اہم خبریں

سوشل میڈیا پر قدغن ایک نیا سنسر ہے : صحافیوں کا رد عمل

اسلام آباد : پاکستان میں ایک ایسے وقت میں جب نجی ٹی وی چینل اور اخبارات کو مختلف نوعیت کی سینسرشپ کا سامنا ہے وہیں پیر کو فوج کے ترجمان نے سوشل میڈیا کے بعض اکاؤنٹس پر ریاست مخالف پراپیگنڈے پر مبنی ٹویٹس کا الزام بھی لگایا ہے۔اس کے بعد سے سوشل میڈیا اور ابلاغ میں آزادی اظہار رائے کے بارے میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔جہاں ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ فوج کے ترجمان کی جانب سے ’ریاست مخالف پراپیگنڈے‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے سے جہاں صحافیوں کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں وہیں اس بارے میں بات ہو رہی ہے کیا کچھ اداروں سے محب وطنی کا سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہے؟اس فہرست میں شامل بعض صحافیوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس اقدام پر انتہائی تشویش اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور انھیں کسی سے بھی محب وطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضروری نہیں ہے۔کالم نگار عمار مسعود کا ٹوئٹر ہنڈل بھی فوج کے ترجمان کی سلائیڈ میں شامل ہے۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ ریاست مخالف ہونے کا الزام کہیں اور سے نہیں بلکہ فوج کے ترجمان کی جانب سے آ رہا ہے جو کوئی عام بات نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ اُنھیں اپنے بیانیے سے اختلاف قبول نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ غاروں کے تاریک دور میں زندہ ہیں۔‘صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ فوج کے ترجمان کی جانب سے صحافیوں کو ریاست مخالف عناصر قرار دیا جانا انتہائی غیر ذمہ دارنہ اقدام ہے۔انھوں نے کہا کہ ’وفاقی حکومت اور عدالتی حکم کے بغیر آپ کسی کے نام کے ساتھ یہ دھبہ نہیں لگا سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کے یہ غیر ذمہ داری ہے اور ریاست مخالف جرم ہے۔‘انگریزی روزنامہ دی نیوز سے وابستہ صحافی فخر درانی کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بغیر ثبوت کے صحافیوں کا نام ریاست مخالف فہرست میں ڈالا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’اگر انھیں صحافیوں پر ریاست مخالف پراپیگنڈے کا الزام عائد کرنا تھا تو کم سے کم اُن کی تصاویر تو نہ دکھاتے۔‘فوج کی جانب سے ٹویٹر پر کچھ اکاؤنٹس کی جانب سے ملک کے خلاف جعلی پراپیگنڈے میں ملوث ہونے کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے اخبارات اور ٹی وی چینل پر ریاستی اداروں کا کنڑول بڑھتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ ایسے میں لوگ سوشل میڈیا کو اپنی رائے کے برملا اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ’ٹی وی پر پروگرام سینسر کیے جاتے ہیں۔ اخبارات کی تقسیم نہیں ہوتی، کالم چھپتے نہیں ہیں۔ لے دے کر سوشل میڈیا رہ گیا ہے اس پر بھی ہمارے معتبر ادارے کو اعتراض ہونا انتہائی بد قسمتی کی بات ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker