بعض نقادوں نے رومانیت ، رومانویت کے فرق اور رومانس ، رومان کی داستان سرائی ، بغاوت ، نئی دنیا کی تلاش پر اچھا لکھا پھر اختر شیرانی کے قصے چلے حافظ محمود شیرانی جیسے سخت گیر والد کے رقیق القلب بیٹے جو عربی ، فارسی جاننے کے باوجود سادہ دل تھے کوئی سلمی سے جل کے ریحانہ بن کر خط لکھ دیتا ، کوئی یوسف زلیخا کے پردے میں التفات کا اشارہ دے دیتا تو دوچار گیت، سانیٹ اس کے لئے بھی ، پھر جب تک راجہ مہدی علی خاں کی مثنوی ” قہر البیان ” (‘ ادبی دنیا’ مولانا صلاح الدین احمد ) شائع نہیں ہوئی تھی یا میڈیا نے چسکے لے کر محبوب کے ہاتھوں عاشق کے قتل یا شادی کے بعد بھی بولنے والی دلہن پر سسرال کے تشدد کا ذکر بیان نہیں کیا تھا اور بوالہوسی شعار کرنے والے مقبول شاعر کا خواتین سے مخاطب ہو کر یہی کہنا ” میری پہلی اور تیسری محبت ناکام ہوئی تھی۔

” میرے دل میں اس ہفتے اک نیا درد پایا جاتا ہے ” ایک طبقے میں کہرام برپا کر دیتا تھا اس لئے میں عام طور پر ایسے ‘تخلیقی اعترافات’ اور رقیب نما دوستوں کی گواہیوں کے باوجود زیادہ متاثر نہیں ہوتا مگر رضی الدین رضی کا ماجرا جدا ہے اس نے والد کی وفات کے بعد کسی متمول کے در دولت سے وابستہ ہونے کی بجائے محنت کی ، تنگی ترشی دیکھی ، قلم سے روزی کمانے کی راہ میں بار بار بے روزگاری دیکھی مگر خود کو سر بلند رکھا کسی اور کی ڈانٹ ڈپٹ برداشت نہیں کی سوائے اپنی ماں کے ۔ اس نے اپنے نام سے یا قلمی ناموں سے کالم لکھے ، بچھڑنے والوں کے خاکے لکھے مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس کی شاعری مقبول ہوگئی اور اس کے چار شعری مجموعے شائع ہوگئے ۔
انہی میں ‘ستارے مل نہیں سکتے ‘ دوسرا مجموعہ ہے جسے اشاعت اولیں کے 24 برس کے بعد کچھ اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے سو اس کتاب میں دو دیباچے ہیں ، قاضی عابد مرحوم کا لائق توجہ ایک مقالہ ہے ،جاذب قریشی کا بھی مضمون اسی کتاب میں ہے مگر اس مجموعے میں غزلیں بھی ہیں اور ان میں بعض شعر اور مصرعے آپ کو گرفت میں لے سکتے ہیں جیسے
غریب ِشہر کے در پر تو اک دستک ہی کافی ہے
جہاں دہلیز ہوتی ہے وہاں درباں نہیں ہوتے
۔۔ ۔
یہ بستی تو بسا لی ہے اور اب ہم نے مکاں اپنا
بنانا ہے مگر اس سے ذرا ہٹ کر بنانا ہے
۔۔۔۔
دشمن چاہے ہر بستی کی اینٹ سے اینٹ بجادے
رہ جاتا ہے مجھ سا کوئی ایک ‘تباہ’ سلامت
۔۔۔
محبت اور محنت سے اسے حاصل تو کر لیتے
مگر جو لطف آتا ہے ہمیں اس رائیگانی میں
تاہم وہ اس مجموعے میں چاہتا ہے کہ اس کی نظموں پر احباب توجہ دیں
اب ایک تو اس کی وہ نظم جو
پہلے ‘ کنارے نہیں مل سکتے ‘ کے عنوان سے چھپی تھی مگر اب بہتر ترمیم کے ساتھ ‘ ستارے مل نہیں سکتے ‘
"میں جب اس کو بتاتا تھا
کہ میں نے رات کو روشن ستاروں میں تمہارا نام دیکھا ہے
تو وہ کہتی
رضی تم جھوٹ کہتے ہو
ستارے میں نے دیکھے تھے
اور ان روشن ستاروں میں تمہارا نام لکھا تھا
عجب معصوم لڑکی تھی
مجھے کہتی تھی
لگتا ہے کہ اب اپنے ستارے مل ہی جائیں گے
مگر اس کو خبر کیا تھی
کنارے مل نہیں سکتے
محبت کی کہانی میں
محبت کرنے والوں کے
ستارے مل نہیں سکتے ”
اسی مجموعے میں مکالماتی نظمیں بھی ہیں جو رضی کی محبت میں ہمیں پڑھنے اور واہ کرنے پر اکسا سکتی ہیں مگر ہمارے رضی نے ایسی مکالماتی اور ڈرامائی نظموں کی روایت میں اپنا مقام بنانا ہے تو اسے یہ اندازہ ہوگا کہ اقبال ، راشد ، فیض سے لے کر ہمارے اعزاز احمد آذر ، شاہین مفتی، اختر حسین جعفری اور امجد اسلام امجد نے بھی ایسی نظمیں لکھی ہیں جن میں نہ صرف من و تو کے تعلق کو وسعت دی گئی ہے بلکہ خواب ، گاوں ، ستارے اور آنکھ کو کبھی امیج، کبھی تمثیل اور کبھی علامت بنایا گیا ہے ۔
اب رضی کی ایسی نظم دیکھئے جس کے آخری تین مکالمے میں نے جان بوجھ کے حذف کر دئیے کہ نظم اسی صورت میں مکمل ہے
"کہا ‘اس شہر کی گلیوں میں
ننگے پاوں جلتی دھوپ میں
کیا بیچنے آئے؟ ‘
کہا ‘ کچھ خواب لایا ہوں
گھنیری چھاوں کے
اک گاوں کے جس کو ہمیں آباد کرنا ہے ‘
کہا ‘اس گاوں میں اب کون ہے جس کے لئے تم نے
یہ اتنے جھلملاتے ، مسکراتے خواب رکھے ہیں
وہاں اب کون ہے جس کو
کسی برگد ، گھنیری چھاوں کی خواہش جلاتی ہو
وہاں اب کون ہے جس کے لئے کوئی پری زادی
کنویں پر روز آتی ہو ؟
کہا ‘ میں خواب لایا ہوں
مرے خوابوں میں جتنی آرزوئیں مسکراتی ہیں
انہیں پانے کی خاطر شام کے ڈھلتے ہی پنگھٹ پر
وہ پریاں روز آتی ہیں ‘
کہا ‘ تم خواب لائے ہو تو پھر تعبیر بھی لاو
اب اپنے گاوں میں تم صورت تعمیر بھی لاو
کبھی مہکے ہوئے پھولوں کی اک زنجیر بھی لاو
مری تقدیر بھی لاو ‘
کہا ‘ تعبیر لایا ہوں
تری تقدیر لایا ہوں
میں خوابوں میں بہت روشن سی اک تصویر لایا ہوں
اگر تم خواب لوگے ، ساتھ میں تعبیر بھی دوں گا
کرو آباد گاوں ؛صورت تعمیر بھی دوں گا
تمہیں تقدیر بھی دوں گا ‘
اب آپ کتاب منگوانے کے لئے مصنف سے رابطہ کرنا چاہیں تو نمبر لکھ لیں
03006359941
ایک اور نمبر بھی ہے
03186780423
پر ذہن میں رہے کہ اتنی خوبصورت کتاب کی قیمت صرف 800 روپے ہے اگر آپ گردوپیش کے بک کلب کے رکن ہیں تو پھر یہ کتاب آپ کو نصف قیمت پر مل جائے گی
فیس بک کمینٹ

