پاکستان مذہبی اقلیتوں کے مسائل اپنی جگہ, مگر پچھلی دو دہائیوں سے ان کی ” نسل کشی “ یعنی جبراً تبدیلی ِمذہب و شادی کے واقعات دن بدن تشویشناک صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں ، صوبہ سندھ کے بعد صوبہ پنجاب دوسرے نمبر پر ہے ،جہاں مسیحیوں کی کثیر تعدار رہتی ہے۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور، اسلام آباد،فیصل آباد،لاہور، ، شیخوپورہ ،گوجرنوالہ ،وزیر آباد، اور سیالکوٹ میں کیسز میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کام کا ٹھیکہ صوبہ سندھ میں پیر میاں مٹھو کے پاس ہے جب کہ پنجاب میں کئی میاں مٹھو پیدا ہو چکے ہیں جن کے خلاف پولیس کوئی ایکشن نہیں لے رہی یا لینے میں بے بس ہے۔ بہاولپور کے بعد فیصل آباد اور اب سیالکوٹ میں جبری تبدیلی مذہب و نکاح کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے ۔جس کا تدارک بالکل نہیں کیا جارہا۔
11 اپریل کوجنیوا ( اقوام متحدہ )نے پاکستان میں اقلیتی لڑکیوں کو جبری تبدیلی مذہب اور جبری شادیوں کی تشویشناک صورت حال اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم نہ کرنے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی اور ماہرین نے کہا ہے کہ مسیحی اور ہندو لڑکیاں خاص طور پر جبری مذہب کی تبدیلی، اغوا، اسمگلنگ، بچوں، کم عمری اور جبری شادی، گھریلو غلامی اور جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ "مذہبی اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین اور لڑکیوں کو انسانی حقوق کی ایسی گھناؤنی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہےاور ایسے جرائم سے استثنیٰ کو مزید برداشت یا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔” مزید اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کی لڑکیوں کی جبری شادیوں اور مذہب کی تبدیلی کو عدالتوں سے توثیق کیا جاتا ہے، اکثر مذہبی قانون کا استعمال کرتے ہوئے متاثرین کو ان کے والدین کے پاس واپس کرنے کی اجازت دینے کی بجائے ان کے اغوا کاروں کے ساتھ رکھنے کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔
"مجرم اکثر احتساب سے بچ جاتے ہیں، پولیس ‘محبت کی شادیوں’ کی آڑ میں جرائم کو مسترد کرتی ہے،اور ذمہ دار شخص نہ صرف بچ جاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اس فعل کی ترغیب ملتی ہے۔یہاں تک کہ اغوا شدہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کرنے کے بعد جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے کوئی ایک مسلم مرد اس لڑکی کو سلام قبول کروا کر اس سے شادی کرلیتا ہے ۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بعد میں ایسی لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے ۔اسے جسم فروشی پر مجبور کردیا جاتا ہے۔
ایسے جرائم کو روکنے اور ذمہ دار اشخاص کے خلاف سخت کاروائی کرنے کے لئے 2016 ،2017 ،اور 2019 میں صوبہ سندھ اور وفاقی سطح پرحکومت بل سامنے لائی ۔مگر ان اقدام کے باوجود صوبہ سندہ کے شمالی علاقوں آٹھ اضلاع بشمول سکھر، خیرپور میرس، گھوٹکی، شکارپور، کشمور ایٹ کندھ کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ اور قمبر شہداد کوٹ میں ہندو کم سن لڑکیوں کا اغواہ اور جبراً تبدیلی مذہب و نکاح کی شرح میں اضافہ تشویشناک صورت حال اختیار کر چکا ہے ۔ ہندووں کے ساتھ مسیحی صوبہ سندھ کے شہر سکھر ،حیدر آباد اور کراچی میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسیحیوں کی کثیر تعداد صوبہ پنجاب میں رہتی ہے ۔جبراً تبدیلی مذہب و نکاح سے ہندو اور مسیحی یکساں احساس عدم تحفظ میں مبتلا ہیں۔پہلے کم سن لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے نکاح کرنے کے بعد لڑکی سے یہ بیان دلوایا جاتا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور مسلم ہو کر شادی کر لی ہے۔اس واقعہ کے خلاف عدالتوں کے باہر اقلیتی احتجاج کے باوجود انصاف نہیں ملتا اور یہ فیصلہ دے دیا جاتا ہے کہ لڑکی بالغ ہے اور اپنی مرضی کی مالک ہے ۔جس کے لئے ڈی این اے ٹسٹ اور سکول کے سرٹیفیکٹ سے بھی ثابت کر دیا جاتا ہےکہ لڑکی بالغ ہے۔اور یہ بھی کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور اب وہ فلاں مسلم لڑکے کی شرعی بیوی ہے۔لڑکی کے والدین اور پوری کمیونٹی ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ وہ ماں جس نے اس لڑکی کو 9 ماہ اپنی کوکھ میں رکھا تکلیف کے ساتھ اسے پیدا کیا اور اسکی 13 اور 14 سال تک کٹھن مشکلات سے پرورش کی ۔ وہ لڑکی پل بھر میں ان سے چھین لی جاتی ہے۔یہ کرب وہی ماں اور خاندان بہتر جانتا ہے اور بیان کر سکتا ہے جس کے ساتھ یہ حادثہ پیش آتا ہے۔ بہت سارے ہندو اسی وجہ سے پاکستان کو خیر آباد کہہ چکے ہیں یا شمالی سندھ سے ہندووں کی بڑی آبادی حالیہ سالوں میں کراچی منتقل ہوئی ہے۔مگر ہجر ت کے باوجود اور قانون بنا دینے کے باوجود ان نسل کشی کے واقعات میں کمی واقع نہیں ہوئی ۔
آج تقربیاً تمام اسلامک ممالک میں بھی میڈیکل اور اور پوری طرح گھر کے نظم وضبط کو نہ سمجھنے اور چلانے جیسے مسائل کے پیش نظر لڑکی کی شادی کی عمر 18 مقرر کر دی گئی ہے۔ پاکستان میں دوھرا عدالتی نظام رائج ہے۔ ایک طرح شرعی کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل ہے ۔جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل ملکی آئین کو دیکھتی ہے کہ وہ غیر اسلامی تو نہیں اور وہ اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرتی ہے۔ تو دوسری طر ف پاکستان کا آئین ہے اور قانون پر عمل درآمد اور انصاف کے لئے عدالتیں ہیں۔ ملک کے قانون میں لڑکی کی شادی کی عمر 18 سال مقرر ہے تو شرعی عدالت 12 سال عمر کی لڑکی کو شادی کی اجازت دیتی ہے۔ جس سے ملک کا قانونی نظام متاثر ہوتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب اقلیت سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی بات ہوتی ہے تویہ شرعی عداتیں ،ملکی عدالتوں کے فیصلے پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔اس سے بچنے کے لئے لڑکیوں کو مذہب تبدیل کروا کر یعنی اسلام قبول کرواکر ریاستی قانون کو الجھا دیا جاتا ہے اور یوں عدالتیں اپنا فیصلہ مجرم کے حق میں دے دیتی ہیں۔جس سے انصاف متاثر بھی ہوتا ہے اور غریب اقلیتوں کو انصاف نہیں مل پاتا۔ جس سے مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس شدت سے پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کو سمجھنے اور اقلیتوں کو احساس عدم تحفظ سے باہر نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ جبراً تبدیلی مذہب اور جبراً نکاح کو روکا جائے اور اس پر عمل درآمد نہ کرنے والے کےخلاف سخت سزا مقرر کی جائے اور اس پر سختی سے عمل کروایا جائے۔انصاف فراہم کرنے والے ادارے اور عدلیہ اس پر غیر جانب دار ہو کر فیصلہ دے۔ کیونکہ ایسا نہ ہو کہ ایک دن قوام عالم اور پورپین یونین جہاں دائیں بازو کی جماعتیں زور پکڑ چکی ہیں، کو پاکستان کے خلاف سخت اقدامات کرنے پڑجائیں اور پاکستان جو پہلے ہی معاشی طور پر سخت مشکلات کا شکار ہے ،مزید اس کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے۔
فیس بک کمینٹ

