تجزیےکھیل

زلمی اور سلطانز میں اصل مقابلہ تو ہار گلے لگانے کا تھا : عمران عثمانی کا تجزیہ

کسی بھی ایونٹ کا آخری مرحلہ ہو۔ ایک ٹیم ناک آؤ ٹ کیلئے کوالیفائی کرچکی ہو اور دوسری ٹیم کیلئے سیمی فائنل مرحلے سے قبل ہی ڈو آر ڈائی کا کیس ہو تو وہ میچ کیسا ہوگا؟
یقینی طور پر ایسا کہ کوالیفائڈ ٹیم اعتماد سے مالا مال نظر آئےگی اور” مرو یا مارو”والی ٹیم جنگجو کا روپ دھارے ہوگی تو ہمیں پاکستان سپر لیگ کے 27 ویں میچ ملتان سلطانز بنام پشاور زلمی کے معرکے میں ایسا ہی نظر آنا چاہئے تھا لیکن نہیں سلطانز (کوالیفائڈ)تھکے تھکے اور بے پروا نظر آئے جبکہ مرو یا مارنے(پشاور)والے سہمے سہمے اور جیت سے جان چھڑواتے دکھائی دیئے۔
اسکے لئے آسان سا تبصرہ کچھ یوں بنے گا ،
”سلطانز اور زلمی میں ہار گلے لگانے کا مقابلہ “
یہ کوئی ہوائی بات یا کسی طور غیر ذمہ دارانہ تبصرہ نہیں۔ اس کا ثبوت میچ کے دوران دکھائی دینے والے محیر العقول مناظر اور موقع پر کئے جانے والے سر پیٹنے والے فیصلے ہیں۔
جمعہ کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے ویران میدان میں زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا.
ملتان سلطانز جو ایک موقع پر 11 اوور ز میں صرف ایک وکٹ پر 90 سے زائد اسکور کرچکی تھی کے متعلق خیال تھا کہ سیٹ بلے بازذیشان اشرف اور شان مسعود کی مدد سے 9 وکٹ پاکٹ میں رکھتے ہوئے کم سے کم مزید 90 اسکور تو کرے گی ۔ اس موقع پر کمنٹیٹرز بھی بیٹسمینوں کی طرف سے ہاتھ کھولنے کی جائز توقع کر رہے تھے لیکن 52 کی اننگ کھیلنے والے ذیشان اشرف کے آؤ ٹ ہوتے ہی اسکور ایک وکٹ 92 سے 5 وکٹ 105 میں تبدیل ہوگیا اور اگلے اوور زمیں بیٹسمین رنز کے لئے بےقرار دکھائی ہی نہ دیئے معاملہ 19 اوور زمیں 6 وکٹ پر 135 تک ہی پہنچ سکا. سلطانز کیلئے پھر سلطانز مدد کیلئے نہیں اترے .پہلی بڑی اور بنیادی کمک زلمی نے سینئر باؤ لر حسن علی کے ذریعے فراہم کی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے گیند باز نے خوشدل شاہ کو سیدھے بیٹ پر 2 فل ٹاس گیندیں ڈالیں جو ظاہر ہے کہ چھکے میں بدلنی تھیں. حسن علی نے 20 ویں اوور میں 19 رنز دیکر اسکور 154 تک پہنچادیا. گویا سلطانز کو خود 180 تک ہونا چاہیئے تھا وہ وہاں تک نہ گئے اور زلمی کے پاس موقع تھا اسے145 تک روکنے کا لیکن انہوں نے 150 سے اوپر پہنچادیا.
یہ ہدف قطعی طور پر نہ کسی دباؤ سے بھرا تھا اور نہ ہی مشکل مگر…
پشاور نے پہلا اوور ایسے 2 رنز کے ساتھ گزارا کہ جیسے ہدف 100 کا ہو.مزے داری کی بات اگلی یہ ہوئی کہ دوسرے اوور میں بھی 2 ہی رنز لئے گئے اور کامران اکمل نے عرفان کی لو شاٹ پچ گیند کو ایسے کھیلا جیسے پرتھ یا کیپ ٹاؤ ن کی اچھال والی پچ ہو. ایک سیدھی گیند کو آنکھیں بند اور سر اوپر کرکے وہ جس انداز سے کھیلے اس کے بعد گیند نے بیٹ اور باڈی کے درمیان سے سیدھا وکٹوں میں لگنا تھا. معاملہ یہاں تک کچھ زیادہ عجب نہ تھا لیکن یہ کیا؟
پویلین سے اگلی آمد حیران کن طور پر کپتان وہاب ریاض کی ہوئی اور ایسی ہوئی کہ عقل دنگ رہ گئی . وہاب ریاض بنیادی طور پر گیند باز ہیں لیکن ہٹر بھی اچھے ہیں. ایسی ”آمد“ بڑے ہدف کی وجہ سے ہواکرتی ہے. یہاں تو ہدف بھی چھوٹا اوپر سے 2 اوور ز بھی ایسے کھیلے گئے کہ جیسے مسئلہ ہی کوئی نہیں تو پھر وہاب ریاض کی ”بر آمدگی “ کس خانے میں فٹ کی جائے. پاور پلے کے بہترین انفارم بیٹسمین حیدر علی کو پھر پیچھے دھکیلنے کا آخر کیا مقصد تھا؟ اس کا آگے جاکر پتہ چلا جب تیسرے اوور کے اختتام تک وہاب ریاض بھی پویلین لوٹ چکے تھے اور ا سکور تھا 14 ،آوٹ تھے 2،مطلب دبائو کے شکار. اگلا بیٹسمین عمر امین تھا. پاور پلے ختم ہوا. اپنی فارم کی بحالی سے لڑنے والے امام الحق نے کیا تیزی دکھانی تھی چنانچہ 6 اوور میں 2 وکٹ پر 32 رنز کسی طرح بھی پیش قدمی کرنے والے نہیں تھے .خیر عمر امین 23 گیندوں پر جب 29 کرکے گئے تو اسکور 9اوورز میں 3 وکٹ پر 56 تھا. تجربہ کار شعیب ملک نے امام کے ساتھ کبھی سلو اور کبھی تیز بیٹنگ کرکے معاملہ 16 اوور ز میں 121 تک پہنچادیا. 24 بالوں پر 34 رنز سیٹ بلے بازوں کے ساتھ کوئی مشکل نہ تھے. اس دوران سلطانز کے فیلڈرز نے کیچز بھی ڈراپ کئے اور ناقص فیلڈنگ بھی کی.سہیل تنویر کے اوور میں 41 بالز کھیل کر56رنز بنانے والے امام الحق نے شاٹ بال پر مڈ آف پر شان مسعود کو کیچ کھڑا کرکے دیدیا .پھر بھی آخری 18 گیندوں پر 27 رنز شعیب ملک کی موجودگی میں زیادہ نہ تھے مگر یہ کیا علی شفیق جی ہاں علی شفیق کو جب حیدر علی اور شعیب ملک نے پورا اوور کھیل کر صرف 2 رنز کے اندر اپنی وکٹیں تھمادیں تو اس وقت سلطانز کو لگا کہ معا ملہ تو نہایت ہی “سنجیدہ” ہے ورنہ اتنے کم اسکور میں کبھی 18واں اور 20واں اوور کروانے کے لئےاتنے کم تجربہ کار باؤ لر پر اعتماد کیا جاتا. 25 گیندیں ضائع کرکے صرف 30 اسکور بنانے والے شعیب ملک اپنی اننگ کا چھپا راز تو بتاگئے تھے چنانچہ 20واں اور آخری فیصلہ کناوور بھی علی شفیق کو دیا گیا .15 رنز درکار تھے.حسن علی جیسے لمبے اسٹروک کھیلنے والے بھی جب الٹے سیدھے بیٹ گھماتے دکھائی دیئے تو علی شفیق نے مسلسل 2 ہائی فل ٹاس گیندیں پھینک کر وہ کچھ کیا کہ فتح 2 گیندیں قبل ممکن تھی لیکن سامنے وہی حسن علی تھے جنہوں نے پہلی اننگ کے آخری اوور میں سلطانز پر رنز نچھاور کیئے تھے اور اس بار وہ خود ہاتھ باندھے مودب تھے،حتی کہ انھوں نے آخری قریب ہاف والی بال کو جس طرح وکٹ کے پیچھے کھیلنے کی بھونڈی کوشش کی وہ ناقابل یقین شاٹ تھی اور ہار کو گلے لگانے کی آخری مگر کامیاب کوشش تھی ورنہ سیدھے بیٹ سے کھیلی گئی یہ ہٹ ایسی فٹ بیٹھتی کہ مخالف ٹیم ہار کو گلے لگالیتی.
دونوں ٹیموں کے اس مقابلے سے یہ عیاں ہوا کہ مقابلہ گلے کے “ہار “کا تھا.
زلمی کے پاس جواز تو ہے کہ تمام غیر ملکی پلیئر ز چلے گئے. تمام 11 کھلاڑی مقامی تھے جبکہ ملتان ٹیم میں عمران طاہر اور معین علی جیسے غیر ملکی موجود تھے لیکن شکست کے ساتھ اپنی مہم کا اختتام 9 پوائنٹس کے ساتھ ختم کرنے والی پشاور زلمی کو ایسے کھیل کر بھی سیمی فائنل میں جانے کا یقین ہوگا.
اور یقین کیسے نہ ہو ایک نہیں بلکہ 2 چانسز موجود ہیں.
ہفتہ کو کراچی اسلام آباد کو ہرادے تو سیمی فائنل پکا
یا پھر یہ نہ ہوا تو اتوار کو
ملتا ن لاہور کو ہرادے تو بھی سیمی فائنل پکا .
زلمی کیلئے یہ ہار گلے کا طوق یوں بن سکتی ہے کہ یونائیٹڈ کنگز کو بھاری ترین مارجن سے ہرادیں اوو ر قلندرز سلطانز کیخلاف شکنجہ کس دیں.دونوں کے اس طرح کرنے کا یقین زلمی کو کم سے کم نہیں ہے اگر ہوتا تو آخری میچ کم سے کم اس انداز میں گلے کا “ہار “نہ بنتا.

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker