تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:سپریم کورٹ کا فیصلہ: نیا آئینی و سیاسی بحران پیدا ہوگا

فلور کراسنگ کے بارے میں آئین کی شق 63 اے کی وضاحت کے لئے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ قابل فہم ہونے کے باوجود ملک میں قانونی اور سیاسی بحران میں اضافہ کرے گا۔ عدالت عظمی کے پانچ رکنی بنچ میں شامل دو فاضل ججوں نے یہ کہہ کر صدارتی ریفرنس پر رائے دینے سے گریز کیا ہے کہ ان کے خیال میں عدالت کو آئین کی نئی توجیہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔
سپریم کورٹ بنچ کے میں شامل تین ججوں نے اکثریتی رائے سے فیصلہ دیا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلہ کے برعکس رائے دینے والے ارکان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔ جبکہ اقلیتی ججوں نے کہا ہے کہ آئین کی شق 63 اے مکمل اور واضح ہے اور اس پر کسی مزید صراحت کی ضرورت نہیں ہے۔ یا تو اسی طریقے پر عمل کیا جائے یا پھر پارلیمنٹ مناسب قانون سازی کے ذریعے پارٹی سے اختلاف کرکے ووٹ دینے والے ارکین کے بارے میں نئی حدود کا تعین کرے۔ البتہ اکثریتی فیصلہ میں بھی تحریک انصاف کے وکیل کی اس دلیل سے اتفاق نہیں کیا گیا کہ پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے والوں کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے۔ عدالت نے کوئی نئی سزا تجویز کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اٹھائے گئے سوال پر عدالت نے مشورہ دیا ہے کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہئے۔
ریفرنس پر سماعت کے دوران بنچ میں شامل تمام فاضل ججوں نے متعدد مواقع پر ریمارکس دیے تھے کہ ایسے آئینی معاملات کو پارلیمنٹ میں طے کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ریمارکس ملک میں پائے جانے والی شدید سیاسی تقسیم کی صورت حال میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں ۔ پارلیمنٹ میں تقسیم کی وجہ سے سیاسی جماعتیں مناسب قانون سازی کرنے کی بجائے ہر مشکل سوال پر عدلیہ سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ یہ صورت حال تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے اس سیاسی مؤقف کے بعد مزید مشکل اور پیچیدہ ہوگئی ہے جس میں وہ خود کو راستی پر قرار دیتے ہوئے اپنے مخالف سیاسی گروہوں کو گمراہ کہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صرف وہی مؤقف درست ہو گا جس میں کوئی گروہ یا ادارہ عمران خان و تحریک انصاف کی رائے کااحترام کرے گا کیوں کہ وہی ’سچ بولتے ہیں اور ٹھیک سوچتے ہیں‘۔ یہ رویہ بنیادی سیاسی و جمہوری اصولوں سے متصادم ہے جن میں کسی ملک کی تمام سیاسی قوتیں شدید اصولی اختلافات رکھنے کے باوجود قومی اہمیت کے سوالات پر کوئی نہ کوئی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
عمران خان کے علاوہ تحریک انصاف کے تمام لیڈروں نے سپریم کورٹ کی رولنگ کو سراہا ہے اور اسے اخلاقی اقدار کی فتح قرار دیا ہے ۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے ایک آئینی و قانونی پہلو سے صدارتی ریفرنس پر غور کیا اور اسی تناظر میں اپنی رائے دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ رکنی بنچ کے تین ارکان نے اکثریت کی بنا پر اگرچہ ایک ایسا فیصلہ دیا ہے جسے تحریک انصاف بظاہر اپنی بہت بڑی سیاسی فتح سمجھ رہی ہے لیکن اسی بنچ میں شامل دو دوسرے ججوں نے اکثریتی فیصلہ سے اختلاف کرتے ہوئے ایک علیحدہ اور متضاد قانونی و آئینی رائے دی ہے۔ یعنی آئین کی شق 63 اے اتنی واضح اور صاف ہے کہ اس پر مزید رائے دینے کا مطلب ہوگا کہ عدالت عظمی نئے سرے سے آئین تحریر کرنے کا کام شروع کردے۔ اگر تحریک انصاف کے ’سچ اور جھوٹ ‘ پرتقسیم کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اختلافی نوٹ لکھنے والے سپریم کورٹ کے دونوں جج ’باطل یا گمراہ ‘ قوتوں کے ترجمان بن گئے ہیں۔ اسی سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے ملک کے سیاسی ہی نہیں بلکہ قانونی و آئینی معاملات کو بھی ایک آسان تفہیم کا پابند کرکے گمراہی اور جھوٹے پروپیگنڈے کے کیسے راستے کشادہ کئے ہیں۔
مارچ کے دوران جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ گرم تھا اور تحریک انصاف کے متعدد ارکان عمران خان کی قیادت اور طرز حکمرانی سے شدید اختلاف کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کے حق میں رائے دینے کے اشارے دے رہے تھے تو وزیر اعظم کی سفارش پر صدر عارف علوی نے سپریم کورٹ کو آئین کی شق 63 اے کی وضاحت کے لئے ریفرنس بھیجا تھا۔ آج سپریم کورٹ نے اسی ریفرنس میں اٹھائے ہوئے سوالوں کا جواب دیا ہے۔ ریفرنس میں عدالت عظمی سے اس آئینی شق کے حوالے سے چار سوال روانہ کئے گئے تھے۔ شق 63 اے کے تحت پارٹی لائن سے انحراف کرکے ووٹ دینے والے ارکان کے خلاف کوئی پارٹی لیڈر الیکشن کمیشن سے شکایت کرسکتا ہے اور جرم ثابت ہونے پر اس کی رکنیت ختم کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس شق میں یہ وضاحت موجود نہیں ہے کہ ایسی صورت میں منحرف ارکان کے دیے گئے ووٹوں کی کیا حیثیت ہوگی۔ سپریم کورٹ کا تازہ فیصلہ سامنے آنے سے پہلے ووٹ شمار کیا جاسکتا تھا لیکن پارٹی قیادت ایسے رکن کو نااہل قرار دلوانے کی کوشش کرسکتی تھی۔
صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کو یہ چار سوال بھیجے سوال بھیجے گئے تھے: 1)کیا شق 63 اے کو محدود طریقے سے سمجھا جائے یا اس کی وسیع تر معانی میں تفہیم ضروری ہوگی۔ 2)کیا منحرف ارکان کا ووٹ شمار ہوگا۔ 3)کیا انحراف کرنے والے ارکان کو نااہل قرار دیاجائے۔ 4) پارٹی لائن سے انحراف کرنے، فلور کراسنگ اور ووٹوں کی خریداری میں ملوث ہونے کے مسائل سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں۔
سپریم کورٹ بنچ کے اکثریتی فیصلہ میں پہلے دو سوالوں کا جواب دیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کے مطابق پارٹی کے حقوق کو بنیادی انسانی حقوق کے مماثل قرار دیتے ہوئے یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ پارٹی قیادت اور ڈسپلن کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ اسی وضاحت کی روشنی میں سوال نمبر 2 کا جواب دیتے ہوئے ایسے ارکان کے ووٹ شمار نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ طریقہ پہلے سے آئین میں درج طریقے سے مختلف ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے ریفرنس کے تیسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ عدالت ایسے ارکان کی سزا کا تعین کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ ملکی پارلیمنٹ اگر ضروری سمجھتی ہے تو قانون سازی کرسکتی ہے کہ منحرف ارکان پر کس قسم کی پابندی عائد ہونی چاہئے۔ اسی طرح سوال نمبر4 پر عدالت نے کوئی رائے نہیں دی اور یہ سوال صدر کو کسی جواب کے بغیر واپس بھیج دیا ہے۔ البتہ فاضل ججوں نے ریمارکس دیے ہیں کہ یہ سوال ’مبہم ، بہت وسیع اور عمومی نوعیت‘ کا ہے۔ اس لئے اس کا جواب نہیں دیا جاسکتا۔
ایک اہم معاملہ پر عدالت عظمی کے اس فیصلہ سے ملکی آئین کی تفہیم کے بارے میں بے یقینی ختم ہونے کی بجائے اس میں اضافہ ہؤا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ متفقہ نہیں ہے اور اکثریتی اور اقلیتی رائے میں واضح تضاد موجود ہے۔ اکثریتی رائے کے مطابق کسی پارٹی کے اکثریتی ارکان کا فیصلہ اقلیتی رائے پر حاوی ہوگا اور کم تعداد میں ارکان کو اختلاف کے باوجود قیادت کے فیصلہ کے مطابق ووٹ دینا پڑے گا۔ اس وضاحت کا اطلاق چار اہم معاملات پر رائے دیتے ہوئے ہوگا۔ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے لئے اعتماد یاعدم اعتماد پر رائے دہی، آئینی ترمیم یا بجٹ تجاویز پر ووٹ دیتے وقت کوئی رکن پارٹی لائن سے اختلاف نہیں کرسکتا بصورت دیگر اس کی رائے کی کوئی وقعت نہیں ہوگی اور اس کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔ اکثریتی رائے میں پارلیمانی نظام میں پارٹی کے حقوق انفرادی بنیادی انسانی حقوق جیسے ہی ہیں۔ اس کے برعکس اقلیتی رائے آئینی شق کو مکمل اور واضح قرار دیتے ہوئے بتا رہی ہے کہ اس میں اضافہ آئین کو از سر نو تحریر کرنے کے مترادف ہوگا جو عدالت عظمی کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ گو کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی حیثیت رکھتا ہے لیکن پارلیمنٹ کو آئینی ترمیم کے ذریعے اس معاملہ کو حتمی طور سے طے کرنا چاہئے تاکہ پارٹی کے اندر اصولی و سیاسی اختلاف کی صورت میں منحرف ارکان کو اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرنے کا کوئی موقع دیا جاسکے۔
سپریم کورٹ نے سیاسی پارٹی کے حقوق کو ضرور مقدم قرار دیا ہے لیکن ریفرنس کے تناظر میں سوالوں کے محدود اسکوپ کی وجہ سے اس فیصلہ میں یہ غور نہیں کیا جاسکا کہ پاکستان میں تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں پر خاندانی کنٹرول یا شخصی تسلط کی صورت حال موجود ہے۔ کوئی پارٹی بھی ارکان کو کھل کر رائے ظاہر کرنے اور اصولی بنیاد پر اختلاف رجسٹر کروانے کا موقع نہیں دیتی۔ اس صورت حال کو ایک جمہوری نظام میں قائم کی گئی ’آمرانہ اکائیاں‘ قرار دیاجاسکتا ہے۔ اگر سیاسی پارٹیوں کے اس کلچر کو پیش نظر رکھا جائے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل فہم نہیں رہتا کہ پارٹی کے حقوق بھی بنیادی انسانی حقوق کی طرح اہم ہیں۔ کسی پارٹی کو یہ حق اسی وقت دیا جاسکتا ہے جب اس کی اپنی صفوں میں جمہوریت ہو، ان کے مالی معاملات شفاف ہوں، قیادت کے منصب پر خاندانی یا شخصی تسلط نہ ہو اور جمہوری تقاضوں کے مطابق اختلاف رائے کو قبول کرنے اور اس کا احترام کرنے کا مزاج فروغ پارہا ہو۔ جب تک یہ حالات پیدا نہیں ہوتے ، اس وقت تک کسی پارٹی کو غیر معمولی آئینی استحقاق دینے کا مقصد جمہوری نظام میں آمرانہ رویوں کی ترویج ہوگا۔ پارلیمنٹ کی تمام سیاسی پارٹیوں کو اس معاملہ پر غور کرکے مستقبل میں کسی بھی مرحلہ پر اس کج روی کو دور کرنے کا انتظام کرنا ہوگا۔
آج جاری ہونے والے فیصلہ سے ملک میں سیاسی بے یقینی بھی پیدا ہوگی۔ اگرچہ مرکز میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد میں تحریک انصاف کے کسی رکن نے ووٹ نہیں دیا تھا لیکن پنجاب میں حمزہ شہباز تحریک انصاف کے منحرف ارکان کے ووٹوں سے ہی اکثریت حاصل کرسکے ہیں۔ اب کہا جارہا ہے کہ ان کا انتخاب کالعدم ہوگیا۔ یہ دعویٰ سادہ بیانی پر استوار ہے کیوں کہ ابھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے اس قانونی پہلو کی وضاحت ہونا باقی ہے کہ کیا اس کا اطلاق ماضی میں ہونے والی رائے شماری پر بھی ہوگا۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ پنجاب میں اگر منحرف ارکان کے ووٹوں کو کالعدم بھی قرار دیا جائے تو ان ارکان کے بغیر تحریک انصاف کو پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں رہے گی اور مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی اور بعض چھوٹے گروہوں کے ساتھ مل کر باقی ماندہ اسمبلی میں اکثریت حاصل ہوگی۔ بہر حال یہ بھی ایک پیچیدہ صورت حال ہوگی جس پر تمام پارٹیاں سیاست کریں گی۔ حالانکہ ملک اس وقت کسی بھی بے یقینی اور کھینچا تانی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ سے البتہ یہ حقیقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آئی ہے کہ جب تک ملک کی سیاسی قوتیں اپنا کردار سمجھنے اور اسمبلیوں کو فعال بنانے کی کوشش نہیں کریں گی، اس وقت تک ملک میں جمہوری راستہ ہموار نہیں ہوسکتا۔ اقتدار تک پہنچنے یا اس سے چمٹے رہنے کی ہوس کے موجودہ ماحول میں سیاسی جماعتیں تعاون سے زیادہ تصادم کے راستے پر گامزن ہیں۔ جب تک پاکستانی عوام اس کا نوٹس نہیں لیتے ، نعروں اور گمراہ کن پروپیگنڈےسے نجات پاکر شخصیت پرستی کے ماحول سے باہر نہیں نکلیں گے، یہ حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker