کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

’’ہوچی منہہ کی لاش کے ساتھ مکالمہ‘‘:ہزار داستان/مستنصر حسین تارڑ

نیم تاریک ہال کے درمیان میں شیشے کے صندوق میں ہوچی منہہ کی حنوط شدہ لاش پڑی تھی۔ اب بھی فوجی وردی میں ملبوس کہ ان امریکیوں کا کیا پتہ اور خاص طور پر ٹرمپ کا کیا پتہ کہ اسے یکدم یاد آ جائے کہ اوہو ان ویت نامیوں نے امریکہ کو سب سے بڑی شکست سے دوچار کیا تھا‘ دنیا بھر میں ذلیل کر کے رکھ دیا تھا تو چلو ان سے بدلہ لیتے ہیں‘ پھر سے ویت نام پر حملہ کر دیتے ہیں، چنانچہ ہوچی منہہ فوجی وردی میں اس لیے ملبوس تھا کہ طبل جنگ بجتے ہی اپنے صندوق سے باہر آ جائے۔ وردی پہننے پر وقت ضائع نہ ہو۔ یہی میری پہلی حنوط شدہ لاش نہ تھی، میں اس سے پیشتر ماسکو کے سرخ چوک لینن مسولیم میں زیر زمین ایسے ہی شیشے کے صندوق میں کامریڈ لینن کو دیکھ چکا تھا۔ تھری پیس سوٹ میں اور ٹائی کی گرہ ہمیشہ کی طرح موٹی اور بھدی۔ فرنچ کٹ ڈاڑھی موم سے اکڑی ہوئی۔ اور اس کے برابر میں تب’’عظیم باپ‘‘جوزف سٹالن کی لاش دبیز مونچھوں سمیت اور فوجی وردی میں کہ اس کی قیادت میں روس نے نازی فوج کی قہر سامانیوں کو شکست دی تھی۔ اگر روسی جنگ میں شریک نہ ہوتے تو پورا یورپ، انگلینڈ اور امریکہ وغیرہ ہٹلر کو شکست نے دے سکتے۔ ہٹلر کے محکوم ہو گئے ہوتے۔ روسی پولینڈ پر نازی حملے کے بعد بادل نخواستہ دوسری عالمی جنگ میں شریک ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ تب موٹا متعصب دیگر اقوام خاص طور پر ہندوستانیوں کو حقارت سے دیکھنے والا ونسٹن چرچل برطانیہ کاوزیر اعظم غسل خانے میں نہا رہا تھا جب اس کے سیکرٹری نے دروازے پر دستک دے کر خبر دی کہ سر سوویت یونین نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے تو چرچل صاحب اپنے بھدے سراپے میں تھل تھل کرتے ہوئے ننگے ہی باہر آ گئے اور خوشی سے رقص کرتے کہنے لگے’’اب روسی ریچھ نازی جرمنی سے لپٹ جائے گا اور اسے مار دے گا۔ ہم جنگ جیت گئے‘‘ اور یہ جوزف سٹالن کی جنگی حکمت عملی کا معجزہ تھا کہ بے شک دو کروڑ کے قریب روسی اس جنگ میں ہلاک ہوئے لیکن یہ جنرل زوفوف کے زیر کمان روسی فوج تھی۔ ذوفوف نے تقریباً تین سو بھاری توپوں سے برلن پر حملے کا آغاز کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب یکبار ان توپوں میں سے گولے نکل کر برلن کے قریب ایک جنگل پر گرتے تھے تو وہ پورا جنگل ان کے دھماکوں سے زمین سے اٹھ جاتا اور پھر تباہ ہو جاتا تھا۔ سپریم کمانڈر سٹالن‘ ذوفوف کو ماسکو کے کریملن میں بیٹھا ہدایات دے رہا تھا اور یہ روسی فوج تھی جو سب سے پہلے برلن میں داخل ہوئی۔ اس کی آمد کی خبر پا کر ایڈولف ہٹلر نے اپنے زیر زمین بنکر میں اپنے سٹاف ‘ ان کے بچوں اور اپنی محبوبہ کے ساتھ خودکشی کر لی اور اس کی لاش جلا دی گئی تاکہ روسیوں کے ہاتھ نہ لگے۔ برلن کی پارلیمنٹ پر یعنی’’رائخ سٹیگ‘‘کے گنبد پر چڑھ کر نازی پرچم نوچ پھینکنے والا اور اس کی جگہ سرخ پرچم لہرانے والا روسی فوجی مسلمان تھا۔ شاید ازبک یا قزاق تھا۔ بے شک سٹالن نے بہت ظلم کئے۔ لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا، زنداں میں ڈالا۔ لیکن یہ اس کا آہنی ہاتھ تھا جس نے نازی جرمنی کا گلا گھونٹ ڈالا۔ وہ آج بھی جارجیا کے لوگوں کا سب سے بڑا ہیرو ہے۔ خروشیف کا عہد آیا تو اس نے سٹالن کو تاریخ بدر کر دیا اس کی لاش کو مقبرے سے نکال کر کریملن کی دیوار کے سائے میں دفن کر دیا۔ لینن اکیلا رہ گیا کچھ برس پیشتر جب میں ماسکو یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لیے گیا تو بے چارہ لینن تنہا پڑا تھا اور مجھے شک ہے کہ اس کے دن بھی تھوڑے رہ گئے ہیں۔ سٹالن اور لینن کے علاوہ میں نے تیسری حنوط شدہ لاش ماؤزے تنگ کی بیجنگ کے تیان من سکوائر کے درمیان ایک سنگی مقبرے میں پڑی دیکھی۔ وہ بھی اپنے خصوصی ’’ماؤکوٹ‘‘ میں ملبوس تھا۔ پاکستانی ادیبوں کا وفد بھی اس کی زیارت کرنے گیا اور اس کے چرنوں میں پھول رکھے اور یہ پھولوں کے دستے بعد میں اٹھا کر پھر سے مقبرے کے باہر برائے فروخت ہو گئے۔ چینی کاروبار میں تو بہت سیانے ہیں۔ روزانہ مقرے کے باہر معمولی سی قیمت پر یہ گلدستے کرائے پر ملتے ہیں۔ چینی زائر اور غیر ملکی سیاح انہیں حاصل کر کے عظیم ماؤکے قدموں میں رکھتے ہیں اور جب انبار زیادہ ہو جاتاہے تو سپاہی آ کر اسے اٹھا لے جاتے ہیں اور وہ پھر سے کرائے کے لیے سج جاتے ہیں۔ تو یہ ہوگئیں کل تین حنوط شدہ لاشیں اور یہ چوتھی ہوچی نعمہ انکل کی تھی۔ چاچا ہو کے بلند سنگ مر مر کے مقبرے کے گرد باغ ہیں ‘ سیر گاہیں اور ریستوران ہیں اور اس کی رہائش گاہ محفوظ ہے۔ وہ صدارتی قصر جہاں ہوچی منہہ امریکہ کے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی کرتا تھا وہ بھی قائم ہے۔ ہوچی منہہ کا ’’دیدار‘‘ کرنے کی خاطر بہت سویرے سویرے بیدار ہونا پڑتا ہے اور اس کا طویل قطار میں شامل ہو کر دھیرے دھیرے رینگنا پڑتا ہے جس میں ویت نام کے طول و عرض سے آئے ہوئے لوگ اپنے عظیم راہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کی خاطر نہایت منظم انداز میں سرکتے جاتے ہیں۔ ہم بھی ان کے ہمراہ سرک رہے تھے اور مقبرہ ہم سے بہت فاصلے پر تھا جب یکدم کہیں سے ویت نامی فوج کے دو افسر مارچ کرتے ہوئے اور سمیر کی ویت نامی سیکرٹری سے کچھ وضاحتیں طلب کیں۔ سمیر نے ایک ڈپلومیٹ کی حیثیت سے حکومت سے درخواست کی تھی کہ ہمیں سرکاری طور پر ہوچی منہہ کے مقبرے میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ ہم قطار سے الگ ہوئے بلکہ کر دیے گئے۔ معزز غیر ملکی مہمان قرار پائے۔ اب ایک وسیع میدان کے درمیان میں ہم مارچ کرتے ہوئے ویت نامی فوجی افسروں کے پیچھے پیچھے چل نہیں رہے تھے بلکہ ان سے قدم ملاتے بھاگ رہے تھے۔ مقبرے کے داخلے پر بھی ہمیں اولیت دی گئی۔ اس نیم تاریک ہال کے درمیان میں شیشے کے صندوق میں انکل ہو کی حنوط شدہ لاش نمائش پر تھی۔ میں نے نوٹ کیا کہ وہ ویت نامی جو قطار میں کھڑے چہلیںکر رہے تھے‘ ہنس کھیل رہے تھے۔ ہال میں داخل ہوتے ہی مؤدب ہو گئے اجازت نہ تھی‘ حکم تھا کہ ٹھہریے رُکیے مت چلتے جائیے ورنہ میں ٹھہر کر ہوچی منہہ سے کچھ گفتگو کرکے پوچھتا کہ اے چگی ڈاڑھی ولے منحنی سے بابے تیرے اور تیری قوم کے پاس وہ کون سی گیدڑ سینگی ہے جس کے جادو سے تونے امریکہ اور فرانس ایسی سپر پاورز کو دھول چاٹنے پر مجبور کر دیا۔ ہمیں بھی کوئی گر بتلا دے۔ کوئی جادو ٹونا سکھا دے کہ ہم بھی اقوام عالم میں معزز ہو جائیں۔ درست نہ تیرے پاس فرانس میں قلعے ہیں‘سرے میں محل ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں ہیرے جواہرات ہیں۔ پارک لین میں لاکھوں ڈالروں کے فلیٹ اور دیگر جائیدادیں ہیں، نہ سعودی عرب میں محلات ہیں، نہ تیرے محلات کے دروازوں پر شیروں کے بچے ہیں اور نہ تونے کبھی ڈھائی کروڑ روپے کی گھڑی کلائی پر باندھی اور نہ ہی تیری رہائش گاہوں کی وسعت اتنی ہے کہ ان پر شہروں کا گمان ہو تو اے چاچا ذرا بتا دے ‘ میرے کان میں وہ اسم اعظم پھونک دے، جس کے جادو سے ہم پاکستانی بھی معزز اور معتبر ہو جائیں وہ تو ایک حنوط شدہ موم کا پتلا تھا۔ اس نے کیا جواب دینا تھا البتہ اسے سنگ مر مر کے اس ہال میں ایک سرگوشی ہوئی۔ عزت نفس‘ عزت نفس‘ مقبرے سے باہر آئے تو وسیع سبزہ زاروں کے درمیان ہوچی منہہ کا گھر تھا۔ اس کا مختصر بیڈ روم۔ چند کرسیاں۔ ایک ہیٹ‘ڈائننگ روم‘ اجلاس روم اور اس کی لائبریری۔ عجب بابا تھا مطالعے کا شوق تھا، لیکن مائوزے تنگ کی مانند سگریٹ بہت پیتا تھا۔ اس کمپائونڈ میں ہنوئی کی ایک اور پہچان صرف ایک ستون پر معلق پگوڈا تھا۔ میں ڈرتے ڈرتے سیڑھیاں طے کر کے اس پر گیا کہ کہیں میرے بوجھ سے وہ مسمار نہ ہو جائے لیکن وہ اپنی ایک ٹانگ پر کھڑا رہا۔ سامنے کے تالاب میں کنول کے سرخ پھولوں تلے پانیوں میں سرخ مچھلیاں تیرتی تھیں۔ سرخ سلطنت کے کنول اور مچھلیاں بھی سرخ تھی وہاں کے شجروں میں پرندے مسلسل کوکتے تھے۔ ویت نامی لڑکیوں کا ایک غول کا غول آیا اور میمونہ کو گھیر لیا اور اس کے ساتھ تصویریں اتروانے لگا۔وہ اس کے لباس کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھتی تھیں کہ یہ کڑھائی اور دل کشی کہاں کی ہے تو وہ کہتی تھی ‘ پاکستان کی سندھ کی۔ تب ہوچی منہہ کی سادہ رہائش گاہ پر جھکے ایک گھنے شجر میں روپوش ایک پرندہ کوکنے لگا۔ عزت نفس۔ عزت نفس!
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker