دریائے جہلم کے پل پر ریاستی فورسز مورچہ بند ہیں۔ ان سے ذرا فاصلے پر چار پانچ ہزار’ مسکینوں ‘نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ سوچنا چاہئے کہ کون کس کو زیر کرنے کے درپے ہے اور اس میں کتنے بے گناہوں کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔
تحریک لبیک پاکستان کے تازہ احتجاج میں اب تک آٹھ پولیس والے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اس تصادم کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتیں مظاہرین کی طرف براہ راست فائرنگ کے نتیجہ میں ہوئی ہیں۔ ایک خبر کے مطابق وزیر آباد میں دھرنا دینے والے مظاہرین سے ایک سب مشین گن بھی برآمد ہوئی ہے۔ دوسری طرف ٹی ایل پی کے قائدین نہ تو پولیس پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور نہ ہی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ مسلح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے پولیس افسر گاڑیوں کی ٹکر یا بھیڑ کی وجہ سے مارے گئے۔ دوسری طرف تحریک لبیک کے درجنوں کارکنوں کی ہلاکت کی خبریں دی گئی ہیں۔
لیکن ہمہ قسم میڈیا پر حکومت کے مکمل کنٹرول اور سنسر شپ کی وجہ سے تحریک لبیک کے بارے میں کوئی براہ راست اور تصدیق شدہ خبر سامنے نہیں آسکتی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹی ایل پی ایک کالعدم تنظیم ہے جو دہشت گردی اور فساد پر آمادہ ہے ، اس لئے ان کے بارے میں خبریں فراہم کرنا یا ان کی رائے کو سامنے لانا قومی مفاد کے برعکس ہے اور اس سے غیر ضروری ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان کی مختصر تاریخ کے علاوہ دنیا بھر میں سنسر شپ اور خبروں کے بلیک آؤٹ سے ہونے والے تجربات کی روشنی میں یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ جب بھی کوئی حکومت میڈیا اور صحافیوں کو غیر ذمہ دار سمجھ کر ان پر پابندیاں لگاتی ہے یا انہیں ’بے اعتبار‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ اپنی نیک نیتی کے بارے میں شبہات اور صورت حال کے بارے میں ہیجان اور پریشانی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ حکومت جس کیفیت کو اپنے مکمل کنٹرول سے تعبیر کررہی ہوتی ہے، وہ درحقیقت اس کی کمزوری اور بے بسی کا ثبوت بن جاتا ہے۔
اس دوران حکومت نے دھمکیاں دینے اور شر پسندوں کو ریاستی طاقت سے کچل دینے کے اعلانات کے باوجود مفاہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ سعد رضوی کو اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا اور حکومت مسلسل اسے حراست میں رکھنے پر اصرار کررہی ہے لیکن حکومت ایک ایسی کالعدم تنظیم کے سربراہ کے خلاف کسی قانون کے تحت کوئی مقدمہ عدالت میں لے کر نہیں آئی جس میں اسے سزا دلوا کر تسلیم شدہ طریقہ عدل کے مطابق حراست میں رکھا جاسکے۔ اس کے برعکس ایک طرف تحریک لبیک پاکستان کے عزائم اور ملک دشمن ایجنڈے کے بارے میں بھاشن دیے جاتے ہیں تو دوسری طرف سعد رضوی کو کوٹ لکھپت جیل سے اسلام آباد منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ حکومتی وزرا کے ساتھ مذاکرات میں اپنے گروہ کے نمائیندوں کی قیادت کررہے ہیں۔ ایک زیر حراست شخص کو جب سرکاری طور سے اسلام آباد لایا گیا ہے تو اسے یقینی طور سے سرکاری اعزاز اور پر تعیش سہولتوں کے ساتھ کسی سرکاری ریسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہوگا۔ اس سلسلہ میں کوئی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔ جن صحافیوں یا خبروں تک رسائی کرنے والے عناصر کے پاس سعد رضوی کے قیام اور اس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں درست معلومات موجود ہیں ، وہ حکومتی پابندیوں کی وجہ سے انہیں منظر عام پر نہیں لاسکتے۔ اسی لئے عوام بے یقینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔
عید میلاد النبی کے بعد لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والے تحریک لبیک کے شرکا نے دو ہی اہم مطالبات پیش کئے تھے۔ ایک سعد رضوی کی رہائی اور دوسرے گزشتہ سال نومبر میں حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق فرانسیسی سفیر کی ملک بدری۔ حکومت فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدہ سے فرار چاہتی ہے۔ کبھی وزیر داخلہ یہ کہتے ہیں کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال کر پورے یورپ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب ہوجائیں گے، کبھی وزارت خارجہ سے اعلان کروایا جاتا ہے کہ اسلام آباد میں تو فرانس کس سفیر موجود ہی نہیں ہے، اس لئے یہ مطالبہ غلط ہے اور کبھی شیخ رشید یہ انکشاف کرتے ہیں کہ اگر حکومت یہ معاملہ قومی اسمبلی میں لے بھی گئی تو اپوزیشن اس کے خلاف فیصلہ دے گی۔ اسی لئے قومی اسمبلی میں اس پر غور کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
اس دوران مذاکرات کی خبریں دی گئی ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ کسی پر امن حل پر پہنچنا ہی حکومت کا مطمح نظر ہے لیکن اگر بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کے یہ دعوے اس ضرب المثل کا پرتو بن چکے ہیں جس میں کسی ملازم نے اپنے آجر سے تنخواہ میں اضافہ کا مطالبہ کیا اور کہا ورنہ۔۔۔ آجر کے پوچھنے پر کہ ورنہ کیا؟ تو مجبور ملازم جواب دیتا ہے کہ ورنہ اسی تنخواہ پر کام کروں گا۔ اس وقت وزیر آباد اور دریائے جہلم کے پل کے درمیان تصادم اور محاذ آرائی کی جو صورت بنی ہوئی ہے وہ حکومت کی اسی مجبوری کا اعلان کررہی ہے کہ وہ دھمکیاں تو دیتی ہے لیکن چند ہزار مظاہرین کو منتشر کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہے۔
وزیر داخلہ نے چوبیس گھنٹے پہلے بتایا تھا کہ وہ سعد رضوی اور ٹی ایل پی کے دیگر قائدین سے مل کر معاملات سلجھانے کی کوشش کریں گے۔ آج وزیر داخلہ تو منظر عام پر نہیں آئے البتہ وزیر اعظم عمران خان نے بنی گالہ میں علمائے کرام کے ایک 25 رکنی وفد سے ملاقات کی ہے ۔ اس ملاقات کے بعد وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے بتایا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے حکومت نے 12 رکنی کمیٹی مقرر کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت سود مند رہے گی اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے نمٹا لئے جائیں گے۔ حیرت ہے کہ ٹی ایل پی کے مطالبات میں ایسی کون سی پیچیدگی یا ابہام ہے یا تکنیکی تفصیلات طے کرنے کی ضرورت ہے، جس کی بنا پر ایک بھاری بھر کم سرکاری کمیٹی قائم ہوئی ہے اور یہ کام شیخ رشید، پیر نورالحق یا فواد چوہدری نہیں کرسکتے تھے۔
وزیر مذہبی امور نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ اس سطح پر مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں کیوں کہ اس طرح بات چیت پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ البتہ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومتی کمیٹی اور تحریک لبیک کسی بامقصد نتیجہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
اس حکومتی رویہ سے یہ قیاس کرنا درست ہوگا کہ حکومت کسی بھی طرح ٹی ایل پی کو فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبہ سے دست بردار ہونے کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس کے بدلے سعد رضوی اور دیگر عمائدین کو رہا کرنے، تحریک لبیک کے کارکنوں کے خلاف مقدمات واپس لینے، اکاؤنٹ بحال کرنے اور معاملات طے ہونے کے بعد ٹی ایل پی پر سے پابندی اٹھانے کا لالچ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ تاہم جس طرح حکومت یہ حوصلہ نہیں کرپارہی کہ وہ یہ اعلان کردے کہ گزشتہ سال نومبر میں ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا، اس لئے وہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق کسی قسم کی کوئی بات کرنے پر تیار نہیں ہے۔ اسی طرح تحریک لبیک کے قائدین بھی جانتے ہیں کہ اگر وہ اس مطالبے سے دست بردار ہوگئے تو ان کی ساری پبلک اپیل ختم ہوجائے گی اور یہ گروہ خود ہی اپنی موت آپ مرجائے گا۔
ان حالات میں تحریک لبیک کے چند ہزار کارکن اور ہمدرد وزیر آباد میں خیمہ زن ہیں اور ان کے مد مقابل رینجرز نے کنٹینر کھڑے کرکے اور خندقیں کھود کر کسی بھی طرح لانگ مارچ کو بڑھنے سے روکنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس دوران اسلام آباد سے تحریک کے قائدین کے حتمی اشارے کا انتظار کیا جارہا ہے۔ ٹی ایل پی کے قائدین حکومت کو زیادہ سے زیادہ یہ رعایت دے سکتے ہیں کہ وہ کسی نئی تاریخ یا کسی نئے ’معاہدہ نما وعدے‘ پر متفق ہوجائیں اور ایک نئی مدت میں فرانسیسی سفیر کی واپسی کے بارے میں کسی نئے طریقہ کار پر عمل کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے مظاہرین کو گھروں کو واپس جانے پر آمادہ کیا جائے۔ حکومت اگر ایسے کسی اعلان پر راضی نہیں ہوتی اور مظاہرین رینجرز کی مورچہ بندی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پاتے تو وہ وزیر آباد میں ہی دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ یہ دھرنا بھی حکومت کے لئے فیض آباد دھرنے سے کم پریشانی کا سبب نہیں ہوگا۔ فیض آباد میں دھرنے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے لیکن وزیر آباد میں دھرنا دینے سے جی ٹی روڈ بند رہے گی جہلم سے گجرات تک آباد لاکھوں شہری گھروں میں مقید ہوکر رہ جائیں گے۔
عوام و خواص ان وجوہات سے بخوبی آگاہ ہیں جن کی وجہ سے چند ہزار لوگوں کا ایک گروہ حکومت پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرہا ہے۔ عمران خان بھی اس صورت حال سے بخوبی آگاہ ہوں گے کیوں کہ یہ منظر جب نومبر 2017 میں پہلی بار دیکھنے میں آیا تھا تو دھرنا تو علامہ خادم رضوی نے دیا تھا لیکن ان کے پشت پناہوں میں تحریک انصاف پیش پیش تھی۔ اب بھی دھرنا تو سعد رضوی کے جاں نثار دیے ہوئے ہیں لیکن ان کی کمر ٹھونکنے میں شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے ہاتھ استعمال ہو رہے ہیں۔ حکومت بوجوہ قومی اسمبلی میں امن و امان بحال کرنے اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے مکالمہ کا آغاز نہیں کرتی اور اپوزیشن کسی بھی طرح عمران خان کو عاجز کرکے کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کوئی یہ سمجھنے کو تیار نہیں ہے کہ اس طرح درحقیقت پاکستان کو کمزور ہو رہا ہے۔ عمران خان نے فیض آباد دھرنا کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل کرنے کا عزم کیا ہوتا اور اپنی توپوں کا رخ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف نہ موڑا ہوتا تو وہ اس وقت اس مشکل صورت حال سے دوچار نہ ہوتے جہاں ایک طرف کنواں اور دوسری طرف کھائی ہے۔
پاکستان میں پولیس نظام کو جاننے والے بتا سکتے ہیں کہ معمول کے حالات میں چار پانچ ہزار کے مجمعے کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک تھانیدار کی’ اتھارٹی‘ ہی کافی ہوسکتی ہے۔ وہ چند درجن لیڈروں کو گرفتار کرتا اور چند درجن کو لاٹھیوں سے زد و کوب کرکے باقی لوگوں کو منتشر ہونے پر مجبور کردیتا۔ عمران خان نے گزشتہ دنوں اپنی اتھارٹی کا بہت چرچا کیا ہے ۔ انہیں غور کرنا چاہئے کہ پولیس کو دیکھ منہ چھپانے کی کوشش کرنے والے عناصر ، گولیوں یا پتھروں سے پولیس اہلکاروں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں۔ اور ملک کا ’بااختیار ‘وزیر اعظم کیوں مذاکرات کے ذریعے فیس سیونگ کی سرتوڑ کوشش میں مصروف ہے۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

