میرے ہونے سے پیشتر امی، پاپا دو بچوں کو کھو چکے تھے، ساڑھے تین سال کی بچی اور ڈیڑھ سال کا بچہ ایک مہینے میں ڈِپتھیریا(خناق) کی نذر ہو گئے تھے۔ تب ڈِپتھیریا کی ویکسین نہیں ایجاد ہوئی تھی۔ بھائی جان اکیلے رہ گئے تھے، جب میں دنیا میں آئی، ان میں اور مجھ میں آٹھ سال کا فرق تھا۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میرے والدین کا کیا حال ہوگا۔۔ پاپا تو مرد ہونے کے ناطے ضبط کرتے ہوں گے، امی کا حال جدا تھا۔ میں نے ہوش کی آنکھیں کھول کر اُنہیں روتا ہی پایا۔ لیکن دونوں نے ہماری تربیت میں کمی نہ آنے دی، ایک دن میری کسی خطا پر امی نے مجھے کمرے میں بند کردیا۔ مجھے وہ ڈر اور اندھیرا جو چند لمحوں کا تھا، آج بھی یاد ہے، میں سبکیوں کے ساتھ رو رہی تھی جیسے ہی امی نے دروازہ کھولا، میرے معصوم ذہن نے فوراً ایک منصوبے کے تحت ان سے کہا :امی آپ کے دو ہی تو بچے ہیں، پھر بھی آپ ہمیں مارتی ہیں؟ امی نے مجھے تڑپ کر سینے سے لگا لیا،ایک معصوم بچے کا تیر سیدھا ماں کے دل میں لگا تھا، مجھے آج تک ان کے سینے سے لگے ہونےکی گرمی اور اپنی دلیل کی کامیابی کی خوشی نہیں بھولتی۔
ہفتہ, اپریل 25, 2026
تازہ خبریں:
- ایران امریکہ مذاکرات ۔۔ برف ابھی پگھلی نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی
- عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بلوچستان کے ضلع چاغی میں مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، نو افراد ہلاک
- اسلام آباد کی کرفیو جیسی صورتِ حال میں ’’ خیر کی خبر ‘‘ نصرت جاوید کا کالم
- ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ارشاد بھٹی معافی مانگ لی : میں لالی ووڈ کوئین ہوں ، معاف کیا : اداکارہ میرا
- ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی
- بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم
- امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ

