تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔کیا ملک میں جمہوریت کا مقدمہ مضبوط ہورہا ہے؟

گزشتہ جمعہ کو قومی اسمبلی میں ’کورونا بجٹ‘ پیش کرنے کے بعد سے کابینہ کے معزز اراکین نے ملکی معیشت کی بحالی میں حکومت کی اعلیٰ کارکردگی کے قصے سنائے ہیں۔ تحریک انصاف کے زعما عوام کو مسلسل یہ باور کروانے پر مصر ہیں کہ اگر یہ کورونا وبا بیچ میں نہ آجاتی تو پاکستان اس وقت عمران خان کے ’ویژن‘ کے مطابق جنت نظیر خطہ بن چکا ہوتا۔ اس کے بعد ایک’ لیکن‘ ہوتی ہے اور درجنوں عذر تراش کر کچے رنگوں سے بنائی گئی اس تصویر کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ملک کی معاشی صورت حال اور عوام کو پیش آنے والی مشکلات بہر حال سنگین معاملہ ہے۔ چونکہ چنانچہ کے بعد بھی وزیر اعظم کے لائق فائق وزیروں و مشیروں کو اس سنگین حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ کورونا کی وجہ سے پاکستان کے لئے مالی و معاشی حالات مشکل ہوئے ہیں لیکن حکومت کا یہ مؤقف درست نہیں ہے کہ یہ سب کچھ کورونا وائر س کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی تعطل کی وجہ سے وقوع پذیر ہؤاہے۔ ورنہ حکومت کی پالیسیوں نے نہ صرف مالی خسارہ کم کردیا گیا تھا بلکہ فلاح و بہبود کے متعدد منصوبے شروع کئے جاچکے تھے جو بس کامیابی سے ہمکنا ر ہونے ہی والے تھے۔
احساس پروگرام کے تحت متعارف کروائے گئے جن منصوبوں کا ذکر بہت فخرسے کیا جاتا ہے، وہ دراصل خیراتی پروگرام ہے جو اس سے پہلے سال ہا سال سے ’بے نظیر انکم سپورٹ اسکیم ‘ کے نام سے بجٹ کا حصہ تھا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں شروع کئے گئے غریبوں کی مالی امداد کے اس پروگرام کے نام کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں ختم نہیں کیا اور نہ ہی اس کا نام تبدیل کرکے اس پر مسلم لیگی حکومت کا ٹھپہ لگانے کی کوشش کی۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ اگر کوئی حکومت کسی فلاحی/خیراتی پروگرام میں فنڈزمختص کرتی ہے تو اس کا کریڈٹ بھی اسی کو جائے گا۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والی شہید لیڈر یا ان کی پارٹی کے سر اس کا سہرا نہیں باندھا جاسکتا۔ تاہم یہ جاننے کے لئے حکمرانوں میں خود اعتمادی کی ایک خاص سطح کا ہونا ضروری ہے۔ موجودہ حکومت اور وزیر اعظم عمران خان اس صلاحیت سے بے بہرہ ہیں۔
حکومت کے خیراتی فنڈ کو فلاح و بہبود کا منصوبہ کہنا بھی عمران خان اور تحریک انصاف کا ہی کارنامہ ہے۔ عوام کی بہبود کے منصوبہ میں تعلیم کی سہولت، صحت کا نظام اور شہریوں کے تحفظ کے معاملات شامل ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت کا دوسرا بجٹ بھی اس حوالے سے قابل ذکر پیش قدمی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کے ترجمانوں کی طرف سے یہ عذر خواہی سننے میں آرہی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت و تعلیم وفاق کی بجائے صوبوں کی ذمہ داری ہے ، اس لئے وفاقی بجٹ میں ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی توقع نہ کی جائے۔ اس بات کو اگر درست مان لیا جائے تو وفاقی حکومت کو یہ محکمے ختم کردینے چاہئیں۔ کیا وجہ ہے کہ وفاق ایسی سہولتوں پر 100 ارب روپے صرف کرے گا جن کی فراہمی صوبائی حکومتوں کے فرائض میں شامل ہے۔ وفاقی بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لئے جو فنڈز مختص کئے گئے ہیں، وہ بنیادی طور پر تعلیم یاصحت کی سہولتیں فراہم کرنے کی بجائے، ان محکموں کو چلانے کے انتظامی اخراجات پورے کرنےپر صرف ہوں گے۔ اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے بنیادی نقص ہی یہ ہے کہ مرکزی حکومت ان شعبوں سے دست کش ہونے پر آمادہ نہیں ہے جو معاملات صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں۔ اس طرح بھاری بھر کم بیورو کریسی پال کر حکومت کی ’شان‘ میں اضافہ کیا جاتا ہے اور عوام کو اس رقم کے عوض کوئی سہولت بھی حاصل نہیں ہوتی۔
تعلیم و صحت کے شعبے صوبوں کی ذمہ داری قرار دینے کی دلیل یوں بھی قابل قبول نہیں ہے کہ ملک کے تین صوبوں میں تحریک انصاف ہی کی حکومت ہے۔ یہ صوبائی حکومتیں بھی بنیادی عوامی بہبود کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں اسی طرح ناکام ہیں جس کا الزام سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر عائد کیاجاتا ہے۔ سندھ حکومت البتہ مسلسل یہ شکایت کرتی ہے کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کے حصے کے فنڈ میں سے سینکروں ارب روپے منتقل نہیں کرتا۔ اس طرح صوبائی حکومت مناسب منصوبہ بندی اور ترقیاتی پروگرام شروع کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ صوبوں اور مرکز کے درمیان یہی بداعتمادی دراصل ملک میں متعدد مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ عمران خان اس کا یہ حل تجویز کرتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن میں مناسب ترامیم کی جائیں تاکہ وفاقی حکومت مالدار ہو اور اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرسکے۔ یہ تجویز منظور کروانے کے لئے نہ تو تحریک انصاف کے پاس پارلیمانی اکثریت ہے اور نہ ہی ملکی رائے عامہ اسے قبول کرنے پر آمادہ ہے۔ تاہم اگر مارچ 2021 میں منعقد ہونے والے سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف نے ایوان بالا میں اکثریت حاصل کرلی تو وہ ضرور اپنے سیاسی ایجنڈے کے مطابق آئینی ترمیم کروانے کی کوشش کرے گی۔
اس دوران اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خود مختاری کو کورونا وائرس کے حوالے سے سندھ حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔ البتہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 3 ہزار تک پہنچنے والی ہے۔ کورونا اتھارٹی کے نگران وفاقی وزیر اسد عمر پیغام دے رہے ہیں کہ جولائی کے آخر تک ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد دس بارہ لاکھ ہوجائے گی ۔اور پنجاب کی وزیر صحت اپنی حکومت کی ناکامیوں کی ذمہ داری ’جاہل‘ عوام پر ڈال کر خود اپنی ناقص حکمت عملی سے بری الذمہ ہونا چاہتی ہیں۔ ایسے میں ہر زی ہوش کو یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اگر مارچ اپریل کے دوران سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی باتوں کو تسلیم کرلیا جاتا اور لاک ڈاؤن اور ٹیسٹنگ کے حوالے سے وہی طریقہ اختیار کیاجاتا جو عالمی ادارہ صحت تجویز کرتا رہا ہے تو شاید صورت حال پر حکومت کا بہتر کنٹرول ہوتا۔
کورونا وائرس کا پھیلاؤ تو اپنی جگہ تشویش کا سبب ہے ہی لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ یہ وبا ملک میں کس حد تک پھیل چکی ہے اور اس کے عوام کی صحت اور معیشت پر کیا طویل المدت اثرات مرتب ہوں گے۔
ڈنمارک سے شائع ہونے والے اردو آن لائن جریدے ’ اردوہمعصر‘ نے ڈینش نیوز ایجنسی ریٹیزاڈ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حکام نے سرکاری طور پر یہ تصدیق کی ہے کہ 6 جون کو پاکستان سے آنے والی پی آئی اے کی خصوصی پرواز پی کے 8771 میں کم از کم 6 مسافروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں چار مسافروں میں پاکستان سے روانہ ہوتے وقت کورونا وائرس موجود تھا جبکہ باقی دو ان ہم سفروں کی وجہ سے وائرس کا نشانہ بنے۔ اب ڈنمارک کے صحت حکام ان مسافروں کا سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں جو متاثرہ چار مسافروں کے ساتھ بیٹھے تھے یا سفر کے دوران ان لوگوں سے رابطے میں رہے تھے۔ اس سے یہ اندازہ تو کیا جاسکتا ہے کہ جو حکام اپنے ملک سے روانہ ہونے والی خصوصی پرواز پر سوار ہونے والے مسافروں کی صحت کے بارے میں بھی اطمینان کرنے سے قاصر رہے ہوں ، وہ اپنے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے کروڑوں لوگوں میں اس وبا کے پھیلنے کا مکمل نقشہ کیوں کر تیار کرسکتے ہیں۔
کورونا کنٹرول اینڈ کمانڈ سنٹر نے اب ملک کے 20 شہروں کو وبا کا ہاٹ سپاٹ قرار دیا ہے اور وہاں وزیر اعظم کے ’ویژن‘ کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔ ان شہروں میں ملک کے تمام بڑے شہر شامل ہیں۔ گویا ملک کی نصف کے لگ بھگ آبادی والے علاقوں کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ اس کے باوجود سرکاری بیانات میں وزیر اعظم کے غلط اور گمراہ کن فیصلوں کو ’ویژن‘ قرار دینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ملک کو اس وقت جس ہیلتھ ایمرجنسی کا سامنا ہے، اس میں سیاسی نعروں کی بجائے عملی اور ٹھوس فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی سیاست نے کورونا کو بے لگام چھوڑ دیا ہے اور اب وہ پوری آزادی سے پاکستان کے شہریوں کو اپنے نشانے پر لئے ہوئے ہے۔ اب سمارٹ لاک ڈاؤن یا غریبوں کی ہمدردی کے کھوکھلے نعرے لگانے اور اپنی غلط کاریوں کی ذمہ داری عوام پر ٹھونسنے کی بجائے، عقل کے ناخن لینے اور لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مکمل سماجی دوری ہی شاید اس مشکل گھڑی میں انسانی جانوں کے ضیاع کو محدود کرسکتی ہے۔ عمران خان کے ویژن نے تو لاکھوں پاکستانیوں کو کورونا کا نوالہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
جس کورونا کا عذر تراشتے ہوئے عمران خان کے غلط رویے اور حکومتی ناکامیوں کو سنہری یاد گار ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسی وائرس کی صورت حال یہ واضح کررہی ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کس قدر کوتاہ نظر اور ناعاقبت اندیش ثابت ہوئی ہے۔ ملکی قیادت کو جس وقت اپنی تمام تر صلاحیتیں ایک وبا سے عوام کو بچانے کے لئے صرف کرنی چاہئیں تھیں، اس وقت کو بھی اپوزیشن، میڈیا لیڈروں اور ججوں کا ’احتساب‘ کرنے پر صرف کرنا ضروری سمجھا گیا۔ سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا ڈراپ سین جولائی 2007 میں جسٹس (ر) افتخار چوہدری کیس جیسے انجام کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے جج حکومتی وکیل فروغ نسیم کے ساتھ مکالمہ میں واضح کرچکے ہیں کہ اگر اس معاملہ میں حکومت کی بدنیتی پائی گئی تو ریفرنس تو خارج ہوگا ہی لیکن احتساب کا پنجہ موجودہ سیاسی لیڈروں کی گردن تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
ان حالات میں یہ سمجھنا دشوار نہیں ہونا چاہئے کہ کورونا سے ناکامی کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں کوئی ناموافق فیصلہ موجودہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے۔ البتہ یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ کیا ایسی کوئی صورت حال ملک میں عدالتی خود مختاری اور جمہویت کی بالا ستی کے لئے اچھی خبر ہوگی؟
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker