تجزیےلکھاریماہ طلعت زاہدی

عمر خیام….۔۔۔ ایک سوال ( 1 ) ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

2006ءکے ایرا ن میں ، اسد اریب اور میں تہران کے پارکِ ملت میں تھے۔ دیکھا کہ تمام شعرائے قدیم و جدید کے مجسمے وہاں نصب ہیں۔ ایسا لگا واقعی ایرا ن کے لوگ شعر شناسی اور احترامِ شاعر میں بہت آگے ہیں۔
عشق و محبت ،موسیقی اور شاعری گویا ایرانی عوام کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہی ہے۔ اچانک ہماری سرخوشی کے لمحوں میں سوال کی پھانس چبھی اور ہم نے اپنی ایرانی دوست فرزانہ تاجری سے پوچھا: ”کیا بات ہے یہاں خیام کا مجسمہ نظر نہیں آرہا؟“ فرزانہ تاجری نے سرگوشی میں کہا ”خیام کو حکومتِ وقت پسند نہیں کرتی“۔ کیوں؟؟؟
میں ایران سے لوٹی اور عمر خیام پڑھنا شروع کردیا۔۔ شراب؟ ایران میں ایسا کون سا شاعر ہے جس نے شراب کاذکر نہ کیا ہو۔ بلکہ ایرانی شاعری کے زِیر اثر ہمارے ہند و پاک کی غزل میں بھی بوئے شراب شامل ہے یہاں تک کہ ریاض خیر آبادی نے تو شراب ہی کو موضوع بنا کر ”خمریات“ کے نام سے رباعیات کا مجموعہ شائع کیا۔
محبوب؟ دنیا کی کسی بھی زبان کا شعر ہو ،بغیر ذکرِ محبوب ،بے رس ہوگا۔ محبوب زندگی کی وہ قوت بخش حقیقت ہے کہ جب اُس کے علاوہ بھی اہمِ حقائق نظر آنے لگیں تب بھی فیض بسم اللہ اسی کے نام سے کرتے ہیں۔
مجھ سے پہلے سی محبت مرے محبوب نہ مانگ
گل و بلبل؟ ہماری غزل میں یہ روایت بھی ایرانی شاعری سے آئی۔ تمام شعرائے ایران نے حیات کے اس زندہ استعارے اور لطیف اشارے کو اپنا کر شعر کہے۔
معرفت؟ وہ تو معاف کیجئے گا ، ہماری قدیم اردو غزل کا منتہائے مقصود ہے۔ غالب نے تو یہاں تک کہہ دیا۔ ع
نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا….
لذت و اکتسابِ مسرت؟ یہ سبق بھی ہم نے ایران ہی کی شاعری سے لیا۔ صرف حافظ شیرازی ہی نے لذت اور مسرت کے خواب نہیں دیکھے۔ ہمارا وہ شاعر جو غم کے ادراک اور اظہار میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ، کہنا تو یہی چاہتا ہے۔
میر جی چاہتا ہے کیا کیا کچھ ….
”رباعیات عمر خیام“ کا وہ نسخہ جو شہنشاہِ ایران کے جشن 50 سالہ تقریبات کے سلسلہ میں چھپا اور مجھ تک میرے بھائی جان انور زاہدی کے تحفہ ء محبت کے طور پر پہنچا ، اس وقت پیش نظر ہے:
اس کتاب کا پیش لفظ فارسی میں دُکتر امیر عباس مجذوب صفا نے اور انگریزی میں ایڈورڈ فٹنر جیرالڈ نے تحریر کیا۔
دُکتر امیر عباس مجذوب صفا نے اپنے مقدمے میں جو کچھ تحریر کیا ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایران میں پانچویں صدی ہجری کے آخری نصف میں ایک شخصیت ”نیشا پور“ میں پروان چڑھی۔ جو سائنس ریاضی ، علمِ نجوم ، فلسفے اور علم طب میں کمال شہرت کی حامل ٹھہری لیکن معاصرین اور متاخرینِ علم و فن کے ہاں اس شخصیت کی شعر گوئی کا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔ یہاں تک کہ اس شخصیت کا نامِ نامی بھی متنازعہ فیہہ بن جاتا ہے:
1۔ نظامی عروضی شاگردِ خیام در کتاب ، چہار مقالہ اور خواجہ عمر خیامی ، نوشتہ است
2۔ عبدالرحمان خازنی معاصرِ خیام در کتابِ میزان الحکمہ کو بہ سال 515ہجری تالیف کرد ،اسم اورا ”الام ابوحفص عمر بن ابراہیم الخیامی“ نوشتہ است۔
3۔ زمحشری ،معاصرِ خیام در کتاب ، الزاجر ،اسمِ اُور اخیامی ذکر کردہ است۔
4۔در صدرِ کتاب جبر و مقابلہ (ودور بعض رسالاتِ دیگر) اسمِ این دانشمند ، خیامی ، ذکر شدہ اَست۔
5۔ خاقانی شروانی ، شاعرِ معروف قرنِ ششم ہجری درد یوانش اسمِ این حکیم را عمر خیامی گفتہ است۔
6۔ شہرزوری در کتاب ، نزہتہ الارواح و روضتہ الافراح ،اسم این فیلسوف راخیامی اور دہ است۔
7۔ابن الاثیر در کتاب ، کامل التواریخ ، اسم اُورا ، عمر بن ابراہیم الخیامی ، نگاشتہ است۔
پس دکترا امیر عباس مجذوب صفا کی اس تحقیق کے مطابق یہ شخصیت جو علوم منقول معقول پر کل دسترس رکھتی ہے اس کا اصل نام ’حجتہ الحق خواجہ امام ابوحفص عمر بن ابراہیم الخیامی‘ قرار پاتا ہے۔
چھٹی صدی کے ابتدائی تہائی حصے میں وفات پانے والے اس عالم فاضل شخص کو ہمیشہ ہی مختلف القابِ پسندیدہ و ناپسندیدہ ملتے رہے اور یہ بحث تاحال جاری ہے کہ وہ کون تھا؟؟
کچھ نے اُسے عارف کہا ، کچھ نے فلسفی ، کچھ نے اُسے ریاضی دان اور ماہر علم نجوم جانا اور کچھ نے شاعر ! ایک طبقہ اُسے متقی اور پرہیز گار بھی بتاتاہے جبکہ ایک دوسرا گروہ اُسے ملحد اور کافر ٹھہراتا ہے۔ یہاں دُکتر امیر عباس مجذوب صفا ،پھر سے بہت سی شخصیات کے حوالے دیتے ہیں۔ جن کا فرداً فرداً تذکرہ بھی طولانی ہوجائے گا۔ مختصر یہ کہ سعیدی کے بقول اگر خیام کے نام کی شہرت علوم ریاضی اور ستارہ شناسی کے حوالے سے کرنا ہے تو ابن سینا ، زکریای ، رازی ، خواجہ نصیر فردوسی و سعدی کے ناموں کے ساتھ یہ حوالے کیوں نہیں لائے جاتے؟
روزن کہتا ہے ”اس دانشمند کی صفات میں سے ایک خاص یہ ہے کہ ترغیبِ شراب نوشی دیتا ہے۔“
دُکتر شفق کے بقول:
”خیام غوامض فلسفہ راحل و فصل میکرد۔ ریاضی دان درجہ اولِ زمان خودبود۔ در نجوم اُستادی داشت ، طبیبِ حازق بود۔ کتابِ جبر و مقابلہ اوراتا یک قرن قبل در فرنگستان تدریس میکرند۔ در علوم دینی بامثال حجتہ الاسلام غزالی مباحثہ میکرو۔ چگونہ ممکن است این چینیں شخصے کہ معاصر نیش اور امام ، و حجتہ الحق ، می نامند ، مست و لایعقل وم پرست و عربدہ جوو قلندر شدہ ، از چپ و راستِ خود بے خبر باشد“؟
غرض یہ کہ مدرسی ، مینوی ، اساد ہمائی ، بخوانی سب کے سب خیام کے باب میں مختلف الآرا واقع ہوئے ہیں اور انفیشن نے تو یہاں تک کہہ دیا:
”ایک فرقہ جسے لوگںوں نے شبہہ میں فرقہ صوفیا جانا اور جس کا امیر کابل میں رہتا تھا ، اس فرقے کے ماننے والوں کا کہنا تھا کہ نبی اور پیغمبران کا دعویٰ نبوت مبنی بر حقیقت نہیں اور وحی ، الہام دراصل دھوکہ ہے ، شاید ایرانی شاعر خیام کا تعلق بھی اسی گروہ سے رہا ہوگا۔ کیونکہ اُس کے قلم سے ایسی ہی بے اعتقادی ٹپکتی ہے“۔۔
یہاں دُکتر امیر عباس ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہیں ، جس کا ذکر ایڈورڈ فٹنر جیرالڈ نے بھی کیا ہے مگر آخر الذکر نے خیام کے حوالے سے اور اول الذکر نے خیامی کے نام کے ساتھ۔ نظامی عروضی اس واقعے کے راوی ہیں کہ جب وہ بلخ کی ایک سرائے میں ٹھہرے ،تو ایک محفل میں خواجہ امام مظفر اسفزاری سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے حجتہ الحق عمر خیامی سے سنا ”میری قبر ایسے علاقے میں ہوگی جہاں شمال کی ہوا پھول برسایا کرے گی۔“
نظامی عروضی جو خود کو حجتہ الحق عمر خیامی کا شاگرد بتاتے ہیں۔ نیشا پور کے قبرستان میں گئے تو دیکھا کے خیامی کی قبر پر پڑوس کے باغ کی دیوار سے آلوچوں اور امردوں کی ڈالیں جھکی ہوئی تھیں اور خاکِ قبر کلیوں اور پھولوں سے بھری ہوئی تھی۔۔
دُکتر امیر عباس کے مطابق اس بیان میں شاگرد نظامی عروضی نے حجتہ الحق خواجہ امام عمر خیامی کو مردانِ خدا میں شمار کیا اور اُس کی شاعری کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔
دُکتر امیر عباس نے ایک اور دلیل یہ پیش کی کہ ایران میں دو مشہور شخصیت امام غزال اور امام غزالی ہو گزرے ہیں۔ دوسرے سے ہم سب واقف ہیں۔ پہلے کی شہرت علوم قرات کے حوالے سے ہے لیکن دونوں کو ہم ایک دوسرے کی پہچان نہیں بنا سکتے۔ بالکل اسی طرح خیام اور خیامی دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ ایک زہد و تقویٰ میں بھی سند رکھتا ہے جبکہ دوسرے کے موضوعات شعری فقط میخواری اور عشرت طلبی کے ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی نسبت نہیں۔ یہاں دُکتر امیر عباس نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ رباعیات جو خیام کے نام سے منسوب ہیں ، ان کا وجود بھی مشتبہ ٹھہرتا ہے کہ اصل نسخہ کہیں دستیاب نہیں۔
اس مقام پر ہم ایڈورڈ فٹنر جیرالڈ سے رجوع کریں گے۔ جیرالڈ نے عمر خیام پر بہت کام کیا ہے۔ اُس کے مطابق عمر خیام ، نامعلوم وجوہات کی بنا پر ،ہمیشہ ہی اپنے وطن میں ناپسندیدہ رہا۔ یہی وجہ ہے اُس کے کلام کا اصل نسخہ بھی ایران میں دستیاب نہیں ، جبکہ باہر کی دنیا میں اُس کی شہرت سال بہ سال بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی۔ تاہم انڈیا ہاؤ س اور پیرس میں اُس کے کلام کا کوئی بھی نسخہ موجود نہیں۔
”We know but one in England: No. 140 of the Ouselsy MSS, at the Bodleian, written at SHIRAZ, A.D 1460. This contains but 158 Rubaiyaat. One in the Asiatic Society`s Library at Calcutta (of which we have a copy( contains (and yet incomplete( 516, though swelled to that by all kinds or repettion and corruption. So Von Hammeer speaks of his copy containing about 200, while Dr.Sprenger catalogues the Luckknow M.S at double that number.“
( جاری )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker