میرے ہونے سے پیشتر امی، پاپا دو بچوں کو کھو چکے تھے، ساڑھے تین سال کی بچی اور ڈیڑھ سال کا بچہ ایک مہینے میں ڈِپتھیریا(خناق) کی نذر ہو گئے تھے۔ تب ڈِپتھیریا کی ویکسین نہیں ایجاد ہوئی تھی۔ بھائی جان اکیلے رہ گئے تھے، جب میں دنیا میں آئی، ان میں اور مجھ میں آٹھ سال کا فرق تھا۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میرے والدین کا کیا حال ہوگا۔۔ پاپا تو مرد ہونے کے ناطے ضبط کرتے ہوں گے، امی کا حال جدا تھا۔ میں نے ہوش کی آنکھیں کھول کر اُنہیں روتا ہی پایا۔ لیکن دونوں نے ہماری تربیت میں کمی نہ آنے دی، ایک دن میری کسی خطا پر امی نے مجھے کمرے میں بند کردیا۔ مجھے وہ ڈر اور اندھیرا جو چند لمحوں کا تھا، آج بھی یاد ہے، میں سبکیوں کے ساتھ رو رہی تھی جیسے ہی امی نے دروازہ کھولا، میرے معصوم ذہن نے فوراً ایک منصوبے کے تحت ان سے کہا :امی آپ کے دو ہی تو بچے ہیں، پھر بھی آپ ہمیں مارتی ہیں؟ امی نے مجھے تڑپ کر سینے سے لگا لیا،ایک معصوم بچے کا تیر سیدھا ماں کے دل میں لگا تھا، مجھے آج تک ان کے سینے سے لگے ہونےکی گرمی اور اپنی دلیل کی کامیابی کی خوشی نہیں بھولتی۔
جمعرات, جون 25, 2026
تازہ خبریں:
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟
- محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک
- ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
- کراچی : تیز رفتار گاڑی مجلس عزا کے دوران امام بارگاہ کے احاطے میں جا گھسی 20 افراد زخمی
- کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم
- 9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بنوں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی
- روسی ناول:ایک فکری اور ادبی سفر : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب شہزاد عمران خان کا اختصاریہ

