تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : عمران خان کا سیاسی چھکا اور پی ٹی آئی کے بکاؤ ارکان

اسلام آباد سے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے مقابلے میں پاکستان جمہوری تحریک ( پی ڈی ایم ) کے امید وار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ جمہوری روایات کے عین مطابق ہے اور جرات مندانہ اعلان ہے۔ تاہم یہ کہنے میں بھی مضائقہ نہیں ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف خود یہ صورت حال پیدا کرنے کا سبب بنے ہیں۔
یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی صورت میں یہ توقع تھی کہ اپوزیشن اتحاد قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوشش کرے گا۔ اس کا اعلان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری کرتے رہے ہیں ۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ موجودہ حکومت کو ہٹانے کا یہی پر امن اور آئینی طریقہ ہوگا۔ اسی لئے یوسف رضا گیلانی کی حیرت انگیز کامیابی کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تاہم اس کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دیگر وزرا اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ وزیر اعظم نے نئی سیاسی صورت حال میں قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کی حکمت عملی کو ناکام بنانے کے لئے فوری طور سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان دو لحاظ سے اہم ہے۔ ایک تو عمران خان تحریک عدام اعتماد کی شرمندگی کا سامنا کرنے سے بچ گئے۔ دوسرے اپوزیشن کی توقع کے برعکس فوری طور سے اعتماد کا ووٹ لینے کے اعلان سے حکومت اپنی سیاسی پو زیشن مستحکم کرسکے گی۔ کسی سیاسی ہزیمت کے بعد اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان معمول کی جمہوری کارروائی ہے جس کا مظاہرہ ایسے تمام ممالک میں وقتاً فوقتاً دیکھنے میں آتا رہتا ہے جہاں پارلیمانی جمہوری نظام کام کررہا ہے۔ تاہم شاہ محمود قریشی نے جس انداز میں اپنی پریس کانفرنس میں اس اعلان کو ’حق و باطل‘ کی جنگ قرار دیا ہے، وہ نہایت افسوسناک طرز عمل ہے۔ جمہوری سیاسی جد و جہد میں متحارب سیاسی دھڑے اپنا سیاسی نقطہ نظر سامنے لانے کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتے رہتے ہیں لیکن ایک دوسرے کا احترام قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکمران اور اپوزیشن جماعتیں بہر حال عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ہی اسمبلیوں میں نمائیندگی کے لئے جاتی ہیں۔ اس لئے جس طرح اپوزیشن کسی اکثریتی پارٹی کے حق حکمرانی سے انکار نہیں کرسکتی ، اسی طرح کسی حکومت کو بھی یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپوزیشن کو ’باطل قوتیں، مفاد پرستوں کا ٹولہ اور شکست خوردہ عناصر‘ قرار دے کر ان کی سیاسی قدر و قیمت کو قبول کرنے سے انکار کرے۔ اس رویہ سے جمہوریت کی بنیاد پر کھڑا کیا جانے والا نظام کمزور پڑتا ہے۔
موجودہ سیاسی منظر نامہ میں اگر گزشتہ چند ہفتوں کی سرگرمیوں ، بیانات، تبصروں اور قائم کی جانے والی رائے کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے تو یہی سمجھ آئے گا کہ سیاسی قوتیں عوامی ووٹوں کی بجائے اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی یا منظوری و نامنظوری کے سبب اقتدار تک پہنچ سکتی ہیں۔ یوسف رضاگیلانی کی امیدواری اور سینیٹ انتخاب کے حوالے سے وزیر اعظم اور کے ساتھیوں کی بدحواسی سے بھی یہی اندازے قائم کئے جارہے تھے کہ اسٹبلشمنٹ نے عمران خان کی سرپرستی ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس رائے کے مطابق یوسف رضا گیلانی کی کامیابی یا ناکامی کو اس کا پیمانہ بنایا گیا تھا۔ گویا اس پیمانے کے مطابق اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ چونکہ تحریک انصاف کا امید وار ہار گیا ہے لہذا یہ یقین کیا جاسکتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ اب حکومت کی پشت پر نہیں ہے۔ یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے جس میں عوام کے ووٹ کی طاقت کو خود وہی عوامل کمتر قرار دینے کا سبب بنتے ہیں جو ملک میں جمہوریت کے سب سے بڑے مبلغ ہیں۔
یوں تو ماضی میں سیاسی جوڑ توڑ میں عسکری اداروں کی مسلسل مداخلت اور بار بار جمہوری نظام معطل کرکے فوجی حکومتوں کے قیام نے اس رائے کو بتدریج پاکستانی عوام کے شعور کا حصہ بنایا ہے۔ 2018 کے انتخاب سے پہلے سیاسی جوڑ توڑ سے لے کر حکومت سازی کے لئے پیدا کئے گئے ماحول و نتائج سے بھی اس تاثر کو تقویت ملی۔ عمران خان کو اسی بنا پر نامزد وزیر اعظم کہا جاتا رہا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کو فیصلہ کن فورم سمجھنے اور وہاں سے سیاسی قوت حاصل کرنے کی بجائے، ایک پیج کی سیاست کو اپنی اصل قوت قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ عمران خان کہتے رہے ہیں کہ فوجی اداروں کو اپوزیشن لیڈروں کی بدعنوانی کا پتہ ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ عمران خان کے ہاتھ صاف ہیں، اسی لئے وہ میرے ساتھ ہیں۔ اس قسم کے بیانات سے عمران خان بظاہر اپوزیشن کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن انہوں نے عوام کے سیاسی شعور میں یہ بات راسخ کرنے کی غیر ارادی کوشش کی ہے کہ یہ طے کرنے کا ’حق‘ ان چند غیر منتخب اداروں کو حاصل ہے جو سیاست دانوں کی نیک نیتی کا فیصلہ کرنے کے ’قابل‘ ہیں۔ یہ طرز عمل دراصل ملک کی کمزور جمہوری روایت پر سنگین حملہ ہے۔
اسلام آباد کی ایک نشست کو زندگی و موت کا سوال بنا کر عمران خان نے خود ہی ایسے حالات پیدا کئے کہ وہاں سے حفیظ شیخ کی ناکامی دراصل عمران خان کے خلاف عدم اعتماد بن گئی ہے۔ تاہم اس حقیقت کو تسلیم کرکے انہوں نے ایک شاطرانہ سیاسی قدم اٹھایا ہے۔ اعتماد کا ووٹ لینا ، اس لحاظ سے جرات مندانہ فیصلہ ہے کہ اس میں کامیابی و ناکامی کے امکانات بہر حال موجود ہیں۔ گو کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عمران خان نے جس طرح قومی اسمبلی کے ارکان کو ’شرف باریابی‘ بخشا اور ان کے متعدد مطالبات پورے کرنے کے لئے اقدامات کئے ، ان کی روشنی میں انہیں یہ یقین ہوگا کہ جب ہاتھ کھڑا کرکے اعتماد کا ووٹ لیا جائے گا تو ایسے سارے ارکان وزیر اعظم پر اعتماد کا اظہار کرنے پر مجبور ہوں گے جنہوں درپردہ شاید سرکاری امیدوار کی حمایت نہیں کی ۔ یہ اندازہ کافی حد تک درست ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی لئے عمران خان فوری طور سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اہتمام کررہے ہیں۔ انہیں یہ امید بھی ہوگی کہ یہ ووٹ ملنے کے بعد اپوزیشن کی جمہوریت بحالی تحریک ناکام ہوجائے گی۔ جو اس وقت عمران خان اور حکومت کے لئے سب سے بڑا سیاسی خطرہ بنی ہوئی ہے۔
عمران خان اور حکمران پارٹی یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو ’ووٹوں کی خریداری‘ کا نتیجہ قرار دینے کی سرتوڑ کوشش کررہی ہے۔ اسی تناظر میں شاہ محمود قریشی نے اسے ’حق و باطل‘ کی جنگ بھی کہا ہے۔ لیکن اسلام آباد سے ہی تحریک انصاف کی امید وار فوزیہ ارشد کی کامیابی کے علاوہ تمام صوبوں سے سامنے آنے والے نتائج سے یہی واضح ہوتا ہے کہ ووٹوں کی خرید و فروخت کے دعوے بڑھا چڑھا کر پیش کئے گئے تھے۔ اس مہم جوئی کا اصل مقصد سیاسی لیڈروں کو بدعنوان قرار دینے کے سلوگن کو مستحکم کرنا تھا تاکہ عوام تحریک انصاف کی ناکامیوں پر توجہ نہ دیں اور بدعنوانی کے نعرے پر ایمان لاتے ہوئے عمران خان کی دیانت کا دم بھرتے رہیں۔ حالانکہ اگر ووٹوں کی خریداری سے سینیٹ کی سیٹیں جیتی یا ہاری جاسکتی ہیں تو بلوچستان ، خیبر پختون خوا اور سندھ میں پارٹی پوزیشن کے مطابق نتائج سامنے نہ آتے۔ عمران خان کو یہ سمجھنے کی کوشش بھی کرنا چاہئے کہ حفیظ شیخ ، یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں ایک کمزور امیدوار تھے۔ قومی اسمبلی کے متعدد ارکان ان سے مطمئن نہیں تھے لیکن سینیٹ کے امیدواروں کا فیصلہ کرتے ہوئے عمران خان نے پارٹی کے صوبائی لیڈروں یا ارکان اسمبلی کی رائے جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔
بہر حال اگر عمران خان اور حکومت کی اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ یوسف رضا گیلانی نے اپنے بیٹے کے ذریعے کثیر رقوم تقسیم کرکے حکومت کے حامی ایم این اے ’خریدے ‘ تھے تو اعتماد کا ووٹ لیتے ہوئے کیا وہ ان ’بکاؤ‘ ارکان اسمبلی کا ووٹ قبول کرنے سے انکار کردیں گے؟ یا ایسے بدعنوان اور برائے فروخت ارکان کو بھی وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کے لئے ’راضی ‘ کرنے کے تمام طریقے اختیار کئے جائیں گے۔ ایسے کچھ طریقوں کا مظاہرہ سندھ اسمبلی کے ناراض ارکان کو ساتھ ملانے کے لئے کیا جاچکا ہے۔ یا پھر ’مشتبہ‘ ارکان کو ہوٹلوں میں ’محفوظ‘ رکھ کر سیاسی کامیابی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ عمران خان اور تحریک انصاف اپنے طرز تکلم سے یہ اصول مستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ صرف وہی شخص درست ہے جو کسی بھی طرح ان کے ساتھ چلنے پر آمادہ ہو۔ اختلاف رائے کے بارے میں یہ طرز عمل ہی دراصل عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی ناکامی ہے۔ ایمانداری اور فئیرپلے کی بات کرنے والے عمران خان کے سیاسی دوغلے پن کا ایک نمونہ فیصل واوڈا کے طرز عمل سے بھی سامنے آیا ہے۔ وہ وفاقی وزیر ہونے کے علاوہ عمران خان کے چہیتے بھی ہیں، اس لئے تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ دوہری شہریت کیس میں ان کے طرز عمل سے وزیر اعظم باخبر نہیں ہیں۔ بلکہ قومی اسمبلی کا رکن ہونے کے باوجود انہیں سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا مقصد ہی یہ تھا کہ عمران خان ، واوڈا کے جھوٹ پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے۔ فیصل واوڈا نے مسلسل الیکشن کمیشن اور عدالتوں کو دھوکہ دیا اور آج صبح 9 بجے سینیٹ انتخاب میں رکن قومی اسمبلی کے طور پر ووٹ دیا ۔اور ساڑھے نو بجے اس نشسست سے استعفیٰ دے کر اسلام ہائی کورٹ کو مطلع کیا گیا کہ وہ تو رکنیت سے مستعفیٰ ہوچکے ہیں ، اس لئے دوہری شہریت کے معاملہ میں انہیں ’نااہل‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ شام تک وہ سندھ سے سینیٹر ’منتخب‘ ہوچکے تھے۔
عمران خان اگر اسے ایمانداری کہتے ہیں تو خاطر جمع رکھیں کہ عام لوگوں پر ان کے سچ، جھوٹ اور سیاسی قلابازیوں کی پرتیں کھل رہی ہیں۔ یہ بات اب اظہر من الشمس ہے کہ کرپشن اور ووٹوں کی خریداری جیسے نعرے درحقیقت سیاسی ہتھکنڈے ہیں جو کسی بھی طرح اقتدار سے چمٹے رہنے کے لئے اختیار کئے گئے ہیں۔ عمران خان جس نظام کو ناکارہ قرار دیتے ہیں، اسی کے فرسودہ اور ناقص طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی حکومت قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اعتماد کا ووٹ لیتے ہوئے حکومتی طاقت کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔ اسی لئے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ حوصلہ مندانہ ہونے کے باوجود ملک میں جمہوریت مستحکم کرنے کا سبب نہیں بنے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker