فرانس میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری رہا۔ حکومت نے مظاہرین پر قابو پانے کے لئے 45 ہزار پولیس اہلکار متعین کیے ہیں۔ پولیس نے مظاہروں کا زور توڑنے کے لئے دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ اس دوران اقوام متحدہ کے علاوہ انسانی حقوق تنظیموں نے پولیس کے نسلی تعصب کی نشاندہی کی ہے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔ فرانسیسی صدر ایمونیول میکرون نے ملک میں ہمہ قسم تعصب کے خلاف کام کرنے کا عہد کیا ہے۔
مظاہروں کا سلسلہ منگل کو الجزائر النسل ایک سترہ سالہ نوجوان ناہیل کی ٹریفک کنٹرول کے دوران پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس نوجوان کو ٹریفک سگنل پر روکا گیا تھا تاہم ایک پولیس افسر نے اسے گولی مار کر قتل کر دیا۔ اس معاملہ نے یوں بھی سنگین شکل اختیار کرلی کہ پولیس نے فوری طور سے سچ تسلیم کرنے اور غلطی کا اعتراف کرنے کی بجائے اس ہلاکت کی ذمہ داری قتل ہونے والے نوجوان پر ڈالنے کی کوشش کی اور ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ناہیل نے ایک پولیس افسر کو کار سے کچلنے کی کوشش کی تھی جس پر اسے اپنے دفاع میں گولی چلانا پڑی۔ بعد میں سامنے آنے والی ویڈیو میں پولیس کی یہ کہانی جھوٹ ثابت ہوئی۔ اس ایک مثال سے یہ واضح ہوا ہے کہ فرانسیسی پولیس میں نسلی تعصب ایک سنگین مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے نمٹنے کی فوری ضرورت ہے۔
اس وقت دباؤ میں آئے ہوئے صدر میکرون ضرور ہر قسم کے تعصب کے خلاف کام کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ قوم سے خطاب میں فرانسیسی صدر یہ ماننے پر مجبور تھے کہ ’کسی کی جلد کا رنگ، نام یا پتہ معاشرے میں کسی شخص کی کامیابی کے امکانات کو محدود کرتا ہے‘ ۔ تاہم صدر میکرون نے وعدہ کیا کہ معاشرے میں عقیدہ یا پس منظر سے قطع نظر سب کو مساوی حقوق دلوانے کے لئے جد و جہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ نسل پرستی، یہود دشمنی اور امتیازی سلوک کے سوال پر کوئی مفاہمت نہیں کریں گے۔
فرانسیسی صدر کا یہ وعدہ ہیومن رائٹس واچ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں واضح کیا ہے کہ فرانسیسی پولیس عرب نژاد نوجوانوں اور مردوں کے معاملے میں متعصب ہے۔ اس امتیازی رویہ کے خاتمہ کے لئے پولیس اختیارات پر کنٹرول ضروری ہے۔ واضح رہے کہ منگل کے روز پولیس نے ناہیل کو ان اختیارات کے تحت گولی کا نشانہ بنایا تھا جو 2017 میں منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت اسے حاصل ہوئے تھے۔ اس قانون کے تحت پولیس ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آتشیں اسلحہ استعمال کر سکتی ہے۔ پولیس ان اختیارات کو ناجائز طور سے غیر سفید فام نوجوانوں کو ہراساں کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ ناہیل بھی انہیں اختیارات کے غلط استعمال کی وجہ سے قتل ہوا۔ قانون کی منشا تو پولیس کو با اختیار بنانا تھا تاکہ ٹریفک کی سنگین خلاف ورزی کرنے والے اگر حکم عدولی کریں تو انہیں کٹہرے میں لانے کے لئے پولیس کمزور نہ پڑ جائے لیکن اب ظاہر ہو رہا ہے کہ اس سہولت کو فرانسیسی پولیس نے ادارہ جاتی تعصب کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی ترجمان روینہ شمدا سانی نے کہا ہے کہ فرانس کو پولیس میں پائے جانے والے نسلی تعصب کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جنیوا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں فرانس میں ایک افریقی نژاد نوجوان کے بے رحمانہ قتل پر تشویش ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ ہم نے نوٹ کیا ہے متعلقہ پولیس افسر کے خلاف قتل کے الزام میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔ تاہم فرانس کو اس موقع پر فرانسیسی پولیس میں پائے جانے والے نسلی تعصبات سے نمٹنے کے لئے کام کرنا چاہیے۔ اسی طرح پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف تشدد کے استعمال سے گریز کی ضرورت ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ملک بھر میں نوجوان غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں اور پولیس انہیں دبانے کے لئے اپنی پوری طاقت و صلاحیت بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہے فرانسیسی صدر پولیس کی زیادتیوں اور نسلی تعصب کے بارے میں کھل کر بات کرنے اور اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے اقدامات کا اعلان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے اگرچہ ناہیل کے قتل کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی لیکن اسی سانس میں وہ پرتشدد احتجاج کی مذمت بھی کرتے رہے ہیں۔ بالواسطہ طور سے انہوں نے پولیس میں پائے جانے والے ادارہ جاتی تعصب اور نسل پرستی کو غلط کہنے کی کوشش بھی کی۔ گزشتہ روز قوم سے خطاب میں جہاں انہوں نے ہر قسم کے تعصب سے نمٹنے کا عہد کیا تو اس کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ پوری قوم اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہیں اور ان کی خدمات کو سراہتی ہیں۔
فرانسیسی پولیس کے متعصبانہ رویوں کے بارے میں متعدد رپورٹوں میں دستاویزی شواہد جمع کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ دہائیوں پرانا ہے لیکن حکام اس سے نمٹنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت سمیت ماضی میں برسر اقتدار طبقہ کو ملک میں بڑھتی ہوئی انتہاپسند قوم پرست قوتوں کی سیاسی طاقت سے اندیشہ لاحق رہا ہے۔ یہ خطرہ اب تقریباً ہر یورپی ملک کے سیاست دانوں کو درپیش ہے کیوں کہ دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر سیاسی طور سے منظم ہو کر ’جمہوری‘ طریقے سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ اور دیگر اداروں میں پہنچ رہے ہیں۔ کوئی یورپی لیڈر اس چیلنج کا براہ راست مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس سیاسی پروگرام سامنے نہیں لا سکا۔ متعدد لیڈر انتہاپسندی اور معاشرتی انضمام کے درمیان غیر واضح سیاسی پوزیشن اختیار کر کے اپنی سیاسی حیثیت محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ کہ انتہا پسند قوتیں پسپا ہونے کی بجائے طاقت ور ہو رہی ہیں اور ان کے شدت پسندانہ ہتھکنڈوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپ میں اسلامو فوبیا کے مختلف مظاہر اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی نفرت اس کے محض چند پہلو ہیں۔
فرانس میں دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی نیشنل فرنٹ کو اب نیشنل ریلی کا نام دیا گیا ہے۔ اس پارٹی کو تیس فیصد سے زائد لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ 2022 کے صدارتی انتخاب میں اس پارٹی کی صدارتی امیدوار میرین لی پین نے صدر میکرون کے مقابلے میں 41 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس سے فرانسیسی معاشرے میں انتہاپسند عناصر کی سماجی و سیاسی قوت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اتنی کثیر تعداد میں انتہاپسند عناصر سے نمٹنے کے لئے ہر سطح پر اصلاح اور رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ سماجی و سیاسی منظر نامہ میں یہ قیاس نہیں کیا جاسکتا کہ فرانسیسی پولیس میں انتہاپسند اور نسل پرست عناصر موجود نہیں ہیں۔ درحقیقت قوم پرست عناصر شدت سے قومی اداروں میں شامل ہونے کی جد و جہد کرتے ہیں تاکہ اپنے سماجی اثر و رسوخ میں اضافہ کرسکیں۔ یوں بھی فرانس سمیت کوئی بھی ملک ایک تہائی آبادی کے لئے ملکی پولیس میں بھرتی کے دروازے تو بند نہیں کر سکتا۔ تاہم مہذب ملک کے طور پر ان سماجی رویوں کے خلاف کام کرنا بے حد ضروری ہے جو انسانوں کو مساوی حقوق و احترام دینے سے انکار کرتے ہیں۔
فرانس میں موجودہ پر تشدد مظاہروں سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ جب پولیس جیسا قومی ادارہ پروفیشنل طریقے سے اپنی سماجی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو رہا ہو اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہو تو اقلیتی گروہوں میں بھی غم و غصہ اور شدت پسندی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح معاشرے میں انتشار اور بدامنی کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ موجودہ احتجاج صرف ایک نوجوان کے قتل پر اظہار راضی نہیں ہے بلکہ دہائیوں کی محرومیوں اور زیادتیوں کے خلاف غصے کا اظہار ہے۔ تاہم وسیع تر سماجی انتہاپسندی کی وجہ سے یہ احتجاج بھی پر امن نہیں رہ پاتے بلکہ پرتشدد عناصر انہیں مزید انتشار پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اس کا سب سے بدنما مظاہرہ گزشتہ شب پیرس کی ایک نواحی علاقے ’ہے لیزروزز‘ میں دیکھنے میں آیا جہاں بعض بلوائیوں نے علاقے کے مئیر کے گھر پر حملہ کیا، ان کی گاڑی کو آگ لگادی اور ان کی اہلیہ اور دو کمسن بچوں کا پیچھا کرنے کی کوشش کی جو عقبی دروازے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کشمکش میں مئیر کی اہلیہ اور ان کا ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ مئیر ونسنٹ شین برن اس وقت ٹاؤن ہال میں سیاسی اجتماع میں شریک تھے۔ بعد میں انہوں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ’میں گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ہمیں یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا‘ ۔ واقعی فرانس جیسے مہذب معاشرے کو یہ دن اس لئے دیکھنا پڑا کہ لیڈروں نے بروقت متعصبانہ رویوں پر قابو پانے کی کوشش نہیں کی۔ جب معاشروں کو ’ہم اور وہ‘ میں تقسیم کر دیا جائے گا تو ہم آہنگی کی بجائے تصادم اور بھائی چارے کی بجائے نفرت حاوی ہونے لگتی ہے۔
فرانس میں پائی جانے والی سماجی تقسیم بھی اب تکلیف دہ انتہاؤں کو چھو رہی ہے جو صدر میکرون سمیت تمام فرانسیسی لیڈروں کی صلاحیت اور بصیرت کا امتحان ہے۔ انہیں البتہ اس بات سے حوصلہ ملنا چاہیے کہ فرانس میں آباد ہونے والے اقلیتی گروہوں کی اکثریت اب بھی پر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتی ہے۔ گزشتہ روز سترہ سالہ ناہیل کی نماز جنازہ اور تدفین کی رسومات ادا کی گئیں لیکن اہل خاندان نے اس موقع پر میڈیا کو آنے کی اجازت نہیں دی تاکہ اس رپورٹنگ کو مشتعل نوجوانوں میں مزید غصہ و اشتعال پیدا کرنے کے لئے استعمال نہ کیا جا سکے۔ اسی طرح ناہیل کی دادی نادیہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں واضح کیا کہ ’احتجاج میں تشدد کرنے والے ناہیل کی موت کو بہانہ بنا کر توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ نادیہ نے کہا کہ میں لوگوں سے کہتی ہوں ایسا نہ کریں۔ کھڑکیاں نہ توڑیں، اسکولوں اور بسوں پر حملے بند کیے جائیں۔ لوگوں کی مائیں بسوں پر سفر کرتی ہیں۔ وہ باہر بھی جاتی ہیں‘ ۔
ایک غمزدہ معمر ماں کی یہ درد مندانہ اپیل تھی تاکہ وہ جس معاشرے میں آباد ہیں، وہاں امن بحال ہو سکے۔ صدر میکرون کو اس خیرسگالی اور جذبہ کی قدر کرنی چاہیے۔ اسی کی بنیاد پر وہ ملک میں پھیلی ہوئی نفرت اور اداروں میں پائے جانے والے تعصب پر قابو پانے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

