اہم خبریں

مشرف اشتہاری ہے ، متاثرہ فریق نہیں : اسلام آباد ہائی کورٹ کا وکیل کو سننے سے انکار

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ رکوانے کے لیے تحریک انصاف کی حکومت کی درخواست پر ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز پر مشتمل خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف غداری مقدمے کا فیصلہ سنانے کیلئے 28 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
بی بی سی کے مطابق جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل بینچ نے معاملے کی سماعت شروع کی تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ چونکہ پرویز مشرف ایک اشتہاری ملزم ہیں اس لیے عدالت انھیں متاثرہ فریق نہیں سمجھتی اور قانون کے مطابق مشرف کے وکیل کے دلائل نہیں سنے جا سکتے۔ سماعت کے آغاز سے قبل حکومت کی جانب سے یہ درخواست دائر کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر عدالت میں نہیں آئے اور ان کی جگہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل الیاس بھٹی نے کیس کی پیروی کی۔
پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ’مجھے خصوصی عدالت سے باہر نکال دیا گیا تھا۔‘ اور کہا یہ ان کے 20 سالہ کرئیر میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے اور عدالت یہ بھی نہیں سن سکتے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل الیاس بھٹی کو کہا کہ کل تیاری کے ساتھ آئیں، ہم کسی کے قانونی حق کو ختم بھی نہیں کرنا چاہتے۔
الیاس بھٹی نے کہا کہ انھیں کیس کی فائل آدھے گھنٹہ پہلے ملی ہے اور وہ ابھی یہ نہیں بتا سکتے کہ خصوصی عدالت کو وفاقی کابینہ نے نوٹی فائی کیا ہے۔
اس سے قبل منگل کو ہی لاہور ہائی کورٹ نے بھی سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیے ہیں۔
سابق جنرل پرویز مشرف نے اپنے خلاف سنگین غداری کے الزام میں قائم مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے اور عدالت کے محفوظ کردہ فیصلے کو سنانے سے روکنے کی استدعا کی ہے۔صحافی عباد الحق کے مطابق پرویز مشرف کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل ایک رکنی بنچ نے سماعت کی۔یاد رہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 21 نومبر کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ’عدلیہ کے سامنے کوئی طاقتور نہیں ہے، عدلیہ نے دو وزرائے اعظم کو نااہل قرار دیا جبکہ ایک سابق آرمی چیف کا فیصلہ آ رہا ہے‘۔ تاہم اس کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ عبوری ریلیف کے طور پر خصوصی عدالت کا 19 نومبر کا فیصلہ معطل کیا جائے۔
خیال رہے کہ 19 نومبر کو پرویز مشرف کی مسلسل غیر حاضری کی وجہ بتاتے ہوئے سنگین غداری کیس سننے والی تین رکنی خصوصی عدالت نے اس ٹرائل کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ اب 28 نومبر کو سنایا جائے گا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker