تجزیےفاروق عادللکھاری

فاروق عادل کی تحقیق : شیخ مجیب کے چھ نکات اور اپوزیشن لیڈروں کا رویہ

’الشلام علیکم، ریشپیکٹیڈ لیڈرز!‘
شیخ مجیب الرحمٰن نے بھاری آواز میں مخاطب کیا تو حاضرین مجلس چوکنا ہو گئے۔ شیخ صاحب نے دائیں بائیں نگاہ گھما کر جلیل القدر سامعین کو دیکھا اور فائل کھولتے ہوئے کہا:
’میری عرض داشت کا مقصد پاکستان کے دونوں حصوں کو ایک ہی سیاسی وحدت کے طور پر برقرار رکھنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔‘
پہلے سے متوجہ کان مزید متوجہ ہو گئے۔ شیخ صاحب نے یہ کہا اور ایک مسودہ نیشنل کانفرنس کی ’مجلس موضوعات‘ (سبجیکٹ کمیٹی) کے سپرد کر دیا۔ مجلس نے دستاویز بصد شکریہ وصول کی اور مشکل میں پڑ گئی۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب معاہدہ تاشقند ہو چکا تھا اور اس معاہدے کے ردعمل میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر تشدد کے نتیجے میں کئی جانوں کا نقصان بھی۔
اب حزب اختلاف اس فکر میں تھی کہ ملک کے دونوں (مشرقی اور مغربی پاکستان) صوبوں کی اپوزیشن پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے کوئی ایسی حکمت عملی وضع کی جائے کہ معاہدہ تاشقند کے ذریعے (ان کے خیال میں) جیتی ہوئی جنگ کو مذاکرات کی میز پر ہار دینے والی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ایک غیر معمولی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک کے دونوں حصوں سے تعلق رکھنے والی حزب اختلاف کی بیشتر سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا گیا۔
یہ سبجیکٹ کمیٹی اسی کانفرنس میں ایجنڈے کے تعین کے لیے بیٹھی تھی، لیکن شیخ مجیب کی جمع کی ہوئی ایک دستاویز سے وہاں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ یہ سبجیکٹ کمیٹی معمولی لوگوں پر مشتمل نہ تھی۔ اس میں پاکستانی سیاست اور تاریخ کے چند ایسے ممتاز سیاست داں شامل تھے جن کا نام نصف صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود احترام سے لیا جاتا ہے۔
اس کمیٹی کے ارکان میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور اس زمانے کی ایک بڑی سیاسی جماعت نظام اسلام پارٹی کے سربراہ چوہدری محمد علی، مشرقی اور مغربی پاکستان کی مقبول جماعت عوامی لیگ کے سربراہ نواب زادہ نصراللہ خان، جماعت اسلامی کے امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مشرقی پاکستان کے مولوی فرید احمد، سردار شوکت حیات، مولانا عبدالستار خان نیازی، یحییٰ بختیار، خواجہ محمد رفیق (خواجہ سعد رفیق کے والد) اور جنرل اعظم خان شامل تھے۔ ملک کے ان سینیئر سیاست دانوں اور اعلیٰ ترین دماغوں نے کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کے لیے شیخ مجیب الرحمٰن کی طرف سے پیش کی جانے والی دستاویز کا مطالعہ کیا اور متفقہ فیصلہ کیا انھیں ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
سبجیکٹ کمیٹی کا کام کانفرنس کی قراردادوں اور مشترکہ اعلامیے کی تیاری تھی۔ ایک راستہ یہ ہو سکتا تھا کہ اس مسودے میں پیش کی گئی تجاویز کو ایجنڈے اور حتمی دستاویزات کا حصہ نہ بنایا جاتا، اِن پر صرف غور کر لیا جائے لیکن سبجیکٹ کمیٹی نے مسودے کو غور کے لیے بھی پیش کرنے کی اجازت نہ دی۔
شیخ مجیب نے اپنی تجاویز کے سلسلے میں ایسے بے لچک اور غیر مفاہمانہ طرز عمل کو دیکھتے ہوئے کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا اور ڈھاکہ واپس جا کر ایک بیان میں کہا: ’اپوزیشن لیڈروں کے ایک ٹولے نے میری تجاویز کو پیش ہی نہیں ہونے دیا۔‘
اس ٹولے میں دوسروں کے علاوہ (ان کی اپنی جماعت کے مرکزی رہنما) نواب زادہ نصراللہ خان بھی شامل تھے۔ شیخ مجیب نے مخالفت کرنے والے گروہ کو بھی بے نقاب کرنے کے علاوہ کئی چونکا دینے والی باتیں اور بھی کہیں۔
شیخ صاحب کا یہی بیان ہے جس سے پہلی بار معلوم ہوا کہ انھوں نے نیشنل کانفرنس کی سبجیکٹ کمیٹی میں جو دستاویز جمع کرائی تھی، وہ چھ نکات پر مشتمل تھیں اور بقول شیخ مجیب کے وہ نیشنل کانفرنس میں شرکت پر آمادہ ہی اس شرط پر ہوئے تھے کہ ان کی تجاویز پر غور کیا جائے گا لیکن ان کے ساتھ بدعہدی کی گئی۔
یہ تجاویز کیا تھیں اور حزب اختلاف کیوں ان پر غور کرنے پر آمادہ نہیں تھی، اور کانفرنس کے دوران ہی جب شیخ مجیب الرحمٰن اور مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان کے عوامی لیگ کے ساتھیوں نے کانفرنس کا بائیکاٹ کیا، تو ان تجاویز کی سن گن ہونے لگی اور بعض اخبارات نے دو روزہ کانفرنس کے اختتام کے چند روز کے بعد اس کے کچھ نکات شائع کیے جبکہ اخبار ’نوائے وقت‘ نے اپنے ایک اداریے میں اشارتاً ان کا ذکر ان الفاظ میں کیا تھا:
’ایک مکتبہ فکر کی طرف سے کچھ ایسے خیالات ظاہر کیے گئے جنھیں قومی اور ملی نکتہ نظر سے بجنسہٖ قبول کرنا ناممکن ہی نہیں بلکہ ناقابل تصور بھی ہے۔‘
اخبار نے مزید لکھا کہ ایسی تجاویز کے جو نتائج ہو سکتے ہیں، انھیں نظر انداز کر دینا کوتاہ اندیشی ہو گی۔
شیخ مجیب کی تجاویز کیا تھیں، ان کا بھرپور اندازہ ان تبصروں، حتیٰ کہ لاہور میں دیے گئے انٹرویو کے باوجود نہ ہو سکا۔ حیرت انگیز طور پر شیخ مجیب کا یہ انٹرویو بھی اُن کی تجاویز پر تنقید کرنے والے روزنامے ’نوائے وقت‘ ہی میں شائع ہوا۔ اپنے اس انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا:
’علاقائی خود مختاری کی اہمیت اور افادیت کو حالیہ (ستمبر 1965 کی) جنگ نے واضح کر دیا ہے کیوں کہ اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ کٹ گیا تھا۔ ایسی صورت حال میں یہ ممکن نہیں رہتا کہ مرکز ایک صوبے پر کنٹرول کر سکے لیکن یہ مشرقی پاکستان کے عوام کی حب الوطنی ہے کہ اس دوران میں انھوں نے ملک کی وحدت پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ ہمیں قومی اتحاد اور سالمیت کو برقرار رکھنا ہے لیکن یہ مقصد صحیح جمہوری حکومت اور علاقائی خود مختاری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘
شیخ مجیب کا کہنا تھا کہ صوبائی خود مختاری اس لیے بھی ضروری ہے تا کہ صوبوں کی اقتصادی ترقی میں یکسانیت پیدا ہو سکے۔
انھوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی آبادی پانچ کروڑ ہے، اس لیے ملک کے دفاع میں بھی اس کا حصہ آبادی کے تناسب سے ہونا چاہیے، اس طرح ملک کا اتحاد مضبوط ہو گا، کمزور نہیں۔
ان خبروں اور تبصروں کے ذریعے شیخ صاحب کی تجاویز کا کسی قدر اندازہ تو ہو گیا لیکن ان کی حقیقی تصویر پہلی بار اس وقت سامنے آئی جب ‘نوائے وقت’ نے 14 فروری 1966ء کو اپنے ایک نوٹ کے ساتھ ان کا ترجمہ ادارتی صفحے پر شائع کیا۔
شیخ مجیب کے پیش کردہ چھ نکات تھے کیا؟
شیخ صاحب نے اپنے ان نکات میں کہا تھا کہ 1965 میں انڈیا کے ساتھ سترہ روزہ جنگ کے نتیجے میں جو تجربہ حاصل ہوا ہے اس کی روشنی میں ملک کے آئینی ڈھانچے کی تشکیل پر نظر ثانی ضروری معلوم ہوتی ہے، اس لیے:
آئین میں حقیقی معنوں میں قرارداد لاہور کی بنیاد پر پاکستان کے ایک وفاق کا اہتمام ہونا چاہیے۔ نظام حکومت پارلیمانی ہونا چاہیے، براہ راست طریقہ انتخاب اور عام بالغ دہی کی اساس پر منتخب قانون ساز اداروں کو پوری فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔
وفاقی حکومت کا تعلق صرف دو امور یعنی دفاع اور امور خارجہ سے ہونا چاہیے۔ باقی سب امور وفاق کو تشکیل دینے والی ریاستوں کی تحویل میں ہونے چاہییں۔
نظام زر اور کرنسی کے بارے میں حسب ذیل دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔ اول: دو علیحدہ اور پوری آزادی سے قابل مبادلہ نظام ہائے زر رائج کیے جائیں۔ دوئم: ملک بھر کے لیے ایک ہی نظام زر رکھا جائے، اس صورت میں آئین میں مؤثر اہتمام کیا جائے تاکہ مشرقی اور مغربی پاکستان سے سرمائے کے فرار کو روکا جاسکے۔ مشرقی پاکستان کے لیے علیحدہ بینکنگ ریزرو قائم کیا جائے اور علیحدہ مالیاتی پالیسی اختیار کی جائے۔
وفاق کی تشکیل کرنے والی ریاستوں کو ہی ٹیکس وصول کرنے اور محاصل حاصل کرنے کا تمام تر اختیار ہو گا، البتہ اسے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ریاستوں کے ٹیکسوں سے اسے حصہ ملے گا اور مجموعی وفاقی فنڈ کے قیام کے لیے ریاستوں کے تمام ٹیکسوں پر طے شدہ شرح سے اضافی محصول عائد کیا جا سکے گا۔
بیرونی تجارت کے سلسلہ میں: الف۔ وفاق کی تشکیل کرنے والی ہر ریاست کے لیے خارجہ تجارت کا علیحدہ حساب رکھا جائے گا۔ ب: خارجہ تجارت سے جو زرمبادلہ حاصل ہوگا، وہ ریاستوں کی تحویل میں رہے گا۔ ج: وفاقی حکومت کی زرمبادلہ کی ضروریات دونوں ریاستوں(مشرقی اور مغربی پاکستان) کی طرف سے مساوی طور پر یا کسی متفق علیہ شرح سے پوری کی جائیں گی۔ د: دونوں ریاستوں سے مقامی اشیا کی کسی ٹیکس یا محصول کی پابندی کے بغیر نقل و حمل ہو سکے گی۔ ہ: ریاستوں (صوبوں) کو آئین کے ذریعے اس امر کا مجاز قرار دیا جائے کہ وہ دوسرے ملکوں میں اپنے تجارتی نمائندے مقرر کر سکیں جو اپنی ریاست کے مفاد میں سودے کر سکیں۔
آئین کے تحت ریاستوں کو نیم فوجی یا علاقائی فوجی دستے قائم کرنے اور انھیں برقرار رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی علاقائی سالمیت کے ساتھ آئین کا تحفظ بھی کر سکیں۔
حزب اختلاف کی نیشنل کانفرنس میں ان نکات کے پیش ہونے کے بعد بند کمروں میں جو طوفان اٹھا ہو گا، اس کے آثار اور چنگاریاں کسی قدر باہر بھی آئیں جن پر تبصرہ کرتے ہوئے ’نوائے وقت نے لکھا کہ قومی مسائل کا ایسا علاج تجویز کیا گیا ہے جس سے مرض کا تو نہیں مریض ہی کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘
کچھ اسی قسم کے تبصرے حزب اختلاف کی قیادت کی طرف سے بھی سامنے آئے۔ مشرقی پاکستان کونسل مسلم لیگ کے سربراہ ایم شفیق الاسلام نے ڈھاکہ میں کہا کہ اگر شیخ مجیب کے چھ نکات تسلیم کر لیے گئے تو اس سے ملک میں انتشار اور عدم استحکام پیدا ہو گا۔
کانفرنس کی سبجیکٹ کمیٹی کے رکن اور امیر جماعت اسلامی مولانا مودودی نے ڈھاکا میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان تجاویز پر عمل درآمد سے ملک تقسیم ہو جائے گا۔ ہم ایسی صوبائی خود مختاری کے حامی ہیں جس سے ملک کی سالمیت پر کوئی آنچ نہ آئے۔
ایوب خان نے جو حزب اختلاف کی قومی کانفرنس کا اصل ہدف تھے، کانفرنس کے بارے میں کہا کہ وہ کوئی متبادل پروگرام پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ چھ نکات کا ذکر کیے بغیر انھوں نے انھیں ملک میں انتشار پیدا کرنے کا ذریعہ اور قومی یک جہتی کے خلاف سازش قرار دیا۔
حزب اختلاف کی قومی کانفرنس نے شیخ مجیب کی ان تجاویز کو نظر انداز کیوں کر دیا تھا، اس کا سبب ایوب خان کے اس بیان میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ممتاز صحافی اور روزنامہ ‘پاکستان’ کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ اپوزیشن راہ نما خطرہ محسوس کرتے تھے کہ اگر ان کے پلیٹ فارم سے یہ تجاویز سامنے آ گئیں تو اس کے نتیجے میں ایوب خان انھیں علیحدگی پسند اور علیحدگی پسندوں کا ساتھی قرار دے کر پوری حزب اختلاف پر چڑھ دوڑیں گے، اس طرح ایوب آمریت کے خلاف ان کی تحریک ایک متنازع معاملے کی وجہ سے دم توڑ جائے گی۔
شیخ مجیب کے چھ نکات کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا
ایوب خان حکومت نے کانفرنس میں کی جانے والے تقریروں کی اخبارات میں اشاعت پر ڈیفنس رولز آف پاکستان کے آمرانہ قانون کے تحت پابندی عائد کر دی تھی لیکن کئی روز گزرنے کے بعد بعض اخبارات نے ان تقریروں کے اہم نکات اپنے خبری صفحات پر شائع کر دیے۔
ان تقریروں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کانفرنس کے دوران شیخ مجیب الرحمٰن کی تجاویز حزب اختلاف کی قیادت کے اعصاب پر سوار رہیں۔
سابق وزیر اعظم چوہدری محمد علی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ مشرقی پاکستان کو دفاع میں خود کفیل بنانا ضروری ہے۔
عبدالباقی بلوچ نے مشرقی پاکستان میں اسلحہ کے کارخانے قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے فوج میں بھرتی کے معیار پر تنقید کی کہ چھوٹا قد بھرتی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
جماعت اسلامی مشرقی پاکستان کے امیر ابوالکلام محمد یوسف نے مطالبہ کیا کہ مشرقی پاکستان میں فوجی اکیڈمی قائم کی جائے اور دینی مدارس کے طلبہ کو بھی فوجی تربیت دی جائے۔
شیخ مجیب کے چھ نکات کا جادو اتنا سر پر چڑھ کر بول رہا تھا کہ کانفرنس کے دوران ہی فیصلہ کیا گیا کہ کانفرنس کے فوراً بعد حزب اختلاف کے قائدین عوام کو چھ نکات کے نقصانات سے آگاہ کرنے کے لیے مشرقی پاکستان جائیں گے۔
اس مقصد کے لیے ایک چھ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی جس میں چوہدری محمد علی، مولانا مودودی، نواب زادہ نصراللہ خان، سید محمد افضل (کونسل مسلم لیگ) اور ایم انور ایڈوکیٹ شامل تھے۔
کانفرنس کے چند ہی روز کے بعد مولانا مودودی مشرقی پاکستان کے 12 روزہ دورے پر روانہ ہو گئے جبکہ نواب زادہ نصراللہ خان اور دیگر قائدین روانہ ہونے ہی والے تھے کہ انھیں گرفتار کر لیا گیا۔
چھ نکات کے خلاف عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مشرقی پاکستان جانے والی قیادت کی گرفتاری حیران کن تھی۔
مولانا مودودی اور چوہدری محمد علی گرفتاریوں سے پہلے ہی مشرقی پاکستان روانہ ہو چکے تھے، اس لیے وہ گرفتاری سے تو بچ گئے لیکن ان کی آمد پر مشرقی پاکستان کے گورنر نے بیان دیا کہ عوام مغربی پاکستان سے آنے والے شرپسندوں سے ہوشیار رہیں۔
الطاف حسن قریشی نے ‘اردو ڈائجسٹ’ میں ’چھ نکات کی سچی تصویر‘ کے عنوان سے ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ جن شخصیتوں کو شیخ صاحب گھائل کرنا چاہتے تھے، ان ہی پر حکومت کی طرف سے تیر چلا اور اگر حکومت کی طرف سے بیان بازی شروع نہ ہو جاتی تو چوہدری محمد علی اور مولانا مودودی کم از کم چھ نکات کی حد تک شیخ مجیب الرحمٰن کے سامنے ایک بند ثابت ہوتے۔
اس زمانے کے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدا میں چھ نکات کو مشرقی پاکستان میں بھی زیادہ پذیرائی نہ مل سکی کیوںکہ مشرقی پاکستان کی قیادت کی طرف سے بھی انھیں مسترد کیا گیا تھا۔
لیکن عین اسی زمانے میں جب مغربی پاکستان میں حزب اختلاف کی قیادت کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی، مشرقی پاکستان عوامی لیگ کی مجلس عاملہ نے ان نکات کی حمایت کر دی اور اس کے بعد منظر بدلتا چلا گیا اور عوامی لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔
مشرقی پاکستان عوامی لیگ چھ نکاتی گروپ کہلایا جب کہ نواب زادہ نصراللہ خان کا گروپ آٹھ نکاتی کہلایا اور اس تقسیم نے حزب اختلاف کی قوت کو بے پناہ ضعف پہنچایا۔
اس سے قبل لاہور کانفرنس میں چھ نکات پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر مشرقی پاکستان کے اخبارات تند و تیز خبریں شائع کر کے ایک خاص ماحول بنا چکے تھے، ان خبروں کا جائزہ چھ نکات کے موضوع اور اس پر مشرقی پاکستان کے ردعمل کو سمجھنے میں بڑٰی مدد دیتا ہے ۔
روزنامہ ’اتفاق‘ کی سرخی تھی:
‘مشرقی پاکستان کے پانچ کروڑ عوام کے خلاف سازش’
‘ ڈینک پاکستان ‘ کی سرخی تھی:
‘لاہور کے حزب اختلاف ٹولے نے ہمارے ساتھ غداری کی: شیخ مجیب‘
مشرقی پاکستان کے دیگر بڑے اخبارات کا رویہ بھی اسی قسم کا تھا۔
چھ نکات کس کی تصنیف تھے؟
چھ نکات کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنے والے سیاسی قائدین کے خلاف ریاستی کارروائیوں سے عمومی توجہ حکومت کی طرف ہی گئی۔
چوہدری محمد علی کی نظام اسلام پارٹی کے مرکزی رہنما رانا نذر الرحمٰن نے اپنی سرگزشت ’صبح کرنا شام کا‘ میں بھی کچھ ایسے انکشافات کیے ہیں جن سے ان شبہات کو تقویت ملتی ہے۔
رانا نذر الرحمٰن نے لکھا ہے کہ وہ حزب اختلاف کی نیشنل کانفرنس میں شریک تھے اور شیخ مجیب کی آمد اور واپسی کے دونوں مناظر انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ان کے دعوے کے مطابق شیخ صاحب مسلم کمرشمل بینک کی گاڑی میں آئے تھے اور ان کی واپسی محمکہ اطلاعات حکومت پاکستان کی گاڑی میں ہوئی تھی۔
ان کے مطابق کہا جاتا تھا کہ یہ چھ نکات ایوب خان کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر کے ذہن کی پیدا وار تھے تاکہ حزب اختلاف کی صفوں میں شگاف ڈالا جا سکے۔
شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر طاہر مسعود نے مجھے بتایا کہ جن دنوں وہ کورٹ رپورٹنگ کرتے تھے، ان ہی دنوں عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سنایا تھا۔ ان کے مطابق ایک صحافی نے الطاف گوہر کے بارے میں یہی بات لکھ دی جس پر انھوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
صحافی اپنا الزام ثابت نہ کرسکے، لہٰذا عدالت نے فیصلہ ان کے خلاف دے دیا، صحافی پر 80 ہزار روپے جرمانہ بھی ہوا۔
مجیب الرحمٰن شامی بھی الطاف گوہر والی کہانی کو مسترد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن کو الطاف گوہر یا مغربی پاکستان کے کسی دانشور کی ضرورت ہی نہ تھی کیوں کہ مشرقی پاکستان میں ایسی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کی کمی نہ تھی۔
چھ نکات کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ معروف بنگالی بیوروکریٹ رحمٰن سبحان یا بنگالی اکانومسٹ نذرالاسلام کی تصنیف ہو سکتے ہیں۔
چھ نکات کیا زہر قاتل تھے اور اسی طرح پھینک دینے کے قابل تھے جیسے حزب اختلاف نے انھیں پھینکا؟
مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ اس وقت کی صورت حال کے مطابق عمومی خیال یہی تھا کہ ان تجاویز کے پیچھے انڈیا کا ذہن کام کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا خیال تھا جس کی وجہ سے توجہ کسی اور طرف جا ہی نہ سکی۔
چھ نکات پر عالمی ردعمل سے حزب اختلاف مزید محتاط ہوا
حزب اختلاف کی یہ پریشانی قابل فہم لگتی ہے کیوں کہ ان نکات کے بارے میں عالمی پریس، خاص طور پر انڈین اخبارات کے رویے نے انھیں محتاط کر دیا ہو گا۔
کلکتہ کے ’سٹیٹس مین‘ نے ان دنوں لکھا کہ حکومت پاکستان مشرقی پاکستان میں خود مختاری کی ابھرتی ہوئی تحریک کو کبھی دبا نہ سکے گی۔ کلکتہ ہی کے ایک اور اخبار ‘کمپاس’ نے شیخ مجیب الرحمٰن کے بارے میں لکھا:
‘مشرقی پاکستان کا محبوب ترین جواں سال قائد’
چھ نکات کے بارے میں لندن ٹائمز کی سرخی تھی:
‘ مشرقی پاکستان میں طوفان کا سگنل’
دنیا کے بڑے اخبارات و جرائد جن میں اکانومسٹ، نیویارک ٹائمز، لی مونڈ اور ہیرالڈ ٹریبیون شامل ہیں، چھ نکات کی تجاویز پر اداریے تحریر کیے، ظاہر ہے کہ چھ نکات کی ایسی غیر معمولی کوریج کسی کو بھی الجھن میں مبتلا کر سکتی تھی۔
شامی صاحب کا خیال ہے کہ اگر لاہور کانفرنس میں ان نکات پر غور کر لیا جاتا تو یہ حکمت عملی بارگیننگ چپ بن جاتی جس کی مدد سے شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ معاملات طے کرنے نسبتاً آسان ہو جاتے لیکن اس معاندانہ رویے کے بعد جب انھوں نے 1970 کے انتخابات ہی چھ نکات کے نعرے پر لڑے تو انھیں اس پر عوام کا بھرپور مینڈیٹ مل گیا، یوں معاملات ہاتھ سے نکل گئے۔
انتخابات کے بعد بھٹو صاحب نے حکومت سازی کے لیے شیخ صاحب سے مذاکرات ضرور کیے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker