پاکستان میں سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں لیکن یہ طے ہونا باقی ہے کہ شدید انتشار و بحران کے موجودہ دور کے بعد حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے استعفیٰ کا اعلان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے اور یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد کیا کہ عمران خان قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کی حمایت حاصل کرنے کے لئے پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے پر راضی ہوگئے ہیں۔
عثمان بزدار نے خواہ عمران خان کی وفاداری میں استعفیٰ دیا ہو یا پارٹی کو کسی بڑی بدحواسی سے بچانے کے لئے اس عہدہ کی قربانی دی ہو لیکن اس ایک قدم سے وہ اخلاقی طور سے عمران خان پر بازی لے گئے اور ایک بہادر سیاسی رہنما ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ ایک تو انہوں نے انتہائی بحران کے وقت اپنے لیڈر کو تنہا نہ چھوڑنے جیسا جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے، دوسرے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے چند گھنٹے کے اندر ہی پنجاب کی وزارت اعلیٰ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے آئینی پارلیمانی نظام اور اسمبلی میں اپنے خلاف اکثریت کا احترام کرتے ہوئے ذمہ داری اور وقار کا مظاہرہ کیا۔
کہا جا سکتا ہے کہ وہ تو ایک ’کٹھ پتلی‘ تھے اور عمران خان ہی کے اشارے پر اس عہدہ پر براجمان تھے۔ اس لئے ان کی مرضی کے بغیر وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں تھے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن کچھ اسی سے ملتی جلتی صورت حال کا سامنا عمران خان کو گزشتہ تین ہفتوں سے ہے۔ پارٹی میں بغاوت اور اتحادی جماعتوں کی ناراضی کی صورت حال میں انہیں قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں رہی لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس آئینی تنازعہ کو ’کفر و حق‘ کا معرکہ بنا کر ملک میں ایک سیاسی بھونچال برپا کیا ہؤا ہے۔ ان کا سادہ سا پیغام یہ ہے کہ اگر انہیں عہدے سے علیحدہ کیا گیا تو وہ ملک میں امن و امان قائم نہیں رہنے دیں گے۔ اس رویہ کو خود پرستی تو کہا جا سکتا ہے، اس سے قوم و ملک کی بہتری کا پہلو نکالنا ممکن نہیں ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ عثمان بزدار مسلم لیگ (ق) کے علاوہ پارٹی ہی کے اندر جہانگیر ترین گروپ اور علیم خان گروپ کی مخالفت کے بعد اس عہدہ پر فائز نہیں رہ سکتے تھے۔ لیکن پھر بھی وہ عہدے کے لالچ میں لیت و لعل سے کام لے کر کچھ دن توضرور ضائع کرسکتے تھے یا حیل و حجت کے ذریعے کوئی نیا جوڑ توڑ کرنے کی کوشش کرسکتے تھے۔ انہوں نے البتہ بردباری سے سیاسی ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلی کا احترام کرتے ہوئے عہدے سے علیحدہ ہونے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔ تاریخ میں جب بھی اس دور میں رونما ہونے والے واقعات کا ذکر آئے گا تو معاملہ کی جزیات پر تو شاید کوئی محقق ہی غور کرے لیکن عام مطالعہ میں یہی بات نوٹ کی جائے گی کہ عثمان بزدار نے اسمبلی میں قرار داد عدم اعتماد جمع ہونے کے فوری بعد اپنے عہدے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ اس کے مقابلے میں ’فائٹر‘ عمران خان کے بارے میں تاریخ یہی سچائی درج کرے گی کہ انہوں نے آخری لمحے تک قومی اسمبلی میں اپنے خلاف اکثریت کے باوجود کسی بھی قیمت پر اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
یہ فیصلہ آئندہ چند روز میں ہو جائے گا کہ وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام رہتے ہیں لیکن مؤرخ عمران خان کو ذمہ دار سیاست دان کے طور پر یاد نہیں کرے گا۔ بلکہ یہ نوٹ کیا جائے گا کہ پارلیمانی اکثریت کھو دینے کے بعد انہوں نے ہر الزام تراشی سے کام لیا اور وزارت عظمی پر براجمان رہنے کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے سے گریز نہیں کیا۔ اس طرز سیاست کو نہ آج اصول پرستی کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی تاریخ اسے کسی بڑے اور بہادر لیڈر کا طرز عمل قرار دے گی۔
عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت گرانے کے لئے عالمی سازش کی جا رہی ہے اور بیرون ملک سے فنڈنگ ہو رہی ہے لیکن وہ اس کا کوئی ثبوت پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں ’تخت یا تختہ‘ والی نام نہاد ملین ریلی کے دوران انہوں نے اپنے خلاف عدم اعتماد کو بیرونی سازش قرار دیتے ہوئے کسی پراسرار خط کا ذکر بھی کیا جو ان کے بقول اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کے خلاف سازش بیرون ملک تیار کی جا رہی ہے۔ اور اپوزیشن کو تحریک چلانے کے لئے فنڈنگ بھی باہر سے مل رہی ہے۔ کسی جلسے میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لہرا کر اسے ثبوت قرار دینے کا ہتھکنڈا اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ کوئی بھی اسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوگا۔ اگرچہ بیرونی فنڈنگ کا الزام بھی اسی قسم کی سیاسی مشق ہے لیکن وزیر اعظم کے اس بیان کو اگر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کے خلاف منی لانڈرنگ کے معاملہ پر پائی جانے والی تشویش کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی سنگینی کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
جب ملک کا وزیراعظم یہ اعلان کررہا ہو کہ اس کی حکومت گرانے کے لئے ناجائز دولت، ناجائز ذرائع سے ملک میں آرہی ہے تو ایف اے ٹی ایف کو کیسے یقین دلایا جائے گا کہ حکومت کا ملک میں وسائل کی وصولی و ترسیل پر کنٹرول ہے۔ حکومت کا سربراہ اگر اپنی سیاسی ضرورت کے لئے خود کو انتظامی طور سے لاچار ثابت کرنے کی کوشش کرے گا تو اس سے اسے ذاتی طور سے فائدہ ہو یا نہ ہو لیکن اس سے عالمی اداروں میں ملک کی شہرت اور انتظامی صلاحیت کے بارے میں شبہات مزید راسخ ہوں گے۔ ایسے میں ملک دشمنوں کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا الزام دینا بے معنی ہوجاتا ہے۔
یوں تو عمران خان اصول پرستی اور سیاست میں کسی بھی قیمت پر کسی ’غلط ‘ کام کے ساتھ مفاہمت نہ کرنے کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بتاتے ہیں لیکن قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کے پانچ ووٹوں کے لئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پرویز الہیٰ کے سپرد کرنے کا فیصلہ دلیل کرتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں اصول پرستی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ عمران خان نے اپنی سیاسی جدوجہد کو ضرور نیکی و بدی کا معرکہ بنانے اور بتانے کی کوشش کی ہے لیکن کرسی بچانے کے لئے ان کی تگ و دو اور قیمت ادا کرنے کا ہر ہتھکنڈا واضح کرتا ہے کہ عمران خان بھی وہی سیاسی حربے استعمال کرکے اقتدار بچانا چاہتے ہیں جو اپوزیشن لیڈر اور جماعتیں حصول اقتدار کے لئے کرتی رہی ہیں۔
باہمی لڑائی میں ان ہی اداروں کو مضبوط کرنے اور توانائی دینے کا طریقہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے جنہیں جمہوریت دشمن کہا جاتا رہا ہے۔ آج آصف زرداری نے ایک پریس کانفرنس میں جلد ہی ’شہباز شریف‘ کو وزیر اعظم بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس خواہش و وعدہ کی اس بوالعجبی کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے کہ یہ دونوں لیڈر ماضی قریب میں ایک دوسرے کو چور لٹیرا قرار دے کر نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اب نامعلوم عوامل اور ذرائع کی آشیر واد انہیں ایک ساتھ بیٹھنے اور چلنے پر آمادہ کررہی ہے۔ یعنی اس ملک میں جمہوریت کے نام پر جمہوریت کے راستے کو دشوار بنانے کا عمل خود سیاست دانوں کے ہاتھوں ہی انجام پا رہا ہے۔
بظاہر اسٹبلشمنٹ عمران خان کو منظر نامہ سے ہٹانے کے لئے داؤ پیچ آزما رہی ہے۔ اس قیاس میں نہ جانے کس حد تک سچائی ہے لیکن اپوزیشن لیڈر متفقہ طور سے یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ کے ’نیوٹرل‘ ہونے کے بعد ہی تمام اپوزیشن پارٹیاں مل کر حکمران جماعت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی ہیں اور اس کی کامیابی کی امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس دعوے پر یقین کر بھی لیا جائے تو بھی یہ سوال بہرطور موجود رہے گا کہ کسی حکومت کو سال بھر پہلے فارغ کرنے کے لئے اس قدر شدید سیاسی بحران اور بے یقینی پیدا کرنے کا اصل فائدہ کسے ہو گا۔ ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کوئی سیاسی جماعت یا لیڈر اپنی گرہ سے ادا نہیں کرے گا۔ اس کی بھاری قیمت بہر صورت پاکستانی عوام کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔
چوہدری برادران کی شاہ نوازی کے پس منظر میں اب پرویز الہیٰ کا وزیر اعلیٰ بن کر عمران خان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کم از کم یہ تو واضح کرتا ہے کہ درپردہ قوتیں قومی سیاست میں کردار ادا کرنے سے پوری طرح تائب نہیں ہوئیں۔ اب بھی سیاسی نقشہ جمانے کی منصوبہ بندی جلسوں کی تقریروں اور ٹی وی مباحث کی بجائے منظر نامہ سے دور کہیں نیم تاریک کمروں ہی میں کی جا رہی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سے آنے والی پراسرار ملاقاتوں کی خبریں بھی اسی سچ کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ سیاسی بازی گری میں سیاست دان کھلاڑی نہیں ہرکارے بنے ہوئے ہیں۔ اور یہ کردار انہوں نے جانتے بوجھتے قبول کیا ہے۔
ابھی حکومت کے لئے مسلم لیگ (ق) کی حمایت واضح ہوئی ہے۔ حکومت نے ایم کیو ایم کو پسندیدہ وزارت اور پیپلز پارٹی نے سندھ کے اقتدار و اختیار میں حصہ داری کی پیش کش کی ہوئی ہے۔ ابھی تک ایم کیو ایم نے حکومت میں رہنے یا اپوزیشن کا ساتھ دینے کے بارے میں حتمی اعلان نہیں کیا۔ البتہ اس پارٹی کا فیصلہ واضح کرے گا کہ منصوبہ ساز کھیل میں مزید کیسی رنگ آمیزی کرنا چاہتے ہیں۔اس دوران عمران خان اور اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے ایک دوسرے کو ’این آر او‘ نہ دینے کے اعلانات مضحکہ خیز لفظی مشقت کے سوا کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ بہتر ہوتا کہ عمران خان اور اپوزیشن لیڈر ایک دوسرے کو معاف کر دیتے اور مل کر ملکی جمہوریت کو اس خطرے سے بچانے کے لئے کردار ادا کرتے جس کے خلاف زبانیں صرف اس وقت دراز کی جاتی ہیں جب اس کے شعلے اپنا دامن جلانے لگتے ہیں۔ کل تک گوجرانوالہ کی ریلی میں نواز شریف کا خطاب ’بغاوت‘ کی علامت تھا، اب اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں عمران خان کے بے بس اشارے ویسی ہی بے چارگی کا مظہر ہیں۔ ایسے میں نہ ووٹ کی عزت محفوظ ہے اور نہ جمہوری و آئینی عمل کا راستہ سہل رہے گا۔
(بشکریہ کاروان ناروے)

