اسلام آباد میں تقریر کے دوران پولیس افسروں اور ایک خاتون سیشن جج کو دھمکانے کے بعد پیمرا نے عمران خان کی تقاریر کو براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ تحریک انصاف اس پابندی کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن اس دوران عمران خان کے گرد قانون کا شکنجہ سخت ہؤا ہے۔ یہ تقریر کرنے پر ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہےاور اتوار کو لیاقت باغ راولپنڈی میں کی جانے والی تقریر کی یوٹیوب پر براہ راست نشریات روکنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
پولیس کی طرف سے قائم کئے گئے مقدمہ کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی تین روز کے لئے حفاظتی ضمانت منظور کی ہے لیکن کمرہ عدالت میں وکلا اور ججوں کے مکالمہ سے اندازہ کرنا مشکل نہیں تھا کہ عمران خان کے لئے اب جھوٹے پروپیگنڈے کی بنیاد پر زیادہ دیر تک عدالتی ریلیف حاصل کرتے رہنا ممکن نہیں ہوگا۔ شہباز گل کے معاملہ میں عمران خان اور تحریک انصاف نے اندازوں کی کئی غلطیاں کی ہیں۔ پہلے اے آر وائی کے انٹرویو میں فوج میں بغاوت پر اکسانے والا بیان دیا گیا، پھر اس معاملہ میں درپردہ معافی تلافی کی کوشش ہوتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ شروع میں عمران خان یا تحریک انصاف کے دیگر لیڈر شہباز گل کی حمایت میں کھل کر سامنے نہیں آئے بلکہ 13 اگست کو لاہور کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے موجودہ سیاسی صورت حال کا الزام ’ٹیوٹرلز‘ پر عائد کرنے سے بھی گریز کیا۔
روزنامہ دی نیوز نے خبر دی ہے کہ دو روز قبل شہباز گل کے معاملہ میں تحریک انصاف کی قیادت نے غیر مشروط معافی کی پیش کش کی تھی۔ اس حوالے سے کچھ یقین دہانیوں بھی کروائی گئی تھیں۔ تاہم یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ اسی وجہ سے عمران خان نے سخت رد عمل دینے کا فیصلہ کیا ۔ اخبار نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ عمران خان نے ہفتہ کے روز متنبہ کیا تھا کہ وہ اسلام آباد کو ’سیل‘ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ایسا انتہائی اقدام کرنے سے پہلے وہ متعلقہ لوگوں کو فائینل وارننگ دے رہے ہیں۔ انہوں نے خوں ریزی اور خانہ جنگی کا اشارہ بھی دیا تھا۔ تاہم اسی شام پولیس افسروں اور ایک خاتون جج کو دی گئی دھمکی کی وجہ سے حالات دگرگوں ہوگئے ہیں۔ اس خبر کی صداقت سے قطع نظر گزشتہ اتوار کو لاہور ریلی سے لے کرجمعہ کے روز اسلام آباد پولیس کو شہباز گل کا دو روز ہ جسمانی ریمانڈ دینے کے فیصلہ کے دوران کچھ پیش رفت تو ہوئی ہے جس کی وجہ سے عمران خان کسی حد تک مفاہمانہ لب و لہجہ کی بجائے براہ راست اداروں کو چیلنج کرنے پر اتر آئے۔ خاص طور سے شہباز گل پر تشدد اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام سنگین سیاسی غلطی کہا جاسکتا ہے۔
جمعہ کے روز اسلام آباد کی ایک عدالت نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کے حکم پر عمل درآمد مؤخر کرتے ہوئے انہیں پمز ہسپتال بھیجنے اور نیا طبی معائینہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ سوموار کو شہباز گل عدالت میں ہشاش بشاش پیش ہوئے اور ان کے خیال میں انہیں ضمانت مل چکی تھی اور انہیں محض ضابطے کی کارروائی کے لئے عدالت لایا گیا تھا لیکن سیشن جج نے انہیں دوروزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ اطلاعات کے مطابق انہیں پمز ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا اور میڈیکل رپورٹ میں ان پر تشدد کا کوئی ذکر بھی نہیں ہے۔ درحقیقت تحریک انصاف اور شہباز گل کے وکیل اسلام آباد ہائی کورٹ یا سیشن کورٹ میں شہباز گل پر تشدد کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے ورنہ کوئی بھی عدالت اتنی سفاک نہیں ہوسکتی کہ حراست میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے مظلوم کو کسی مناسب کارروائی اور اطمینان کے بغیر پولیس کے حوالے کردیتی۔ آج رونما ہونے والے حالات سے یہی تصویر زیادہ واضح ہوئی ہے کہ شہباز گل پر تشدد اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کا پروپیگنڈا دباؤ بڑھانے اور کسی بھی طرح کوئی ریلیف حاصل کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں یہ سیاسی دنگل ہورہا تھا کہ شہباز گل پر تشدد کے معاملہ پر کون سچ بول رہا ہے۔ عمران خان اور ان کے ترجمانوں کے بیانات درست ہیں یا حکومتی وزیروں کی بات صحیح ہے جن میں کسی بھی قسم کے تشدد سے انکار کیا جارہا تھا۔ دراصل یہ صورت حال یوں بھی ناقابل فہم تھی کہ شہباز گل گزشتہ آٹھ روز سے اڈیالہ جیل میں تھے جو براہ راست حکومت پنجاب کے زیر انتظام ہے جہاں اس وقت تحریک انصاف کے منتخب کروائے ہوئے پرویز الہیٰ کی حکومت ہے۔ وہاں سے انہیں اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے پمز ہسپتال بھیج دیا گیا جہاں سے وہ آج عدالت میں پیش ہونے کے لئے آئے تھے۔ اس لئے عمران خان یا ان کے نمائیندے پر جوش الزامات عائد کرنے کے باوجود یہ ثابت کرنے میں ناکام ہیں کہ شہباز گل پر کس وقت اور کہاں تشدد ہؤا یا انہیں کس مقام پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اگر یہ وقوعہ اڈیالہ جیل میں ہؤا ہے تو خود تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اس پر جواب دہ ہونا پڑے گا لیکن تحریک انصاف کا سارا مقدمہ اسلام آباد پولیس، شہباز حکومت اور نیوٹرلز کے خلاف ہے۔
حیرت انگیز طور پر عمران خان اور تحریک انصاف جس دوران اداروں سے براہ راست ٹکر لینے کی کوشش کررہے تھے ، اس دوران تحریک انصاف ضمنی انتخابات میں مسلسل کامیابی حاصل کررہی تھی جس سے عوام میں پارٹی کی مقبولیت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ اتوار کو کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی کامیابی اس کا ثبوت ہے۔ اس لئے یہ جائزہ لینا ضروری ہوگا کہ عمران خان کو کون سے عناصر تصادم کی طرف جانے پر مجبور کررہے ہیں یا وہ کون سی پریشانی ہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کے لیڈر نے فوج کے علاوہ عدلیہ اور پولیس جیسے اداروں کو براہ راست چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب میں حکومت سنبھالنے کے بعد حمزہ شہباز کے دور میں اس حکومت کا ساتھ دینے کے الزام میں پولیس افسروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ عمران خان نے خود اعتراف کیا ہے کہ انہیں بعض افسروں کے خلاف کارروائی سے باقاعدہ روکا گیا۔ لیکن وہ تمام تر منہ زوری کے باوجود یہ بتانے کا حوصلہ نہیں کرتے کہ انہیں کس نے اقدام کرنے سے روکا۔
تاہم جمعہ کے روز سے فوج کے خلاف ایک بار پھر مہم جوئی کا آغاز کیا گیا اور ہفتہ کو اسلام آباد میں تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے عدلیہ اور اسلام آباد پولیس کو بھی نشانے پر لے لیا۔ پولیس افسروں اور ایک خاتون جج کو شہباز گل کیس میں ان کے کردار پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ شہباز گل کو ہسپتال صحت مند قرار دے رہا ہے۔ اور تحریک انصاف نے ان کے ساتھ ریپ ثابت کرنے کے لئے کوئی میڈیکل رپورٹ حاصل کرنے یا کسی مجاز عدالت جمع کروانے کی کوشش نہیں کی البتہ پروپیگنڈا کے زور پر اہل پاکستان کو ایک اہم سیاسی لیڈر کے خلاف سنگین جرم کے بارے میں خوفزدہ ضرور کیا گیا۔ اسی طرح ایک زیر تفتیش کیس میں پولیس اور عدلیہ کو دھمکی دینے کا طرز عمل اختیار کرکے عمران خان نے فوج کے علاوہ عدالتوں کو بھی اپنے بارے میں طرز عمل تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ گزشتہ روز ہفتہ کی تقریر میں دی گئی دھمکیوں کے الزام میں عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی شقات کے تحت مقدمہ کا اندراج ہؤا ۔ اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف نے یہ شور مچانا شروع کردیا کہ انہیں گرفتار کرنے کی تیاری کی جارہی ہے حالانکہ اسلام آباد پولیس نے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کا فوری طور سے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ لیکن عمران خان نے آج پھر یہ بات دہرائی کہ پولیس رات گئے انہیں گرفتار کرنا چاہتی تھی لیکن تحریک انصاف کے کارکن چوکنا ہوگئے جس کی وجہ سے پولیس ناکام رہی۔
اس کے باوجود عمران خان کے وکیل آج اسلام آباد ہائی کورٹ قبل از گرفتاری ضمانت کے لئے پہنچ گئے۔ ہائی کورٹ نے تین روز کی عبوری ضمانت قبول کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اس معاملہ میں انسداد دہشت گردی عدالت ہی سماعت کرنے اور ضمانت قبول یا مسترد کرنے کی مجاز ہے۔ عمران خان کے وکیل نے اصرار کیا کہ تین دن کا وقت بہت کم ہے۔ اس پر قائم مقام چیف جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’میں اسپیشل جج تعینات کرکے ایک گھنٹے میں متعلقہ عدالت جانے کا آرڈر کردوں گا‘۔ ان ریمارکس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے ہر ادارے کو دھمکا کر اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہے۔ اس سے پہلے وہ فوج پر شدیددباؤ ڈال کر یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ فوج موجودہ حکومت کو ختم کرے اور ’پاکباز اور دیانت دار‘ تحریک انصاف کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کرے۔ اب ججوں کو دھمکیوں کے ذریعے عدالتوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ تحریک انصاف صرف اس وقت تک عدالتی وقار اور خود مختاری کی حامی رہے گی جب تک عدالتیں عمران خان کی مرضی و خواہش کے مطابق فیصلے کرتی رہیں ۔ آج اسلام آباد ہائی میں تحریک انصاف شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف ریلیف لینے گئی تھی۔ یہ ریلیف تو نہیں ملا لیکن قائم مقام چیف جسٹس نے ایک خاتون جج کو دھمکیاں دینے پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا اور اس کی سماعت کے لئے سہ رکنی لارجر بنچ قائم کردیا ہے۔
عمران خان کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کیوں ان غیر قانونی اور غیر سیاسی ہتھکنڈوں سے اپنی عوامی مقبولیت کو غیر مؤثر کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ اگر ان کے کچھ مشیر انہیں یہ بتا رہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ دھمکیوں سے مرعوب ہوکر ان کے سامنے ڈھیر ہوجائے گی تو انہیں ایسے خیر خواہوں سے بچنا چاہئے۔ اور اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹبلشنٹ کے ساتھ اب عدالتوں کو دباؤ میں لاکر وہ کوئی سیاسی مقاصد حاصل کرسکتے ہیں تو شاید یہ پالیسی بھی کامیاب نہ ہوسکے ۔ انہیں دیکھنا چاہئے کہ کراچی میں حاصل کی گئی سیاسی کامیابی کی خبر ان کی پیدا کردہ سنسنی خیزی اور جھوٹے پروپیگنڈا کے افسوسناک ماحول کی نذر ہوگئی۔ یہ کسی سیاسی لیڈر اور پارٹی کے لئے خوش آئیند صورت حال نہیں ہے۔
مرکزی حکومت کی ہدایت پر پیمرا کی عمران خان کی تقاریر براہ راست نشر کرنے پر پابندی اسی ریاستی طرز عمل کا تسلسل ہے جس کے تحت الطاف حسین، نواز شریف، آصف زرداری اور دیگر لیڈروں پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایسے ریاستی استبداد کا نشانہ بنی رہی ہیں اور اس کے خلاف بولتی بھی رہی ہیں۔ اب خود ان پارٹیوں کی حکومت عمران خان کے خلاف ویسی ہی ناانصافی کا سبب بن رہی ہے۔ یہ ہتھکنڈے نہ کل قابل قبول تھے اور نہ اب قبول کئے جاسکتے ہیں۔ ان پابندیوں کا نہ پہلے کوئی فائدہ ہؤا تھا اور نہ اب ان سے کسی بھلائی کی امید ہو سکتی ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

