اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کے بعد اب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد نے انکشاف کیا ہے کہ اسٹبلشمنٹ عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ جو جج دباؤ قبول نہیں کرتا ، اسے تنگ کرنے کے ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات راولپنڈی میں زیریں عدالتوں میں کام کرنے والے ججوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی اور انہیں ڈٹ جانے اور حوصلہ مندی سے فیصلے کرنے کا مشورہ دیا۔
جسٹس ملک شہزاد احمد نے سرگودھا کے ایک جج کی تحریری شکایت کا حوالہ دیا جس پر اب آئی جی پولیس پنجاب کو عدالت میں طلب کیا جاچکا ہے۔ تاہم آج کی تقریر میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ عدلیہ میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت جلد بند ہوجائے گی۔ ہمیں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت روکنے کے لیے کسی خوف کے بغیر بہادری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اسی لیے مجھے یقین ہے کہ یہ مداخلت جلد ختم ہوجائے گی‘۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس مقصد کے لیے میں کوئی بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کروں گا۔ انہوں نے ساتھی ججوں کو مشورہ دیا کہ ’ ہمیں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہوگا اور قربانی دینے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے‘۔
فاضل جج کا یہ بیان اس حد تک تو خوش آئیند ہے کہ اس میں ججوں کی خود مختاری کا اعلان کیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اب عدلیہ اداروں کی مداخلت برداشت نہیں کرے گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ عدالتی کاموں میں مداخلت کا آغاز مولوی تمیزالدین کیس سے ہؤا تھا اور اس وقت سے یہ سلسلہ چلتا آرہا ہے البتہ اب اسے ختم کرنا ہوگا۔ تاہم اس دبنگ اور زور دار بیان اور اس عزم کے اظہار کے باوجود کہ وہ خود اس جد وجہد میں کسی ’قربانی‘ سے دریغ نہیں کریں گے، یہ جاننا دشوار ہے کہ عدالتوں میں حوصلہ مندی سے اور دباؤ قبول کیے بغیر فیصلے کرنے کے علاوہ کسی بھی عدالت کا کوئی جج آزاد عدلیہ کے لیے کیا کوشش کرسکتا ہے؟ کیا صورت حال اس حد تک مایوس کن ہوچکی ہے کہ ایک ہائی کورٹ کا چیف جسٹس عدالتی آزادی کے لیے تقریر کرنے اور بیان دینے پر مجبور ہے؟
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں اب دیگر مسائل کی طرح عدلیہ کی آزادی بھی تقریروں اور بیانات سے حاصل کی جاسکے گی۔ اس سے پہلے مارچ کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے نام لکھے گئے ایک خط میں عدالتی امور میں اداروں کی مداخلت کی شکایت کی تھی اور اعلیٰ ترین عدالتی ادارے سے اس صورت میں رہنمائی کی درخواست کی تھی۔ اس خط میں بالواسطہ طور سے جن معاملات کا حوالہ دیا گیا تھا ، ان کا تعلق ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ پہلے پیش آنے والے واقعات سے تھا۔ تاہم ہائی کورٹ کے 6 فاضل ججوں نے تمام تر قانونی اختیار کے باوجود بروقت قانون شکن رویوں کا مظاہرہ کرنے والے عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ کافی وقت گزرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل سے رہنمائی طلب کی ۔ ایک خفیہ مکتوب سپریم کورٹ کے سکریٹریٹ پہنچنے سے پہلے ہی سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہوگیا اور خط لکھنے والے کسی جج نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ یہ وقوعہ بھی اب پاکستانی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ سپریم کورٹ کے مشورہ سے وزیر اعظم نے ایک سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کیا لیکن ایک سیاسی پارٹی نے ہنگامہ آرائی کے ذریعے یہ کمیشن قائم نہیں ہونے دیا۔ کسی طرف سے اس معاملہ کے اس پہلو پر کوئی بحث سننے میں نہیں آئی۔ کیا تحریک انصاف کا یہ ہتھکنڈا بھی عدالتی آزادی اور خود مختاری میں براہ راست مداخلت نہیں تھا؟
اگر اس وقت حکومت اور سپریم کورٹ کے درمیان طے پانے والے انتظام کے تحت جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں قائم کمیشن تحقیقات کرتا تو مداخلت کے الزامات اور اس میں ملوث افراد کی حقیقت جان کر اس کا قلع قمع کیا جاسکتا تھا۔ البتہ اس جائز اور قانونی طریقہ پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈال کر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کرنے کے سوا کیا مقصد حاصل کیا گیا؟ بلکہ حقیقی معنوں میں ججوں کے عائد کردہ ایک سنگین الزام کی تحقیقات روک کر درحقیقت ان عناصر کی پشت پناہی کی گئی جو غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نتیجے میں ان عناصر کی نشاندہی ہوسکتی تھی۔ پھر حکومت ایسے ہر طریقے کو روکنے پر مجبور ہوتی جو کسی بھی طرح عدالتوں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔عدالتی امور میں اگر اسٹبلشمنٹ یا حکومتی مداخلت کو مسترد کرنا ضروری ہے تو سیاسی مقاصد کے لیے نظام انصاف میں خلل ڈالنے کے طریقوں کو بھی قبول نہیں کرنا چاہئے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ جیسے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے خط کے بعد تحریک انصاف نے اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور یہ تاثر عام کیا کہ صرف وہی جج نشانے پر ہیں جو تحریک انصاف سے ہمدردی رکھتے ہیں ، بعینہ اب لاہور ہائی کورٹ چیف جسٹس کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے وہی الزامات دہرائے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عدلیہ میں تحریک انصاف کے حامی ججوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان ججوں کو تنگ کیا جاتا ہے جو جو کسی طرح تحریک انصاف کے کارکنوں کو رعایت و سہولت دینا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے بیان کو فوری طور سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت حقیقی معنوں میں اصول انصاف یا ججوں کی خود مختاری کی بات نہیں ہورہی بلکہ ایک خاص سیاسی جماعت اپنے مقبول بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے اس نعرے کو استعمال کررہی ہے۔ بدقسمتی سے عدلیہ کے بعد ارکان اس نعرے کی ترویج میں اس سیاسی پارٹی کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سہولت کاری جان بوجھ کر کی جارہی ہے یا حالات کے بہاؤ میں ایسے وقوعات رونما ہورہے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو نظام کی درستی کی بجائے عدالتوں میں ایک خاص پارٹی کو ملنے والی سہولتوں کے حوالے سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
عمران خان کی یہ بات اگر درست ہے کہ تحریک انصاف کے حامی ججوں کو تنگ کیا جاتا ہے تو اس سوال کا جواب کون دے گا کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے کسی بھی جج کے لیے کسی ایک خاص سیاسی پارٹی کا ہمدرد و ہمنوا ہونے یا سیاسی بنیاد پر فیصلے جاری کرنے کا حق کیسے دیا جاسکتا ہے۔ کیا سیاسی وابستگی رکھنے والے ججوں کو خود ہی ایسے تمام معاملات سے خود کو الگ نہیں کرلینا چاہئے جو اس جماعت سے متعلق ہوں جس کے ساتھ وہ سیاسی ہمدردی رکھتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک پبلک تقریر میں اپنی بہادری کا دعویٰ ضرور کیا ہے لیکن یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ اگر ان کے ماتحت جج سیاسی طور سے ایک خاص لیڈر یا جماعت سے متاثر ہیں تو انہیں نظام انصاف میں جوابدہ کرنے کے لیے کیااقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے مولوی تمیزالدین کیس کا حوالہ ضرور دیا لیکن یہ بتانے سے دامن بچا لیا کہ مولوی تمیزلدین کیس نے ملک میں انصاف کی فراہمی کی راہ میں جو روڑے اٹکائے تھے ، گزشتہ 70 سال کے دوران ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے عدالتوں نے کیا اقدامات کیے؟ جسٹس منیر کے وضع کردہ اصول قانون کو بنیاد بنا کر بعد از وقت ملک کے ہر آمر کو رعایت دی گئی لیکن مولوی تمیزالدین کو درست قرار دینے والے کسی جج نے کسی فیصلے میں یہ واضح کرنے کی کوشش نہیں کی کہ اس وقت ملک کی دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر کی درخواست مسترد کرکے درحقیقت ملکی عدلیہ کو مفادات کی بیڑیا ں پہنا دی گئی تھیں جو اب تک توڑی نہیں جاسکیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ عدلیہ جو کام 70سال کی مدت میں فیصلہ سازی کے دوران کرنے میں ناکام رہی ہے، اسے ایک خط یا ایک بیان کے ذریعے کیسے سرانجام دیا جاسکتا ہے۔ عدلیہ کو بلاشبہ آزاد ہونا چاہئے لیکن اگر ججوں کے فیصلے سیاسی طور سے جانبدار ہوں گے اور تقریروں میں سیاسی وابستگی کی آلائش ہوگی تو یہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس ملک شہزاد احمد سپریم کورٹ کے جج مقرر ہونے والے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن نے ان کے نام کی منظوری دے دی ہے اوراب یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے لیے بھیجا گیا ہے، جسے ایک رسمی کارروائی کی حیثیت حاصل ہے۔ گویا وہ اب فیصلہ سازی کے اعلیٰ ترین فورم کا حصہ بننے والے ہیں ۔ عدلیہ میں بیرونی عناصر کی مداخلت روکنے کے لئے کسی قوت ایمانی کے مظاہرے یا تقریروں میں اعلانات کی بجائے ملک کے عدالتی فورمز کو مؤثر بنانے، میرٹ پر انصاف فراہم کرنے کا اصول اپنانے اور قانونی معاملات کو سیاسی زاویے سے دیکھنے کا طریقہ ترک کرنا ضروری ہوگا۔
لاہور ہائی کورٹ نے حال ہی میں الیکشن ٹریبونل قائم کرنے کے حوالے سے یک طور سے الیکشن کمیشن کے آئینی اختیار کر نظر انداز کیا ہے ۔ گویا قانونی فیصلوں میں سیاسی پسند ناپسند کا عنصر نمایاں ہورہا ہے۔ اسی طرح عدالتی امور میں مداخلت کے معاملہ کو میڈیا کے ذریعے مباحث کا حصہ بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ فاضل جج حضرات کو علم ہونا چاہئے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے ججوں کو فیصلے لکھتے ہوئے مضبوط ہونا پڑے گا ، ریمارکس دینے یا پبلک پلیٹ فارم پر تقریرں کرنے سے عدالتیں بہتر پرفارم نہیں کرسکیں گی۔
جسٹس ملک شہزاد احمد کو یہ علم بھی ہونا چاہئے تھا کہ عدلیہ میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے معاملہ پر سپریم کورٹ سوموٹو نوٹس لے چکی ہے اور ایک 7 رکنی بنچ اس معاملہ پر غورکررہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہی ہے کہ ان ہتھکنڈوں کو سامنے لایا جاسکے جو اسٹبلشمنٹ کی طرف سے ججوں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انہیں عدالتی آزادی کا علم بلند کرتے ہوئے اس صورت حال کو پیش نظر رکھنا چاہئے تھا ، خاص طور سے اس صورت میں جب وہ خود بھی سپریم کورٹ کا جج بننے والے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ،، ناروے )
فیس بک کمینٹ

