کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہید کا کالم:’’اِن ﷲ مع الصابرین‘‘

طلسمِ ہوشربا یہ ہے کہ ڈھائی مہینے سے جاری احتجاج میں انڈیا کے کسان جن میں اب کسان عورتیں بھی شامل ہوگئی ہیں مگر انڈیا کے وزیراعظم امن کی بانسری اُسی طرح بجا رہے ہیں جیسے گزشتہ دو سال سے کشمیر کے مسئلے کو درخوراعتنا سمجھ ہی نہیں رہے۔ برطانوی پارلیمنٹ بولے کہ اقوامِ متحد ہ کا اپن پہ کوئی اثر ہی نہیں ہو رہابلکہ انڈیا کی تاریخ کو نیا موڑ دیتے ہوئے عوام کی حالت کو تو بدل نہیں سکے، شہروں کے نام جو مغلوں کے دور سے پہلے رائج تھے۔ ان سب کو سنسکرت میں ڈھالا جارہا ہے۔ کسان جائیں بھاڑ میں کہ ملکی ثقافت کا نیا پہناوا، اولیت رکھتا ہے۔ اب تو بنگلہ دیش اور انڈیا میں آنے جانے کے لئے پل بھی بن گیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت ان کے نزدیک اس لئے نہیں ہے کہ وہ تو ابھی چار بڑی قوتوں کے اجلاس میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ اب داڑھی کو اس لئے بڑھا رہے ہیں کہ اور کوئی داستان پڑھانے کا ماحول نہیں ہے۔ یہ الگ بات کہ ظلم و ستم کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔
پاکستان میں نہیں، اسلام آباد میں عوام کو گھر پر کھانا کھلانے اور پہنچانے کے لئے باقاعدہ بسیں تیار کی گئیں۔ ان کے روٹ طے کئے گئے اور کھانا وزیراعظم نے خود چکھ کر روانہ کیا ۔ بس اتنا رہ گیا کہ وہ خود لوگوں کے منہ میں نوالے بنا بنا کر ڈالتے اور جنت کے ٹوکرے سمیٹتے کہ بشریٰ بی بی کی منتہا تو یہی دکھائی دیتی ہے ۔ شاید فراموش ہوگیا بنی اسرائیل کا وہحوالہ کہ جب قوم کو ہر روز طرح طرح کا من و سلویٰ ملتا تھا تو آخر قوم نے تنگ آکر سبزیوں اور دالوں کی فرمائش کر دی تھی اور یوں من و سلویٰ کا نزول منقطع ہوگیا تھا۔
پچھلے ہفتے میں عورت مارچ ساری دنیا کے ملکوں میں ہوا سوائے برما کے ۔ ساری دنیا کے میڈیا نے عورتوں کے مسائل سے آگاہ کیا، پاکستان میں عورت مارچ کو گناہوں کی پوٹلی کہنے والے بھی حرف زنی کرتے ہوئے، خیر سے حکومت کو مقدمات قائم کرنے کے مشورے، دیتے رہے۔ عورتوں پر بہتان دھرنے والوں نے اس ہولناک واقعہ کا ذکر ہی نہیں کیا کہ کس طرح بنوں سے خاتون اور اس کی بیٹی کو اغوا کرکے افغانستان میں بیچا گیا،ایسے واقعات، اس وقت سے زوروں پر ہیں جب سے طالبان کا قبضہ، کوئی آدھے افغانستان پر ہے اور ہر دو مہینے بعد ایک نئے معاہدے پر بات کرنے قطر جاتے ہیں،پانچ ستارہ ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں۔ گزشتہ دو سال سے اغوا اور قتل کےواقعات کے ساتھ ساتھ جمہوری حکومت قائم کرنے کے منصوبے بنتے اور بگڑتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں واہگہ کے راستے ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی روابط قائم ہیں۔ پاکستان کی اس مدد کے بعد بھی نیک نامی تو نہیں ملی۔عالمی فریڈم ہاؤس نے مذہبی جنونیت کے حوالےسے اعدادو شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہندوستان گزشتہ برس 73ویں نمبر پر تھا، اب 67ویں پر آگیا ہے جبکہ پاکستان خیر سے 41ویں سے 32ویں نمبر پر آگیا ہے۔ رپورٹ میں ان سارے ملکوں کو جمہوری نہیں، منتخب آمریت کہا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جس ملک میں نہیں ہو رہیں، وہ صرف سویڈن ہے۔
اِدھر پورا مہینہ گزر گیا کہ برما میں اچانک فوجی انقلاب کے خلاف جلوس نکالے جارہے ہیں۔ ہر روز لوگوں کو گرفتار بھی کیا جارہا ہے اور ہلاک ۔ برما کی تو ایک نن نے باقاعدہ زمین پر بیٹھ کر ہاتھ جوڑ کر پولیس والوں سے معافی مانگتے ہوئے، انسانوں کو نہ مارنے کی درخواست کی تھی۔ اب سوائے روس اور چین کے، دنیا بھر کی قوتیں اس لاقانونیت کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔ خوف یہ ہے کہ دنیا میں غریب ملکوں میں جو منتخب آمریتیں چل رہی ہیں وہ بھی برما کی طرز پر نہ ہو جائیں۔ گزشتہ ہفتے مردان کے علاقے میں ایک بہت ہی خوشگوار شادی ہوئی۔ آپ کہیں گے ،بظاہر تو سب شادیاں خوشگوار ہی لگتی ہیں ، شروع شروع میں ۔ بعد میں راز کھلتے ہیں مگر یہ شادی فقید المثال تھی۔ لڑکے نے ایم بی اے فائنل کرلیا اور لڑکی ابھی فائنل میں تھی۔ دونوں نے شادی کی اپنی تصویریں دعوت نامے پر لگائیں اور لڑکی سے جب مہر کے لئے پوچھا گیا تو اس نے کہا مجھے ایک لاکھ روپے کی کتابیں چاہئیں ۔ کاش ایسی خوشگوار خبر کو ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں حرزِ جاں بنالیں۔ یہیں اس شادی کے بعد ایک سوال میرے دماغ میں کلبلا رہا ہے کہ ہماری بہت سی عورتیں اور دوست جیسے ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی و دیگر خواتین جنہوں نے اسلامک اسٹڈی میں ڈاکٹریٹ کیا ہوا ہے۔ ان کو کیوں ایسی تقریبات میں مدعو نہیں کیاجاتا۔
یہیں ایک اور سوال سر اُٹھاتا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں بچے کے پیدائش کارڈ پہ صرف باپ کا نام لکھا جاتا ہے جبکہ باقی دنیا میں ، پہلے ماں کا نام پھر باپ کی کنیت یا اس کا نام لکھا جاتا ہے ۔ یہ اختصاص کیوں ؟ شاید اس لئے کہ جہاں کہیں بھی ملک میں لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی توغیرت جاگ اُٹھتی ہے اور قتل کرنا سب خاندان والوں پر فرض ہو جاتا ہے۔ یہ تلازما اس لئے بھی کہ لڑکی کا اظہار ِ عشق اور وہ بھی پھول پیش کرنے کا انداز یونیورسٹی والوں پر گراں گزرا۔ ہم کہاں جائیں عورت مارچ میں کچھ نعرے لگائیں تو تہمتیں اور وہ بھی بے حیائی کی ہمارے سر پہ، اور سلامت رہیں میرے دوست جو بظاہر سوائے فواد چوہدری کے، باقی سب ادارے عورتوں کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ ’’ان ﷲ مع الصابرین‘‘
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker