تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:جج بمقابلہ جج: چارج شیٹ کا جواب ضروری ہے

ترقیاتی فنڈنگ کیس میں اختلاف پیدا ہونے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس گلزار احمد کے جاری کردہ عدالتی فیصلہ پر 28 صفحات پر مشتمل ایک اختلافی نوٹ لکھا ہے۔ اور چیف جسٹس گلزار احمد کے یک طرفہ اور اچانک فیصلہ کو غلط قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی فیصلہ اس وقت تک نافذ العمل نہیں ہوتا جب تک بنچ میں شامل تمام جج اس پر دستخط نہ کردیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بقول انہیں نہ تو یہ فیصلہ بروقت دکھایا گیا تھا اور نہ ہی انہوں نے اس پر دستخط کئے تھے حالانکہ وہ اس پانچ رکنی بنچ کا حصہ تھے۔ چیف جسٹس نے اس کیس کی سماعت کے دوسرے ہی روز وزیر اعظم کی وضاحت کو کافی قرار دیتے ہوئے مقدمہ کی کارروائی ختم کردی تھی ۔ بعد میں جاری ہونے والے فیصلہ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو کسی ایسے بنچ کا حصہ نہ بننے کا مشورہ دیا تھا جو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کسی مقدمہ کی سماعت کررہا ہو۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا ’ بنچ کے رکن جسٹس فائز عیسیٰ نے ذاتی حیثیت میں وزیراعظم کے خلاف پٹیشن دائر کر رکھی ہے، اس لئے غیر جانبداری کے اصولوں کا تقاضا ہے کہ انہیں ایسے معاملات کی سماعت نہیں کرنی چاہیے جو وزیراعظم عمران خان سے متعلق ہوں‘۔ چیف جسٹس کی یہ آبزرویشن چونکہ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ کا حصہ ہے، اس لئے اسے ایک حکم کی حیثیت حاصل ہے۔ تاہم اب اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھنے کے بعد چیف جسٹس اور ان کی رائے سے اتفاق کرنے والے دیگر تین ججوں کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔
عدالت عظمی کے ججوں کے درمیان اختلاف کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اکثر بنچ میں شامل جج ایک دوسرے کی قانونی رائے اور نتیجہ سے متفق نہیں ہوپاتے اور اپنی علیحدہ رائے کا اظہار کرتے ہیں جو بعد میں قانون کے طالب علموں کی رہنمائی اور قانونی باریکیوں کو سمجھنے میں معاون ہوتی ہے۔ ایسےاختلاف کی صورت میں اکثریت کے فیصلہ کو ہی سپریم کورٹ یا کسی دوسری اعلیٰ عدالت کا حکم مانا جاتا ہے۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ کسی بنچ میں شامل تمام جج ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں اور اپنا قانونی اختلاف دلائل اور نظائر کےساتھ واضح کریں۔ تاہم ترقیاتی فنڈنگ کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کی اکثریت نے دس روز قبل جو فیصلہ دیا تھا، اس میں اصل موضوع سے ہٹ کر بنچ میں شامل ایک جج کی نیک نیتی اور ارادے پر سوال اٹھاتے ہوئے، اسے وزیر اعظم کے خلاف کسی بھی مقدمہ کی سماعت کے حق سے محروم کردیا ۔ اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس فیصلہ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کے علاوہ اس کے پس پردہ بعض معلومات کو بھی اپنے اختلافی نوٹ کا حصہ بنایا ہے۔ اس تناظر میں اختلافی نوٹ کو محض بنچ کے ایک جج کا اختلاف قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر قانونی طور سے ایسا کوئی فیصلہ جاری نہیں ہوسکتا جس پر بنچ کے تمام ارکان کے دستخط نہ ہوں اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس فیصلہ پر دستخط نہیں کئے تھےتو رجسٹرار سپریم کورٹ کو واضح کرنا چاہئے کہ اس وقت اس فیصلہ کی قانونی حیثیت کیا ہے۔
یہ بات جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اختلافی نوٹ سامنے آنے سے پہلے بھی نوٹ کی جاچکی ہے اور ان سطور میں اس کا ذکر بھی ہو چکا ہے کہ چیف جسٹس کو علی الاعلان اپنے ایک ساتھی جج کے خلاف رائے کا اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اگر کسی معاملہ میں وہ ان کے طریقہ کار یا رائے سے متفق نہیں تھے تو کھلی عدالت میں اعلان کرنے اور اسے اپنے حکم کا حصہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ پاکستان بار کونسل بھی چیف جسٹس کے فیصلہ پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔ اب بنچ کے رکن اور اس فیصلہ کا نشانہ بننے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ کو نہ صرف غیر قانونی اور کسی عدالتی روایت کے برعکس قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ انہیں بنچ کے رکن کے طور پر اس فیصلہ میں شریک کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی اور نہ ہی اکثریتی فیصلہ کو ان کے مطالعہ اور دستخط کے لئے انہیں بھیجا گیا تھا۔
یہ طریقہ دو طرح سے حیران کن تھا۔ ایک تو بنچ کے تمام ارکان کا کسی بھی فیصلہ میں اتفاق یا اختلاف میں شامل ہونا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ دوسرے اس فیصلہ میں اپنے ہی ایک ساتھی جو اس بنچ کا حصہ بھی ہے، کے خلاف فیصلہ صادر کیا گیا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے بقول انہیں اس رائے پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ اختلافی نوٹ میں دو بنیادی اہمیت کے نکات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کی وضاحت کے بغیر سپریم کورٹ کی موجودہ قیادت اور طریقہ کار کے بارے میں ابہام اور شبہات پیدا ہوں گے۔ یہ معاملہ بھی چونکہ سیاسی فیصلوں سے متعلق تھا، اس لئے اس رائے کو بھی تقویت مل سکتی ہے کہ عدالت عظمی دانستہ یا نادنستہ ملکی سیاست میں اپنی اہمیت جتانا چاہتی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ معاملہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے بارے میں وزیر اعظم کے بیان کے بارے میں تھا جسے تمام میڈیا نے وسیع طور سے رپورٹ کیا تھا۔ اس پر روزنامہ ڈان نے اپنے اداریے میں سوال بھی اٹھائے تھے۔ اس معاملہ پر سپریم کورٹ کا دو رکنی بنچ جسٹس عیسیٰ اور جسٹس مقبول باقر پر مشتل تھا اور معاملہ کی سماعت جاری رکھے ہوئے تھا۔ تاہم چیف جسٹس نے ’نامعلوم وجوہات‘ کی بنا پر اس بنچ کو توڑ دیا اور اپنی قیادت میں نیا پانچ رکنی بنچ تشکیل دے دیا۔ نئے بنچ میں جسٹس مقبول باقر کو شامل نہیں کیا گیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کوتاہی پر چیف جسٹس کو خط بھی لکھا جس کا جواب نہیں دیا گیا۔ جسٹس عیسیٰ نے سوال اٹھائے ہیں کہ ایک: جسٹس مقبول باقر کو کیوں نئے بنچ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ دوئم: ایک بنچ جو ترقیاتی فنڈز کی غیر قانونی تقسیم کےسوال پر غور کرنے کے لئے بنایا گیا تھا ، اسے اصل معاملہ کی تحقیقات کروانے کی بجائے ایک معاون جج کی دیانت کے بارے میں رائے دینے پر مجبور کردیا گیا۔ اس طرح ایک جج کو اپنا آئینی فرض ادا کرنے سے روکا گیا۔
اس نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ’ انہوں نے اس بے توقیری پر سپریم کورٹ سے استعفیٰ دینے پر غور کیا تھا مگر پھر خیال آیاکہ یہ معاملہ ایک جج اور اس کے ساتھ پیش آنے والے ناروا سلوک (مِس ٹریٹمنٹ) سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ یہ آئین اور عوام سے متعلق ہے۔ میں خدا کے فضل سے آئین کا تحفظ کرتا رہوں گا‘۔ اختلافی نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بنچوں کی تشکیل کے بارے میں اختلاف کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور اس سے پہلے وکیل کے طور پر آئینی امور پر کام کرتے رہے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ کا سینئیر جج ہونے کے باوجود انہیں آئینی معاملات پر غور کرنے والے بنچوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔ یوں عدالت عظمی کے ایک سینئیر جج نے معاملات کے ایک افسوسناک پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں کہ سپریم کورٹ میں ججوں کے لئے حالات کار اس حد تک خراب کردیے جائیں کہ وہ استعفیٰ دینے پر غور کرنے لگیں۔ عدالت عظمی ملک کےتمام شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کی آخری امید ہے۔ اگر اسی کا ایک معزز جج اپنے ساتھ ہونے والی غیر قانونی حرکت پر ناانصافی کی دہائی دے رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ وہ حالات سے تنگ آکر استعفیٰ دینے پر تیار تھا تو سوچنا چاہئے کہ اس فورم سے عام شہری کیسے انصاف اور متوازن فیصلوں کی امید کرسکتا ہے؟
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے طویل نوٹ میں متعدد اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ معاملہ کا پس منظر بتانے کے علاوہ متعدد قانونی پہلو اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے درج زیل نکات قابل غور بھی ہیں اور ان پر فوری رد عمل اہم ہوگا۔ ایسے معاملات کو محض قانونی اختلاف قرار دے کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے:
1۔ چیف جسٹس گلزار احمد کے تحریری فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں ۔وہ اپنے حکمنامے کا دوبارہ جائزہ لیں اور فیصلے پر نظرثانی کریں۔
2۔ اس فیصلے میں اختیارات سے یوں تجاوز کیا گیا ہے کہ عدالت کے چار ججز نے اپنے ہی ایک ساتھی جج کے خلاف فیصلہ لکھا ہے۔
3۔ فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کر دیا گیا حالانکہ اس سے قبل یہ روایت نہیں رہی کہ اگر کسی جج نے کسی فیصلے پر دستخط نہ کئے ہوں تو اسے اپ لوڈ کردیا جائے۔
4۔ چیف جسٹس نے اس معاملے میں خود ہی بنچ تشکیل دیا۔ انہیں اس کا حصہ بنایا اور حقائق کی چھان بین کے بغیر ہی ایک جج کے خلاف جانبداری کا فیصلہ بھی سنا دیا۔
5۔ چیف جسٹس گلزار احمد کے فیصلے میں حقائق درست نہیں۔ انہوں نے کبھی بھی وزیراعظم کے خلاف پٹیشن دائر نہیں کی، جو پٹیشن دائر کی گئی تھی وہ صدارتی ریفرنس کے خلاف تھی۔
6۔ انہوں نے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے تین ارکان کے خلاف بھی پٹیشن دائر کی تھی۔ اگر یہی فیصلے کا اصول ہے تو پھر میرے خلاف بنچ میں شامل ان تین ججز کو فیصلہ نہیں لکھنا چاہئے تھا کیونکہ پھر وہ بھی جانبدار تصور ہوں گے۔
7۔ وزیراعظم کے عہدے اور وزیراعظم کی ذات کو آپس میں نہیں ملایا جا سکتا ہے۔ اگر اس طرح کسی جج کو مقدمات سننے سے روکا جائے تو پھر تو وہ چند نجی نوعیت کے تنازعات تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گا کیونکہ فوجداری مقدمات میں بھی وفاق پارٹی ہوتا ہے اور وہ ایسے مقدمات بھی نہیں سن سکے گا۔
8۔ وہ عمران خان کو ذاتی حیثیت سے نہیں جانتے ہیں اور نہ وزیر اعظم کے معاملہ میں جابندار ہیں۔ ساتھی ججز کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ کسی کے دل کا احوال بتائیں کہ وہ جانبدار ہے یا نہیں۔
9۔ چیف جسٹس نے ثبوت اور اپیل کا موقع دیے بغیر ایک جج پر جانبداری کا الزام عائد کیا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس طرح کے فیصلوں سے عدلیہ کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔
10۔ چیف جسٹس نے یک طرفہ طور سے پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا۔ جو ان کی طرف سے سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججز کے خلاف عوامی سطح پر عدم اعتماد تھا۔ اس سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی اور ان کی بے توقیری کی گئی۔
11۔ سینیٹ انتخابات سے قبل وزیراعظم نے اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا کہا جبکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ووٹوں کی خرید و فروخت کا کہہ رہی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے انتخاب سے متعلق بھی بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہم قانونی سوالات اٹھائے ہیں اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا ہے۔ یہ اختلافی نوٹ ملک کے نظام عدل اور چیف جسٹس کے خلاف چارج شیٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے جواب اور اصلاح سے ہی سپریم کورٹ کی ساکھ بحال ہوسکتی ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker