کالملکھاریمحمود شام

مسئلہ کشمیر ۔ کمرشل ازم اور شوبز۔۔مملکت اےمملکت/محمود شام

آج اتوار ہے۔ بہت سے اہم دنوں سے ملا ہوں۔چھ ستمبر پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا معرکہ خیز دن۔ جب پوری قوم ایک ہوگئی تھی۔ سب نے کہا کہ 14اگست 1947کو ایک ملک ملا۔ 6ستمبر 1965کو ایک قوم۔ سب کی دُعا یہی رہی ہے کہ جذبۂ ستمبر برقرار رہے۔ ہمارے عام فوجیوں میں تو جذبۂ ستمبر برقرار رہا۔ لیکن طمع پرست حکمرانوں اور طالع آزما جنرلوں سے یہ جذبہ چھین لیا گیا۔ اس لیے پھر 1971میں عظیم المیہ برپا ہوگیا۔ ہم دو لخت ہوگئے۔ محرم الحرام کے الم انگیز دن بھی آگئے ہیں۔ 11ستمبر بھی۔ قائد اعظم کا یوم ارتحال۔ پاکستانی قوم کو اپنے پہلے سال میں ہی اپنے بانی اور بابا سے جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ہے اسماعیلؑ


یہ المیے۔ یہ معرکے ایک قوم کو متحرک اور فعال رکھ سکتے ہیں۔ اگر حقائق سے آگاہ رہا جائے۔ قوم کو جذباتی بیانات اور جوشیلے نعروں میں نہ الجھایا جائے۔ جذبات ایک جھاگ کی طرح ہوتے ہیں۔ وقت گزر جائے تو وہ بیٹھ جاتے ہیں۔ صرف نشان رہ جاتے ہیں۔ جو المیوں کی یاد دلاتے ہیں۔ لیکن معرکوں میں کودنے کی ہمّت نہیں دلاتے۔ آج کا دن اپنوں سے ملنے کا دن ہے۔ آئندہ نسلوں کی بات سننے کے لیے چند لمحے۔ ہم تو اپنی عمر گزار چکے۔ اب اس حسین۔ وسیع و عریض مملکت۔اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت رکھنے والے ملک میں ہمارے بیٹوں بیٹیوں۔ پوتوں پوتیوں ۔نواسوں نواسیوں کو رہتا ہے۔ ان کی آنکھوں میں جھانکیے۔ ان کے ذہن کی وادی میں گھومیے۔ وہاں ہمارے وطن کا مستقبل پرورش پارہا ہے۔ مجھے تو بہت امید بلکہ یقین ہے کہ اس خطّے کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ یہ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے پی کے اور سندھ کے ساحلی علاقے صرف جنوبی ایشیا کے لیے ہی نہیں۔ پوری دنیا کی توانائی کا مرکز ہوں گے۔ متبادل توانائی بھی یہاں ہے۔ اور روایتی توانائی بھی۔ وہ ذہنی توانائی بھی جس سے ہمیں 1979سے محروم کردیا گیا۔ ہمیں جذباتی داستانوں میں مبتلا کرکے حقائق اور آگے بڑھتی دنیا سے دور کردیا گیا۔ ہم بیسویں صدی سے بارہویں تیرہویں صدی میں پہنچادیے گئے۔ حکمران اور اکثر مذہبی سیاسی جماعتیں بہت خوش تھیں۔ اپنے اس کارنامے پر لیکن ہمارے ذہن یرغمال بن گئے۔ ہم دوسروں کی آنکھوں سے دیکھنے لگے۔ ہم کرائے کے ٹیکنو کریٹ بن گئے۔ دوسروں کی جنگوں میں بطور ہتھیار استعمال ہونے لگے۔کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ وہ کہانیاں لکھوں۔ ملک سے بے وفائی کی۔ اپنوں سے بے اعتنائی کی ۔ کئی ڈراموں کا عینی شاہد ہوں۔ تاریخ میرے سامنے بگڑتی رہی ہے۔ جغرافیہ کے پر میرے سامنے کُترے جاتے رہے ہیں۔ الفاظ کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔ معانی کو زنجیریں پہنائی گئیں۔ ذہنوں کو قید تنہائی میں رکھا گیا۔ کتنے روشن دماغ تھے۔ بہترین صلاحیتیں اور قابل رشک استعداد کے حامل۔ مگر ہم نے انہیں مختلف الزامات عائد کرکے القاب عطا کرکے ضائع کردیا گیا۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ ملک میں اتنی نئی یونیورسٹیاں نئے دینی مدارس قائم کئے گئے ہیں۔


ان سے فارغ التحصیل ہوکر سینکڑوں ہزاروں عملی زندگی میں داخل ہورہے ہیں۔ لیکن معاشرے پر ان کا کوئی اثر نافذ نہیں ہوتا۔ وہ پارلیمنٹ تک نہیں پہنچتے۔ کسی دوسرے ملک میں جائیں تو وہ ان کی صلاحیتوں اور اہلیت سے فائدہ اٹھاکر معاشرے میں انقلاب لے آتے ہیں۔ لیکن اپنے ملک میں وہ کسی کام نہیں آتے۔ بہت سے اقتصادی ماہرین ہیں۔ جو ویت نام ۔ مصر۔ سوڈانی۔ تھائی لینڈ۔ سویڈن۔ پسماندہ اور ترقی یافتہ دونوں ملکوں میں معاشی ترقی لے کر آتے ہیں۔
اپنے وطن میں انہیں غیر منتخب کہہ کر راندۂ درگاہ کردیا جاتا ہے۔ یعنی ملکی معاشی ترقی۔ اپنے وسائل پر انحصار ۔ اقتصادی نقطۂ نظر۔ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ جاگیردار۔ وڈیرے۔ نو دو لتیے۔ ان کا ساتھ دینے والے مذہبی ٹھکیدار ہی ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ صوبائی اسمبلیاں۔ قومی اسمبلی۔ سینیٹ۔ وفاقی صوبائی قلمدان ان کی تحویل میں ہیں۔ ملک چار دہائیوں سے سماجی۔ اقتصادی۔ سیاسی۔ تہذیبی۔ ثقافتی تنزل کی نذر ہورہا ہے۔ پستیوں میں گرتا جارہا ہے۔ پہلے ہمارا دفاعی بجٹ سب سے زیادہ حصّہ لے جاتا تھا۔ اب کئی دہائیوں سے قرضوں کی ادائیگی حاوی ہوگئی ہے۔ میں۔ آپ۔ اور ہماری اولادیں جو بھی دن رات محنت کررہی ہیں صرف پچھلے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے۔


وہ بھی بروقت ادا نہیں ہوپاتی۔ دفاعی بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے۔ تعلیم کے لیے مختص رقوم میں کمی کی جاتی ہے۔ معاشرے پر مملکت کے اداروں کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے۔ یہ رونا تو سب روتے ہیں کہ روایات اقدار معدوم ہورہی ہیں۔ ہم کاروباری نہیں بن رہے ہیں۔ میڈیا۔ ادب۔ سیاست۔ مذہب۔تعلیم۔ رفاہی خدمات سب پر کمرشلزم حاوی ہے۔ کمرشل ازم ہے اور شوبزنس دکھاوے میں جو کامیاب ہے وہ معاشرے میں معزز بھی ہے اور خوشحال بھی۔ لیکن اس کمرشلزم کے آگے بند باندھنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔کشمیریوں پر مظالم۔ ان کے بہتے لہو۔ عقوبت خانوں میں ان کی تڑپ پر بھی شوبز مقابلے ہورہے ہیں۔سب ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں ہیں۔ آزاد جموں کشمیر کی حکومت کو تسلیم کروانے کا قدم کیوں نہیں اٹھایا جاتا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker