تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا کالم : سپریم کورٹ میں ریفرنڈم، قومی اسمبلی میں دھما چوکڑی اور لانگ مارچ

گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران سامنے آنے والی تین خبریں قابل غور ہیں۔۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے 26مارچ کو حکومت کی تبدیلی کےلئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ سینیٹ انتخاب کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ترمیم پر بحث کے دوران قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی اور ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔ تیسری اہم ترین اور سب سے دلچسپ خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات سے متعلق ایک معاملہ کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ’نگرانی‘ میں میڈیا کی آزادی پر ایک ریفرنڈم ہؤا جس میں بقول فاضل جج سو فیصد نتیجہ آیا۔ اٹارنی جنرل نے اصرار کے باوجود اس ریفرنڈم میں رائے دینے سے انکار کیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل دو رکنی بنچ پنجاب کے بلدیاتی ادارے توڑنے سے متعلق ایک مقدمہ کی سماعت کررہا ہے۔ اس دوران فاضل ججوں نے ملک میں میڈیا کی آزادی پر تشویش کا اظہار کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ملک کو ایک منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے اور ہر مخالف غدار اور حکومتی حمایت کرنے والا محب وطن بتایا جا رہا ہے۔ جسٹس مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ججوں کو ایسی گفتگو سے احتراز کرنا چاہیے لیکن کیا کریں ملک میں آئیڈیل صورتحال نہیں ہے۔ جج بھی انسان ہیں اور ملک میں ایسی صورت حال کو دیکھ کر کب تک خاموش رہیں۔ اس معاملہ پر اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کے لئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے دو سوالوں کے جواب میں ہاتھ کھڑے کرنے کے لئے کہا۔ ان کا پہلا سوال تھا کہ کیا ملک میں میڈیا آزاد ہے؟ اس سے اتفاق کرنے والے ہاتھ کھڑا کریں۔ اس سوال پر کمرہ عدالت میں موجود کسی صحافی نے ہاتھ کھڑا نہیں کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے دوسرا سوال کیا کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں میڈیا آزاد نہیں ہے تو وہ ہاتھ کھڑا کریں ۔ اس پر کمرہ عدالت میں موجود تمام صحافیوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت میں موجود اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سے استفسار کیا کہ اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے۔ ہاں، نہ یا معلوم نہیں میں سے ایک آپشن کا استعمال کریں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ کیا کوئی چوتھا آپشن نہیں ہے؟ اس طرح بات ایک قہقہہ پر ختم ہوگئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ یہ پہلا ریفرنڈم ہے جس کا نتیجہ سو فیصد آیا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں میڈیا کے حوالے سے کی جانے والی اس گفتگو کا اگرچہ براہ راست زیر سماعت معاملہ سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن فاضل ججوں کا یہ استفسار ایک ناقابل تردید حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ میڈیا اور آزادی رائے کا گلا گھونٹ کر کسی ملک میں جمہوری نظام کامیاب کروانے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت میں موجود صحافیوں سے رائے لے کر اس نکتہ کو بہت اچھی طرح واضح کیا ہے کہ پاکستان میں آزادی رائے کی صورت حال سنگین ہے۔ میڈیا کوسرکاری مؤقف سامنے لانے اور سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں معاشرے میں کیوں کر صحت مند تبادلہ خیال اور جمہوری روایت کا ارتقا ممکن ہوگا۔ میڈیا کے نمائیندے اکثر آزادی رائے پر پابندی اور میڈیا ہاؤسز کو خاص طریقے کی رپورٹنگ اور رائے سازی کے لئے استعمال کرنے کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔ لیکن آج سپریم کورٹ کے ججوں نے اس رائے پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ یہ باتیں اگرچہ ججوں کے ریمارکس تک ہی محدود تھیں اور کسی باقاعدہ فیصلہ کا حصہ نہیں ہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان کے ان دعوؤں کی قلعی ضرور کھولتی ہیں کہ ملک میں میڈیا کواس وقت جو آزادی حاصل ہے، وہ تاریخ کے کسی دور میں بھی حاصل نہیں رہی۔
سیاسی مخالفین کی پگڑیا ں اچھالنے کی جس صورت حال کا حوالہ آج سپریم کورٹ میں دیا گیا ، قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں حکمران جماعت کے نمائیندوں نے اس کا عملی مظاہرہ کیا۔ سینیٹ انتخابات سے متعلق پیش کی گئی ترمیم کے حوالے سے بحث کے دوران اپوزیشن کے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے، اس بات پر اصرار کیا گیا کہ حکومت کی تجویز کردہ ترمیم جس میں سینیٹ انتخاب میں ہاتھ کھڑا کرکے ووٹ دینے کا طریقہ متعارف کروایا جائے گا، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت کے عین مطابق ہے۔ اپوزیشن کے نمائیندوں نے یاد دلایا کہ کسی آئینی ترمیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ اس میں کسی تجویز کو باقاعدہ ترمیمی بل کے طور پر پیش کرنے سے پہلے ، مخالف سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے تاکہ اس کے تمام پہلوؤں پر غور کے بعد اتفاق رائے پیدا کرلیا جائے۔
تاہم شاہ محمود قریشی نے دھمکی آمیز انداز میں اپوزیشن پر واضح کیا کہ اگر وہ پارلیمانی کارروائی میں تعاون نہیں کرے گی تو حکومت کو بھی ’پارلیمنٹ کی کوئی خاص پرواہ نہیں ہے‘۔ کسی منتخب حکومت کے ایک ذمہ دار نمائیندے کی طرف سے ان واشگاف الفاظ میں پارلیمانی طریقہ کی تضحیک ایک افسوسناک سانحہ ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنی غصیلی تقریر میں اعتراف کیا کہ حکومت کو پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے اور یہ ترمیم اپوزیشن کا پول کھولنے کے لئے پیش کی گئی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرح عوام کو پتہ چل جائے گا کہ اپوزیشن اوپن ووٹنگ کے خلاف ہے ۔ اور وہ بدعنوانی اور سازشی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ وزیر خارجہ کی باتوں کا مفہوم یہ تھا کہ حکومت کو اس ترمیم کے قبول ہونے کی نہ تو توقع ہے اور نہ ہی حاجت لیکن وہ اپنی سیاسی ضرورتوں کے لئے آئینی ترمیم کے معاملہ کو استعمال کرنا چاہتی تھی۔ کسی پارلیمانی فورم کی اس سے بڑھ کر اور کیا توہین ہوسکتی ہے۔
مارچ میں متوقع، سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخاب سے قبل حکمرن تحریک انصاف نے شدید بے چینی و بدحواسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اوپن بیلیٹ کی تجویز کے ذریعے وہ اپوزیشن کو بدعنوان ثابت کرنے میں کامیاب رہے گی اور لوگ پاکستان جمہوری تحریک کے احتجاجی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا دیں گے۔ حالانکہ اس معاملہ میں جس طرح حکومت نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران قلابازیاں کھائی ہیں، ان سے حکومت کی پریشانی عیاں ہوئی ہے۔ اور وزیر اعظم کے یہ دعوے کمزور پڑے ہیں کہ عوام پی ڈی ایم کی باتوں میں نہیں آئے اور انہوں نے اپوزیشن کی تحریک کو مسترد کردیا ہے۔ عمران خان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ اقتدار کی بازی میں جس ایک پیج کی سیاست کو اپنی کامیابی کے لئے اہم ترین پتہ سمجھ رہے ہیں، وہ بھی وقت پڑنے پر کام نہیں آئے گا۔ پاکستان کے عسکری ادارے سیاست پر اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کھیل میں اپنے سارے انڈے ایک ہی سیاسی پارٹی کی ٹوکری میں رکھنے کی غلطی نہیں کرتے۔
عمران خان اور تحریک انصاف جس اپوزیشن اتحاد کو ناکام اور بدعنوان سیاست دانوں کی پسپائی قرار دیتے ہیں، اسی پی ڈی ایم نے اب 26 مارچ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ پی ڈی ایم میں اختلافات موجود ہیں اور مختلف معاملات پر فیصلہ ہونے کے بعد نیا مؤقف اختیار کرنے کی نوبت آئی ہے۔ تاہم مختلف الخیال سیاسی پارٹیاں اب تک تمام تر اختلاف کے باوجود آگے بڑھنے اور احتجاج جاری رکھنے کے ایک نکاتی ایجنڈے میں کامیاب ہیں۔ اپوزیشن قیادت باقاعدگی سے ملاقات بھی کرتی ہے اور مختلف سطح پر احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہی حکمران جماعت کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ ملک کے تجزیہ نگاروں کی متفقہ رائے رہی ہے کہ حکومت کو اس سیاسی بحران سے نکلنے کے لئے قومی مکالمہ کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔ لیکن تحریک انصاف نے ضد اور تصادم کی سیاست کوضروری سمجھا۔ اسی لئے پی ڈی ایم مسلسل اس کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
پاکستان جمہوری تحریک دو طرح سے حکومت کے لئے خطرہ ہے۔ ایک: حکومت کی ساری توجہ اپوزیشن کو ناکام بنانے اور بے اعتبار کرنے میں صرف ہورہی ہے اور ملک کو درپیش سنگین مسائل پر اس کی توجہ نہیں ہے۔ عوام کو مسلسل نعروں اور وعدؤں سے بہلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت کو یقین ہے کہ سینیٹ انتخاب کے بعد حالات تبدیل ہوجائیں گے۔ پی ڈی ایم تتر بتر ہوجائے گی اور حکومت باقی ماندہ مدت اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب رہے گی۔ تاہم یہ سب قیاسات ہیں۔ سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کو اگر اپنی پارلیمانی حیثیت کے مطابق ووٹ نہ مل سکے تو حکمران پارٹی میں انتشار کی باتیں زبان زد عام ہوں گی جنہیں مزید الزامات کے ذریعے دبانا مشکل ہوگا۔
دوئم :اپوزیشن کے احتجاج سےنمٹنے کے جوش میں حکمران جماعت کی اہم سیاسی قیادت حکومتی معاملات سے بے خبر ہے۔ ملک کو داخلی، معاشی اور خارجہ شعبوں میں اہم چیلنجز کا سامنا ہے ۔ سیاسی رہنمائی اور روڈ میپ نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے درجے کےلیڈر یا غیر منتخب افراد معاملات چلا رہے ہیں جس سے حکومت کی عمومی صلاحیت کے نقائص واضح ہوتے ہیں۔ سینیٹ انتخاب کا کوئی بھی نتیجہ ہو، موجودہ سیاسی بحران جاری رہنے کی صورت میں عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے حالات سازگار نہیں ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے آج 26 مارچ سے لانگ مارچ کا اعلان کرنے کے علاوہ سینیٹ انتخاب میں اپوزیشن کے متفقہ امید وار لانے اور ایک دوسرے کا مقابلہ نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ سیاسی طور سے یہ فیصلہ لانگ مارچ سے زیادہ مہلک ہوسکتا ہے۔ اس طرح اپوزیشن اپنے ووٹوں کومؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے حکومت کے اس خوف کو حقیقت میں بدل سکتی ہے کہ کہیں وہ سینیٹ کا انتخاب ہار نہ جائے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker