خالد مسعود خانکالملکھاری

میری مرضی… اطہر شاہ خان جیدی کی ایک غزل۔۔خالد مسعودخان

خلیل الرحمان قمر اور شازیہ انوار عرف ماروی سرمد کے درمیان جو کچھ ہوا ‘ وہ کسی طور بھی قابل تحسین نہیں۔ اسے کسی بھی حال میں ‘کسی بھی حساب سے Justifyنہیں کیا جا سکتا ۔لیکن یہ کیا؟ پہلی بار عورتوں اور مردوں کی برابری کا نعرہ لگانے والی ماروی سرمد کے ساتھ برابری کا سلوک ہوا ہے اور ملک میں کہرام مچ گیا ہے۔ موصوفہ گزشتہ کئی سال سے ٹی وی پروگرامز میں‘ ٹاک شوز میں اور اپنی گفتگو میں پاکستان کی نظریاتی اساس‘ پاکستان کے آئین‘ پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت کے معاشرتی نقطۂ نظر اور ملک کے اجتماعی سوشل فیبرک کو لبرل ازم کے نام پر گالیاں دے رہی تھیں‘ لیکن ان کی کسی بات پر کبھی اتنا کہرام نہیں مچا۔ وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ تب ان کی زبان کی گولہ باری سے متاثر ہونے والے صرف مرد حضرات تھے اور کسی نے بھی عورت کی برابری کی دعویدار کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا تھا کہ اسے برابری کا عملی ثبوت مل سکتا۔ اب پہلی بار انہیں اس لاٹھی سے ہانکا گیا ہے‘ جس سے وہ ایک عرصے سے شرفا کو ہانک رہی تھیں تو پورے ملک میں ایسی آگ لگی ہے کہ لوگ کورونا وائرس کو بھول گئے ہیں اور اس چند منٹ کی لفظی لڑائی کا ثمر یہ حاصل ہوا ہے کہ کل کے اخبارات کی آٹھ کالمی ہیڈ لائن عورت مارچ کے متعلق تھی۔
میں گزشتہ سات سال سے ٹی وی پر چلنے والے ٹاک شوز سے مکمل کنارہ کر چکا ہوں‘ بلکہ صرف ٹاک شوز ہی کیا؟ میں اب گھر میں ٹی وی پر صرف وہ دیکھتا ہوں جو میری چھوٹی بیٹی دیکھتی ہے اور وہ کیا دیکھتی ہے؟ پاکستانی ڈرامے! میرے کمرے کا ٹیلی ویژن سیٹ کبھی کبھار ہی آن ہوتا ہے اور وہ بھی تب‘ جب میری بیٹی میرے کمرے میں آ کر اسے آن کرتی ہے۔ وہ جب کبھی میرے کمرے کا ٹی وی آن کرتی ہے تو ہنس کر مجھے کہتی ہے کہ میں اسے صرف اس لیے کبھی کبھار چلا لیتی ہوں کہ کہیں استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بالکل جواب ہی نہ دے جائے۔ سو ‘میں ان ٹاک شوز سے مکمل محفوظ ہوں۔ اس لفظی جنگ کو میں نے لائیو تو نہیں دیکھا ؛البتہ شوکت علی انجم نے اس ”مہا بھارت‘‘ کا چند منٹ پر مشتمل ٹکڑا مجھے دکھایا۔
خلیل الرحمان قمر کے سامنے دو راستے تھے؛ پہلا یہ کہ انہیں ہتھے سے نہیں اکھڑنا چاہیے تھا اور اسی طرح پسپائی اختیار کر لینی چاہیے تھی‘ جس طرح پہلے بہت سے شرفا نے اختیار کی تھی۔ دوسرا یہ کہ وہ انہیں اسی زبان میں جواب دیتے جس زبان کے کوڑے موصوفہ شرفا پر برساتی رہی تھیں۔ خلیل الرحمان قمر نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اب‘ ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ عجیب قوم ہے؟ یہ خاتون پاکستان کے آئین کا مذاق اڑاتی رہی۔ کسی کو تکلیف نہیں ہوئی۔ ملک کی عوام کی غالب اکثریت کے مذہبی نظریات کا ٹھٹھا اڑاتی رہیں‘ کسی نے نہیں ٹوکا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے ”اسلامی‘‘ نکال کر اسے لبرل بنانے کا اعلان کرتی رہیں‘ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ نجیب لوگوں کو خوار خستہ کرتی رہیں۔ کسی نے تب کوئی احتجاج نہ کیا۔ اب‘ اگر خلیل الرحمان قمر نے تھوڑی اونچی نیچی کر دی ہے تو اس پر اتنا کہرام مچانے والے صرف اس بات کا جواب دیں کہ جب موصوفہ اسی قسم کی یا اس سے ملتی جلتی زبان میں شرفا کی پگڑیاں اچھال رہی تھیں‘ انہیں بے عزت کر رہی تھیں اور ٹی وی چینلز پر ان کے ساتھ باقاعدہ Misbehaveکر رہی تھیں ‘تب وہ سب کہاں تھے جو‘ اب شور مچا رہے ہیں؟برسوں پہلے جب میں غلطی سے ٹاک شوز دیکھا کرتا تھا۔ ایک نہایت ہی نجیب آدمی ایک ٹاک شو میں مہمان تھے۔ اس ٹاک شو کے شرکا میں یہ خاتون بھی شامل تھیں۔ دورانِ گفتگو اس شریف آدمی نے مغربی تہذیب کی نقالی میں ملک میں پھیلنے والی مادر پدر آزادی اور بے راہ روی پر بات شروع کی تو اس خاتون نے بڑے طمطراق سے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ” آپ کی بیٹیاں ایسی ہوں گی‘‘۔ آپ یقین کریں شرم سے مجھے پسینہ آ گیا اور میں حیران ہوا کہ اس شریف آدمی نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے موصوفہ کے اس گھٹیا اور واہیات تبصرے پر بات کرنے اور جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کی۔ اللہ جانتا ہے کہ اگر میں اس جگہ پر ہوتا تو شاید برداشت نہ کر پاتا‘ لیکن کسی نے تب تو اس خاتون کے اس جملے پر نہ کوئی احتجاج کیا اور نہ ہی اسے شرمندہ کیا۔ دراصل انہیں خاتون ہونے کا جو ایڈوانٹیج ملتا رہا ‘وہ اسے کھل کر استعمال کرتی رہیں اور اُس کا فائدہ اٹھاتی رہیں۔ مرد اب ‘اس سے زیادہ کسی عورت کی اور کیا عزت کرتے کہ ان کی مسلسل بد زبانی کو برداشت کرتے رہے اور جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کرتے رہے‘ لیکن خلیل الرحمان قمر نے انہیں ترکی بہ ترکی جواب دے کر ان کی یہ حسرت تو پوری کر دی کہ مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں۔ خلیل الرحمان قمر نے موصوفہ کے Gender Discriminationکے غبارے سے ہوا نکالتے ہوئے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا ‘جو وہ برسوں سے مردوں کے ساتھ روا رکھ رہی تھیں اور اسی ایڈوانٹیج کے مزے اڑا رہی تھی۔ پہلی بار اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے تو شور و غوغا سننے والا ہے۔
ویسے یہ عورت مارچ کس استحصال شدہ طبقے کی عورت کی نمائندگی کر رہا ہے؟ جو عورت ”میرا جسم میری مرضی‘‘ کا بینر ہاتھ میں اٹھا کر‘ کیمروں کی جھپاک جھپاک کے سامنے سینہ تان کر‘ ٹی وی کیمروں کے آگے نعرے لگا سکتی ہے‘ اخبار میں فوٹو چھپوا سکتی ہے‘ اس کے بارے میں آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کتنی خود مختار‘ آزاد اور بے احتیاج ہو گی۔ جس عورت کا اس ملک میں استحصال بالجبر ہو رہا ہے‘ اسے تو اس عورت مارچ کے بارے میں علم ہی نہیں۔ استحصال ہو رہا ہے ہاری کی عورت کا‘ کھیت میں کام کرنے والی کھیت مزدور عورت کا۔ ظلم اور جبر کا شکار تو وہ عورت ہے‘ جس کا سارا خاندان بھٹے والے کے ہاں یرغمال ہے‘ جسے ملازمت کے دوران مالک یا ساتھی مردوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہ ملازم خواتین ہیں‘ جو مجبوری کے عالم میں نوکری کر رہی ہوتی ہیں ‘نہ کہ شوقیہ۔ اس ملک میں استحصال شدہ خواتین کی ایک لمبی فہرست ہے ‘لیکن ان کے بارے میں تو اس پورے مارچ میں کوئی بات نہیں ہوتی۔ گزشتہ سال سلوگن اور بینرز تو بالکل دوسری کہانی سناتے تھے‘ نعرے تھے؛ میرا جسم میری مرضی‘ میں طلاق لے کر خوش ہوں اور اسی قبیل کے اور نعرے۔ یہ سب نعرے ظاہر کرتے تھے کہ ان نعرہ باز خواتین کو ہر طرح کی آزادی میسر ہے اور کسی میں انہیں روکنے ٹوکنے کی جرأت موجود نہیں‘ نہ گھر میں‘ نہ معاشرے میں۔اس سال تین منٹ کے فساد نے ان نعروں کا صفایا کر دیا‘ ماروی سرمد کے بارے میں کم ہی لوگوںکو معلوم ہوگا کہ انہی نعروں کے طفیل موصوفہ اب امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ یہ سارا غیر ملکی فنڈز پر چلنے والی این جی اوز کا کمال ہے کہ بالآخر خاک وہی پہنچتی ہے ‘جہاں کا خمیر ہوتا ہے۔
انسان کی بے شمار ”مرضیوں‘‘ کو معاشرہ‘ رسم و رواج‘ قانون اور مذہب کہیں نہ کہیں روک لگاتا ہے۔ اب ‘آپ اپنی موٹر سائیکل پر سات بندے صرف بات پر نہیں بٹھا سکتے کہ ”میرا موٹر سائیکل‘ میری مرضی‘‘۔ آپ گاڑی پر ہائی وے پر سفر کے دوران یہ کہہ کر سیٹ بیلٹ لگانے سے انکار نہیں کر سکتے کہ ”میری کار‘ میری مرضی‘‘۔ آپ اپنے گھر کے اندر کوئی ناجائز کاروبار کرتے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ”میرا گھر‘ میری مرضی‘‘۔ آپ راہ چلتے کسی کو یہ کہہ کر ٹھڈا نہیں مار سکتے کہ ”میرا پاؤں‘ میری مرضی‘‘۔ آپ کی مرضی وہاں تک ہے‘ جہاں تک قانون‘ معاشرہ‘ اخلاقی اقدار اور مذہب آپ کو آزادی دیتا ہے۔
امریکا میں کالوں کو آزادی ملنے پر ایک کالے نے خوشی سے مکا لہرایا‘ جو ساتھ سے گزرنے والے کے ناک پر لگا۔ اس نے جواباً کالے کو ایک زور دار مکا رسید کر دیا۔ کالے نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہم اب آزاد ہیں۔ جواباً اس شخص نے کہا کہ تمہاری آزادی کی حد وہاں ختم ہو جاتی ہے ‘جہاں سے میری ناک کی حد شروع ہوتی ہے۔
اب اطہر شاہ خان جیدی کی ایک غزل ”میری مرضی‘‘:
کھڑے کھڑے مسکرا رہا ہوں‘ تو میری مرضی
لطیفہ خود کو سنا رہا ہوں‘ تو میری مرضی
میں جلد بازی میں کوٹ الٹا پہن کے نکلا
اب آ ر ہا ہوں کہ جا رہا ہوں‘ تو میری مرضی
جو تم ہو مہماں تو کیوں نہ آئے مٹھائی لے کر
بٹھا کے تم کے اٹھا رہا ہوں‘ تو میری مرضی
یہ کیوں ہے سایہ تمہاری دیوار کا مرے گھر
میں جھاڑو دے کر ہٹا رہا ہوں‘ تو میری مرضی
رقیب کی قبر میں پٹاخے بھی رکھ دیئے ہیں
جو قبل دوزخ ڈرا رہا ہوں‘ تو میری مرضی
جو رات کے دو بجے ہیں تم کو شکایتیں کیوں
کہ میری چھت ہے میں گا رہا ہوں‘ تو میری مرضی
میں نادہندہ ہوں بینک تک جانتے ہیں جیدیؔ
تمہارا قرضہ بھی کھا رہا ہوں‘ تو میری مرضی
قارئین! آج کل اطہر شاہ خان جیدی بہت علیل ہیں۔ ان کیلئے دعائے صحت کیجئے۔ اللہ آپ سب کو خوش رکھے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker