قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا دوسرا سیشن گزشتہ روز طویل نشست کے بعد ختم ہوگیا۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے میں اگرچہ دہشت گردی کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے اور ملکی معیشت کی بحالی کو قومی سلامتی کے لئے اہم کہا گیا ہے لیکن ان دونوں شعبوں میں بظاہر کسی خوشگوار تبدیلی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ نہ ہی قومی سلامتی کمیٹی کے دو طویل سیشنز کے بعد یہ واضح ہوسکا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی موجودہ لہر سے نمٹنے کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
دوسری طرف خانیوال میں انسداد محکمہ دہشت گردی کے دو اہل کاروں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کسی تحقیق و تفتیش کی ضرورت محسوس کئے بغیر ’پنجاب میں سکیورٹی‘ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ وہ پرویز الہیٰ کی سربراہی میں صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت کو نشانہ بنا رہے تھے۔ وفاقی حکومت کے نمائیندے اس سے پہلے ایسے ہی بیانات خیبر پختون خوا کے میں سکیورٹی کے حوالے سے بھی دیتے رہے ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد آج وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کو فتنہ قرار دیتے ہوئے ملک میں اس گروہ کے مستعد ہونے کی تمام ذمہ داری سابقہ حکومت اور تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان پر ڈالنے کی کوشش کی ۔ جو ان کے بقول ’دہشت گردوں‘ کو پاکستان لاکر آباد کرنے کی کوشش میں ملک میں ایک بار پھر ان عناصر کو قوت فراہم کرنے کا سبب بنے تھے جن کا بقول بلاول بھٹو زرداری قلع قمع کیا جاچکا تھا۔
وزیر خارجہ کا یہ بیان بھی اسی طرح یک طرفہ اور سیاسی نقطہ نظر سے متعصبانہ ہے جیسا کہ خانیوال میں ہونے والے حملہ کے بارے میں رانا ثناللہ کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ان بیانات کو ملک کی سکیورٹی کے حوالے سے ذمہ داری سے فرار کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ اصولی طور سے اس بارے میں دو رائے نہیں ہونی چاہئیں کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے ملک کے تمام اداروں اور صوبائی و وفاقی حکومت میں بہتر اشتراک عمال بے حد ضروری ہے۔ اکیسویں ترمیم کے تحت دہشتگردی کے خلاف بنائے گئے قومی ایکشن پلان میں بھی یہی مقصد حاصل کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اس صورت حال میں صوبائی اور وفاقی حکومتیں اگر اصل مقصد حاصل کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے پر زور دیں گی تو سیاست دانوں پر عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ دگرگوں معاشی حالات اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت حال میں ملکی عوام پہلے ہی شدید پریشانی اور دباؤ کا شکار ہیں۔ اس کے باوجود اگر سیاست دان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے پر الزام لگاکر عوامی ناراضی کا رخ موڑ سکتے ہیں تو وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ عوام یقیناً وفاقی حکومت سے زیادہ توقعات وابستہ کرتے ہیں لیکن پنجاب اور خیبر پختون خوا میں ’حقیقی آزادی اور چوروں لٹیروں سے نجات حاصل‘ کرنے کے نام پر سیاسی عدم استحکام کی جو صورت پیدا کی جارہی ہے، وہ بھی عوام کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے عوام کی عمران خان سے وابستگی میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ آہستہ آہستہ ان پر یہ عقدہ کھلنے لگے گا کہ یہ لڑائی محض اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہورہی ہے ۔ کسی پارٹی کو ملکی سلامتی اور عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے۔
ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف دہشت گرد ریاستی اختیار کو للکار رہے ہوں اور تسلسل سے عسکری اداروں پر حملے کررہے ہوں اور دوسری طرف ملکی معاشی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا کوئی قابل عمل منصوبہ بھی پیش نظر نہ ہو لیکن سیاست دان محض بیان بازی کی حد تک جوش و خروش ظاہر کرکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا کافی سمجھتے ہوں۔ ملک میں مہنگائی کے علاوہ دہشت گردی کے دگرگوں حالات، درحقیقت محض وفاقی حکومت کے لئے ہی دشواری کا سبب نہیں بنیں گے بلکہ اس صورت حال سے پیدا ہونے والی عوامی پریشانی کا رخ عمران خان کی طرف بھی ہوگا۔ ان سے بھی سوال کیاجائے گا کہ عوام کی محبت اور قومی بہبود کے دعوے کرنے کے باوجود انہوں نے اس بحران کے حل میں کوئی کردار ادا کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ اب بھی عمران خان اور ان کی پارٹی کا سرکاری مؤقف یہی ہے کہ کسی طرح ان ذمہ داریوں سے گریز کیا جائے جو عوام کے منتخب نمائیندوں کے طور پر ان پر عائد ہوتی ہیں۔ قومی اسمبلی سے استعفوں کے علاوہ تحریک انصاف دو صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے درپے ہے حالانکہ ان صوبوں میں اقتدار اس کے ہاتھ میں ہے۔
وفاقی حکومت میں شامل جماعتیں ضرور اپنی سیاسی کمزوری کی وجہ سے انتخابات سے گریز کے راستے تلاش کررہی ہیں۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخاب سے فرار کا واقعہ اس کی خصوصی مثال ہے۔ لیکن عمران خان کی اس بات سے بھی اتفاق کرنا ممکن نہیں ہے کہ فوری انتخابات سے ہی موجودہ مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ انتخابات کے نتیجہ میں بھی سیاسی منظر نامہ پر وہی سیاسی لیڈر اور پارٹیاں نمایاں ہوں گی جو اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں۔ اگر عمران خان یا کوئی دوسری پارٹی یہ تصور کررہی ہے کہ انتخابات جیتنے کی صورت میں انہیں مخالف سیاسی عناصر کو ختم کرنے کا لائسنس حاصل ہوجائے گا تو یہ رویہ درحقیقت ملکی مسائل میں کئی گنا اضافہ کا سبب بنے گا۔ موجودہ حکومتی اتحاد اور عمران خان کو یکساں طور سے اس حقیقت سے سمجھوتہ کرنا ہوگا کہ یہ سب پارٹیاں ملکی سیاست میں حقیقت ہیں اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے انہیں ایک دوسرے سے تعاون کرنا پڑے گا۔ بہتر ہوگا کہ اس کا آغاز ابھی سے کردیا جائے۔ سیاست میں نفرتوں کو پالنے سے ملک کی مشکلات میں کمی کا امکان نہیں ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی طویل غور خوض کے باوجود افغانستان کے بارے میں کوئی دوٹوک بات کہنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بعض سرکاری ترجمانوں نے البتہ افغان سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کا حوالہ دیا ہے۔ ان بیانات پر افغان وزارت خارجہ و دفاع کے ترجمانوں نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کو اپنا گھر ٹھیک کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ پاکستان میں سیاسی تصادم کی صورت حال میں افغان حکومت کے ترجمانوں کی ترش روئی قابل فہم ہے۔ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ کابل کی حکومت پاکستان کے سیاسی انتشار میں اپنے لئے گنجائش نکالنے کی کوشش کررہی ہو۔ پاکستانی سیاست دانوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ کسی بھی قیمت پر افغانستان یا کسی بھی دوسری بیرونی طاقت کو ایسا موقع فراہم نہ کریں کہ وہ پاکستانی سیاست کے اختلافات کو اپنی طاقت سمجھنے لگیں۔ بیرونی قوتوں کو بہر حال یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ پاکستانی عوام ، سیاست دان اور عسکری ادارے ملکی سالمیت کو لاحق کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایک پیج پر ہیں۔
ملک کو سکیورٹی اور معیشت کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے لیکن اس دوران تسلسل سے سابقہ حکومت کے دوران تحریک انصاف اور فوج کے تعلقات کے حوالے سے انکشافات و الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ملک کے ایک مشہور کالم نگار و اینکر نے سابق آرمی چیف جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کا نمائیندہ بن کر ایسی تفصیلات عام کرنی شروع کی ہیں جن میں ریاست کے سب ستون برہنہ دکھائی دینے لگے ہیں۔ یہ کہانیاں محض سابق وزیر اعظم اور سابق آرمی چیف کے اختلافات کی داستان ہی نہیں ہے بلکہ تفصیل سے یہ انکشاف بھی کیا جارہا ہے کہ ایک خاص پارٹی کو کامیاب کرانے کے لئے کس موقع پر کون سے جج اور کون سے ادارے کا بازو مروڑا گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں ملکی آئین کے ساتھ کئے گئے کھلواڑ کا علی الاعلان اظہار ہورہا ہے لیکن ملک کا کوئی ادارہ یہ پوچھنے پر آمادہ نہیں ہے کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے اپنی آئین شکنی کا جواب دیں۔
کسی ملک میں جب ادارے مفاد کے خود ساختہ دائرے کا سفر شروع کردیں تو شاید ایسی ہی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ پھر قومی مفاد کی حفاظت کے کسی بھی دعوے کو کیسے قابل اعتبار مانا جاسکتا ہے؟ ان حالات سے البتہ ملک میں لاقانونیت کی حوصلہ افزائی ضرور ہورہی ہے۔ ملک کا ہر باشندہ ضرور یہ سوچتا ہے کہ اگر ملک کا وزیر اعظم، آرمی چیف یا چیف جسٹس آئین جیسی مقدس دستاویز کو نظر انداز کرسکتا ہے تو اسے بھی موقع ملنے پر اپنے فائدے کے لئے تھوڑا سا قانون توڑنے کا ’حق‘ حاصل ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

