم رضی کے جملوں کی داد دیتے رہے تو ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سوچتے رہے کہ اُس دور میں رضی کے جملوں کی کاٹ برداشت کرنے والا ہر ”طائر ِ لاہوتی“ یقیناً ایک ایک تمغے کا مستحق ہے (اور غالباً ان میں سے بیشتر کو تمغے مل بھی چکے ہیں)۔ مختلف کالموں سے چند جملے ملاحظہ کیجیے:
٭ ”عاصی کرنالی تو اس شہر کی سڑکوں پر اپنے کھچاڑا سکوٹر سمیت پھرتے ہی رہتے ہیں ۔ کبھی خود سکوٹر پر سوار ہوتے ہیں اور کبھی سکوٹر اُن پر سوار ہوتا ہے۔“
٭ ”جب سے شاکر حسین شاکر نے کتابوں کی دکان کھولی ہے ، حسین سحر نے احباب کو کتابیں مفت دینا بند کر دی ہیں۔“
٭ ”حزیں صدیقی کے ہم اس لیے بھی مداح ہیں کہ وہ ہمیں ”بھی “غزلیں لکھ کر دیتے ہیں۔ ان میں خوبی یہ ہے کہ غزل یانظم کی زکوٰة دینے کے بعد راز کو راز ہی رہنے دیتے ہیں۔ حیدر گردیزی اور اقبال ارشد کی طرح بھری محفل میں شاعر کے حصے کی داد کن اکھیوں سے خود وصول نہیں کرتے۔“
٭ ”قمر رضا شہزاد اور حسنین اصغر تبسم …. شکر ہے ان کے ماتھے پر بیدل حیدری کی شاگردی کا ٹیکہ نہیں ورنہ آج وہ بھی شرمندہ شرمندہ پھر رہے ہوتے ۔“
٭ ”ہم نے عرض کیا کہ ڈاکٹر صاحب ،آپ ہائیکو کی بات کرتے ہیں یارلوگ تو انشائیے کوبھی نصاب سے نکلوانے کی تگ ودو کررہے ہیں۔اس پرامین صاحب کے ہونٹوں پر مہاتما بدھ جیسی مسکراہٹ طلوع ہوئی اور انہوں نے رس گلوں کی پلیٹ ہماری طرف بڑھا کر کہا ”انشائیے کے بانی ہونے کامسئلہ کتنا الجھ گیا ہے لیکن دیکھئے کہ ہائیکو کے بانی کا کوئی جھگڑانہیں ۔کیا آپ کوپتہ ہے اردو میں ہائیکو کابانی کون ہے؟“۔ہم نے عرض کیا ”جب تک یہ رس گلے ختم نہیں ہوتے ڈاکٹر محمد امین ہی ہائیکو کے بانی ہیں۔“
٭ ”رفعت عباس سرائیکی کا نوجوان شاعر ہے۔ اُس کے ساتھ اس موضوع پر بات ہوئی تو اس نے حفیظ خان کے افسانوں کی بہت تعریف کی۔ اور ہم نے اس پر یقین بھی کر لیا۔“
٭ ”نذیر قیصر کو پچھلے دنوں اس وقت اچانک شہرت مل گئی جب انہوں نے دعوی کیا کہ ان کی لکھی ہوئی غزلیں عطاءالحق قاسمی مشاعروں میں پڑھتے رہے ہیں….عطاءالحق قاسمی صاحب کوبھی اطمینان رکھنا چاہیے کہ نذیر قیصر صرف الزام عائد کرتے ہیں مگر ثبوت کبھی فراہم نہیں کرتے۔“
٭ ”عرش صدیقی والی سہ پہر میں حاضرین کی بہت کمی نظرآئی ۔اورتواور طائرلاہوتی بھی موجودنہیں تھے۔ حالانکہ وہ عرش صاحب کی کار کا پانچواں پہیہ سمجھے جاتے ہیں۔“
٭ ”نسیم شاہد ملتان کے فیچر رائیٹر ہیں۔ کسی اخبار کے ساتھ منسلک نہیں۔ ”امروز“ میں چھپنا ہو تو ترقی پسند بن جاتے ہیں اور ”نوائے وقت“ میں اپنی تحریریں شائع کرانے کے لیے اپنی داڑھی والی تصویر استعمال کرتے ہیں۔“
٭ ”خواتین کی ادبی تنظیم ”حریم فن“ کا اجلاس ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو منعقد ہوتا ہے سو کچھ ادیب اور شاعر وہاں چلے گئے….ایسی تقریبات میں شاکر حسین شاکر بہت اہتمام سے شرکت کرتے ہیں، خدا معلوم وہ بھی وہاں جا سکے یا نہیں۔“
ان جملوں سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ رضی کے ہاں کسی وعدہ معاف گواہ کے لیے معافی مشکل ہے۔ وہ اپنے جملوں کی وجہ سے کچھ کمزور دِلوں کے ردِ عمل کا شکار بھی ہوتا رہا لیکن تخلیقیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ رضی کے ان کالموں میں آپ کو 80اور 90کی دہائی کے ملتان کی ادبی زندگی کی متحرک تصویر نظرا ٓئے گی۔یہ وہ تصویر ہے جودوسرے ادیبوں کے خاکوں یا خودنوشتوں میں مل تو سکتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ کسی خاکے اور خود نوشت کے مطالعے سے وہ لطف بھی آئے جورضی کے کالموں کے شگفتہ اسلوب، طنزیہ جملوں اور واقعات کی تخلیقی پیش کش سے آتا ہے۔ ان کالموں میں رضی کے خلاف وقتاً فوقتاً آنے والے ردِ عمل اور اُس کے حق میں عرش صدیقی اور انوار احمد ایسے بڑے اساتذہ کی تحریریں بھی موجود ہیں۔ اگر آپ کو کسی سٹیج پر اپنے شہر ِ ناپُرساں کی ابتری پر غصے، تلخی اور کرب کے ملے جُلے احساس میں ڈوبے بیٹھے ہوئے یا گفتگو کرتے ہوئے رضی سے ذرا پہلے کے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے شوخ رضی سے ملنا ہو تو ”دید شنید“ کے کالم پڑھیے ، آپ کوملتان شہر کی گلیوں میں مختلف گھروں کی گھنٹیاں بجا کر بھاگتے ہوئے ایک شرارتی لڑکے سے مل کر خوشی ہوگی۔
ڈاکٹرخاور نوازش
27اگست 2022 ء

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleآڈیو لیک ساکھ خراب کرنے کی کوشش:عابد زبیری،انتقامی کارروائی ہورہی :پرویز الہی
Next Article عازمین حجاج کی سہولت:سعودی عرب نے58ممالک کیلئے آن لائن رجسٹریشن شروع کردی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی

اپریل 24, 2026

عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

اپریل 24, 2026

بلوچستان کے ضلع چاغی میں مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، نو افراد ہلاک

اپریل 23, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی اپریل 24, 2026
  • عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 24, 2026
  • بلوچستان کے ضلع چاغی میں مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، نو افراد ہلاک اپریل 23, 2026
  • اسلام آباد کی کرفیو جیسی صورتِ حال میں ’’ خیر کی خبر ‘‘ نصرت جاوید کا کالم اپریل 23, 2026
  • ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 22, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.