عدلیہ کی آزادی کے لیے شروع ہونے والی تازہ ترین ’جد و جہد‘ کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کرتا چلا جائے گا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط، اس کی سپریم کورٹ کے تمام ججوں تک ترسیل کے علاوہ پراسرار طریقے سے اسے میڈیا میں عام کرنے کے اصل عوامل کیا ہیں۔
اس میں شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک خاص پارٹی کی طرف سے ان چھے ججوں کو مظلوم اور سپریم کورٹ و اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو قصور وار قرار دینے کا طرز عمل پراسرار سیاسی کھیل کا ایک ہتھکنڈا ہے جس میں اب عدلیہ آزاد کروانے کا نعرہ زیادہ شدت سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کی اس شدید ناراضی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس خط کے بعد فل کورٹ کا اجلاس طلب کیا جس کے دو سیشنز میں ججوں کی خود مختاری کے معاملہ پر غور و خوض کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا کہ عدالتی امور میں انتظامیہ کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
اسی طرح چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پوری سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ’متاثرہ و خوفزدہ‘ ججوں کی پشت پر کھڑا ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ان ججوں نے 25 مارچ کو لکھے ہوئے خط میں جو استفسار کیا تھا کہ کیا دباؤ کی صورت حال میں ججوں کو انفرادی طور سے مقابلہ کرنا پڑے گا یا عدلیہ ادارے کے طور پر ان کو قوت فراہم کرے گی؟ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ نے اس سوال کا جواب اپنے کردار اور جوابی ایکشن سے فراہم کیا ہے۔ اس سے متعلقہ ججوں کو یقین ہوجانا چاہیے کہ انہیں اگر کسی مشکل یا پریشانی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اکیلے نہیں ہوں گے بلکہ پوری عدلیہ ان کی پشت پر ہوگی۔ بلکہ عدلیہ کی آزادی کے بارے میں پریشان دیگر عناصر کو بھی یقین ہونا چاہیے کہ ایک ہائی کورٹ کے چھے جج تنہا نہیں ہیں بلکہ پوری سپریم کورٹ پوری آئینی قوت کے ساتھ ان کی پشت پر ہے۔
چیف جسٹس نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے خط منظر عام پر آنے اور اس معاملہ پر پہلے فل کورٹ اجلاس کی صدارت کے بعد وزیر اعظم کو ملاقات کا پیغام بھیجا۔ اگلے روز اپنے ساتھ سینئر ترین جج منصور علی شاہ کی معیت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیر اعظم اور ان کے ہمراہ آئے ہوئے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل پر واضح کیا کہ عدلیہ کی آزادی موجودہ آئینی نظام میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس سے اتفاق کیا، چیف جسٹس کے ساتھ تحقیقاتی کمیشن بنانے پر رضامندی بھی ظاہر کی اور یہ یقین بھی دلایا کہ فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں عدالتوں کو خود مختار بنانے کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے گی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کے علاوہ خط ملتے ہی ان سب ججوں کو رات کے وقت اپنے گھر پر مدعو کیا اور ان سے فرداً فرداً شکایات سنیں اور ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا۔ ملکی عدالتی تاریخ میں ان سارے اقدامات کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ان اقدامات کے ذریعے چیف جسٹس، سپریم کورٹ اور وزیر اعظم نے متفقہ طور سے عدالتوں کے وقار اور احترام کو یقینی بنانے اور مداخلت کے سب ہتھکنڈوں کو مسترد کرنے کا واشگاف اعلان کیا ہے۔ جن عناصر کو دو روز کی مختصر مدت میں کیے گئے ان اقدامات سے عدلیہ کی پوزیشن مضبوط ہوتی دکھائی نہیں دیتی، ان کے بارے میں یقین کیا جاسکتا ہے کہ عدلیہ کی آزادی ان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ خود کو ملک پر مسلط کرنے کے لیے جھوٹ، اشتعال انگیزی اور سیاسی و سماجی عدم استحکام پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔
تحریک انصاف سے وابستہ وکیلوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران میں اپنے اسی منفی اور افسوسناک کردار کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک طرف یہ معزز وکلا عدلیہ کی آزادی کے لئے پریشان حال دکھائی دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی نہ تو عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرنے پر آمادہ ہیں اور نہ ہی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو یہ استحقاق دینے پر تیار ہیں کہ وہ اپنے سامنے آنے والے کسی معاملہ میں قانون و شواہد کی روشنی میں جو مناسب سمجھے فیصلہ صادر کرے۔ کسی بھی دوسرے معاملہ کی طرح عدالتوں کے فیصلوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن بنیادی حقوق، جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جد و جہد کرنے والا کوئی بھی وکیل یا سیاسی کارکن کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کی بنیاد پر اس عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔ البتہ تحریک انصاف کے لیڈروں و قانونی ٹیم کے ارکان رؤف حسن، نعیم حیدر پنجوتھا، شعیب شاہین، علی بخاری اور نیاز اللہ نیازی نے اسلام آباد کی پریس کانفرنس یہی افسوسناک طرز عمل اختیار کیا ہے۔
خط لکھنے والے ججوں کی نیت اور ان کے خط لکھنے کی وجوہات کے بارے میں کوئی بات کہنا یا کوئی اندازہ قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔ کیوں کہ حکومت اور سپریم کورٹ اس معاملہ کی تحقیقات کروانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں تحقیقاتی کمیشنوں کے بارے میں کوئی اچھا تجربہ موجود نہیں ہے لیکن کسی ناخوشگوار تجربہ کے بعد کسی مرض کا علاج ترک نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے شکایت نامہ کے بعد تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ اور قوم کے سامنے حالات و واقعات کی پوری تصویر آ سکے۔ البتہ ان تحقیقات کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کو دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ اگر کسی معاملہ کی تہہ تک ہی نہیں پہنچا جائے گا تو شکایات دور کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کیسے لیے جا سکیں گے؟
تحریک انصاف کے لیڈروں یا وکیلوں کی پریس کانفرنس میں تو اس کے دو ہی حل تجویز کیے گئے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس استعفیٰ دیں کیوں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ’جرات مند‘ ججوں نے ایک خط لکھ دیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف کے خیال میں تمام تر معاملہ کے ذمہ دار جسٹس عامر فاروق اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہیں۔ ان کے نزدیک دوسرا حل یہ ہے کہ ان ’مظلوم‘ ججوں کی تجویز کے مطابق جوڈیشل کنونشن بلایا جائے اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں کام کرنے والے ایک سو کے لگ بھگ ججوں کو اپنی اپنی کہانیاں سنانے کا موقع دیا جائے۔ یعنی تحریک انصاف کے لیے شکایات دور کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ اسے ایک سیاسی طوفان کی بنیاد بنانا ضروری ہے۔ اس پریشان خیالی کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان عناصر کی امید کے برعکس چیف جسٹس نے ججوں کے خط پر فوری رد عمل ظاہر کیا اور اپنے جونئیر ججوں کا حوصلہ بڑھانے اور ان کی پشت مضبوط کرنے کے لیے ہر مناسب اقدام کیا ہے۔ اگر چیف جسٹس چند دن خاموشی اختیار کرتے تو تحریک انصاف کو اپنے نو دریافت شدہ ’ہیرو ججوں‘ کی حمایت میں کچھ تند و تیز بیان بازی کرنے کا موقع ملتا۔ البتہ چیف جسٹس کے اقدامات کے بعد انہیں ضرور یہ اندیشہ بھی ہو گا کہ اگر تحقیقات ہوئیں تو ان سے کوئی ایسا سچ بھی سامنے آ سکتا ہے جس سے تحریک انصاف کے بیانیہ کو فائدہ کی بجائے نقصان ہی پہنچے۔ شاید اسی لیے بے یقینی جاری رکھنا ہی تحریک انصاف کے مفاد میں ہو۔
ایک طرف تحریک انصاف کے 6 لیڈر جو اتفاق سے وکیل بھی ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے استعفوں کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف اسی پارٹی کے ایک ممتاز لیڈر اور وکیل حامد خان چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گویا ججوں کی شکایات پر حکمت عملی کے سوال پر تحریک انصاف کی اپنی صفوں میں انتشار اور عدم اتفاق دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک نکتہ بہر طور واضح ہے کہ پارٹی کسی بھی قیمت پر ججوں کے خط کی صورت میں ہاتھ آئے ہوئے پروپیگنڈے کے اس نادر موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتی کیوں کہ معاملہ طے ہونے کی صورت میں سیاسی بیان بازی اور اشتعال انگیزی کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ تحریک انصاف کی سنجیدہ قیادت کو ملک کی موجودہ صورت حال میں عدلیہ سمیت ملکی اداروں کی سالمیت اور وقار کے حوالے سے سنجیدہ اور قابل عمل طرز عمل اختیار کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر اس پارٹی کو معاشرے کے ’اشتعال انگیز پریشان خیال‘ گروہ سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل نہیں رہے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کا خط متعدد نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ حکومت اور سپریم کورٹ نے اب اس معاملہ کو حل کرنے کا جو عزم کیا ہے، اس پر عمل درآمد کے دوران میں ان تمام سوالوں کے جواب تلاش کیے جائیں گے۔ ان میں سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا لوگوں کو انصاف فراہم کرنے والے ہائی کورٹ کے جج اس قدر کمزور ہیں کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی کسی ’غیر قانونی کارروائی یا دھمکی‘ کی تلافی کے لیے کسی ادارے کو شکایت بھی نہیں کر سکتے؟ ان چھے ججوں کو بھی فرداً فرداً اس بات کا جواب دینا ہو گا کہ انہیں ذاتی طور پر جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہوا تو انہوں نے آپس میں بات کرنے اور چیف جسٹس سے رابطہ کرنے کے علاوہ کیا کیا۔ مثال کے طور پر جب ٹیریان کی ولدیت کے معاملہ کو قابل سماعت قرار دینے کا معاملہ پیش آیا تو دباؤ کا شکار ہونے والے دو ججوں نے پولیس یا متعلقہ ادارے کے کس افسر کو شکایت ارسال کی تھی؟ یا جب یک جج صاحب کو ملنے والی نئی رہائش گاہ کے ڈرائینگ روم میں ’خفیہ کیمرہ‘ ملا تھا تو قانون کے مطابق فوری طور سے کس تھانے میں رپورٹ درج کروائی گئی تھی۔
حیرت انگیز طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج کے طور پر کام کرنے والے چھے لوگوں کا مشترکہ خط ٹھوس شواہد اور اقدامات کی بجائے محض سنی سنائی باتوں، شوکت صدیقی کیس کے حوالے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جیسے حوصلہ سے محرومی کے ذکر پر استوار ہے۔ حالانکہ ماہر قانون کے طور پر ان سب ججوں کو ہر اس واقعہ کو ریکارڈ پر لانے کے لیے فوری طور سے متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کروانے کا اہتمام کرنا چاہیے تھا۔ کوئی ایس ایچ او ہائی کورٹ کے جج کی طرف سے کسی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ ججوں سے زیادہ کون اس بات کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے کہ قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی میں ایف آئی آر ہی بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
البتہ ان ججوں نے پولیس میں شکایت تو درج نہیں کرائی لیکن ایک خط کے ذریعے ملکی سیاست میں تلاطم برپا کرنا ضروری سمجھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملہ کی ہر پہلو سے مکمل تحقیقات کی جائیں۔ ایسی تحقیقات میں خط لکھنے والے ججوں کو بھی اپنی شکایات کے ثبوت فراہم کرنے کا پابند کیا جائے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

