تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:صدر بائیڈن کا اعتراف شکست اور طالبان کا اعلان مصالحت

امریکی صدر جو بائیڈن اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل ینس ستولتن برگ نے افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کا دفاع کرتے ہوئے وہاں رونما ہونے والے ڈرامائی حالات کی ذمہ داری افغان سیاست دانوں اور فوج پر عائد کی ہے۔ اس دوران طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ طالبان داخلی یا خارجی طور سے کسی کو دشمن نہیں بنانا چاہتے۔ تمام ملکوں کے سفارت کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا اور خواتین کو شرعی قواعد کے مطابق کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔
ایک طرف طالبان لیڈر تسلسل سے دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ افغانستان پر ان کے قبضہ کے بعد کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ طالبان کے امیر کے حکم پر سرکاری ملازمین، افغان فورسز کے اہلکاروں اور سابقہ حکومت یا ملک پر قابض غیر ملکی فوجوں کے ساتھ کسی بھی حیثیت میں تعاون کرنے والے تمام افغان باشندوں کو عام معافی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے صراحت سے کہا کہ کسی کو یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی ان کے دروازے پر دستک دے گا اور انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جائے گا۔ ذبیح اللہ مجاہد آج پریس کانفرنس سے پہلے منظر نامہ سے غائب رہتے تھے۔ آج انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہماری جنگ آزادی اور غیر ملکی افواج کے قبضہ کے خلاف تھی۔ انخلا کے بعد ہماری کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ہم پوری دنیا سے تعاون کی امید کرتے ہیں۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ طالبان کو اگر پر امن طریقے سے حکومت قائم کرنا ہے اور اسے چلانے کا اہتمام کرنا ہے تو انہیں مغربی ممالک کے مالی اور سفارتی تعاون کی ضرورت ہوگی۔ امریکہ سمیت بیشتر ممالک یہ اعلان کرچکے ہیں کہ اگر طالبان نے مسلمہ انسانی حقوق کا احترام کیا اور خواتین کو گزشتہ بیس برس کے دوران ملنے والے حقوق سلب نہ کئے گئے تو نئی حکومت کو تسلیم کرلیا جائے گا۔ طالبان اس حوالے سے متعدد بار مختلف اعلان کرتے رہے ہیں ، اس کے باوجود ملک بھر میں اور خاص طور سے کابل میں سراسیمگی اور خوف کا ماحول ہے۔ معمولات زندگی میں مصروف رہمنے والی خواتین گھروں میں بند ہیں اور سابقہ حکومت یا امریکی و اتحادی افواج کے ساتھ کام کرنے والے لوگ یا تو روپوش ہوچکے ہیں یا مغربی ممالک سے توقع کررہے ہیں کہ انہیں ملک سے نکالنے کا انتظام کیاجائے گا۔
اس دوران کابل ائیرپورٹ پر گزشتہ روز رونما ہونے والے دلدوز مناظرکے بعد اب مریکی افواج نے مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس طرح افغانستان سے غیرملکیوں اور انتقام کے خوف میں مبتلا افغان باشندوں کے انخلا کا کام پوری سرگرمی سے جاری ہے۔ دوحہ میں طالبان کے نمائیندوں اور امریکی سنٹرل کمانڈ کے درمیان رابطہ ہؤا ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان جان کربی نے ملاقات کے بارے میں کہا ہے کہ ’یہ معتدل ماحول میں ہوئی اور بات چیت جارحانہ نہیں تھی‘۔ طالبان نے ابھی تک غیرملکیوں اور افغان شہریوں کے انخلا میں مداخلت نہیں کی ہے ۔ تاہم امریکی صدر اور ترجمانوں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی فوجیوں پر حملہ ہؤا یا انخلا کو روکنے کی کوشش کی گئی تو اس کا پوری فوجی قوت سے جواب دیا جائے گا۔ کابل سے غیر ملکی نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے بظاہر طالبان انخلا میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سبب نہیں بنے ہیں اور باالواسطہ طور سے امریکیوں سے تعاون کررہے ہیں۔ تاہم کابل میں امریکی و اتحادی افواج اور طالبان کے درمیان رابطہ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
گزشتہ شب امریکی صدر جو بائیڈن نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پوری قوت سے افغانستا ن سے انخلا کے فیصلہ کا دفاع کیا اور کہا کہ اس کے سوا کوئی دوسرا فیصلہ جنگ کو طول دینے کے مترادف ہوتا اور وہ بطور صدر ایسا کوئی فیصلہ قبول نہیں کرسکتے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ کابل پر طالبان کا قبضہ ، سیاسی قیادت کا ملک سے فرار اور افغان فورسز کی ناکامی کے بارے میں سارے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کی حفاظت کرنا اور وہاں کے عوام کو کوئی نظام دینا امریکہ کا مقصد نہیں تھا ، یہ کام افغان لیڈروں اور فوج کو کرنا تھا۔ اگر وہی اس مقصد میں ناکام رہے ہیں تو امریکہ سے توقع نہیں کرنی چاہئے کہ وہ افغان عوام کی حفاظت کے لئے اپنے فوجی مروائے گا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل ینس ستولتن برگ نے بھی آج ایک پریس کانفرنس میں انہی خیالا ت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغانستان سے فوجیں نکالنے کا فیصلہ سب نے مل کر کیا تھا ۔ گو کہ یہ مشکل فیصلہ تھا لیکن اس کا متبادل مزید فوج بھیجنا اور جنگ کو طول دینا ہوتا۔
صدر جو بائیڈن اور ینس ستولتن برگ نے اگرچہ موجودہ حالات کی ذمہ داری سے دست بردار ہونے کی کوشش کی ہے اور افغان قیادت اور فوج کو اس ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا ہے لیکن یہ وضاحت امریکہ اور یورپ کی رائے عامہ کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ امریکہ میں ری پبلیکن پارٹی کے لیڈر افغانستان کے بحران کو ویت نام سے بدتر ناکامی قرار دے کر اس کی پوری ذمہ دار ڈیموکریٹک صدر پر عائد کررہے ہیں۔ یورپ میں بھی اس فیصلہ کے خلاف رائے سامنے آرہی ہے۔ جرمنی کے صدر فرینک ستائین مئیر نے گزشتہ روز کابل ائیر پورٹ پر سیکھے جانے والے مناظر کو مغربی سیاست دانوں کے لئے شرمناک قرار دیا۔ آنے والے وقت میں اس تنقید میں اضافہ کا امکان ہے اور سیاسی قیادت سے یہ جواب طلب کیا جائے گا کہ انہوں نے 20برس تک افغانستان میں رہنے اور ارب ہا ڈالر صرف کرنے کے علاوہ ہزاروں فوجیوں کو مروانے کے عوض کیا مقصد حاصل کیا ہے۔
امریکہ اور نیٹو کی یہ دلیل بھی بودی اور ناقص ہے کہ افغانستان کی حفاظت افغان فوج کو کرنا تھی اور غیر ملکی افواج وہاں کوئی نیا نظام استوار کرنے نہیں گئی تھیں۔ حالانکہ گزشتہ دو دہائی کے دوران تمام امریکی و یورپی لیڈر افغانستان کی جنگ کو انسانی حقوق اور خواتین کی حفاظت کی جد و جہد کا نام دیتے رہے تھے۔ افغانستان میں قائم کی گئی حکومت اور اس کی فوج کو امریکہ اور نیٹو ممالک نے ہی تیار کیا تھا۔ اب ان لیڈروں کی اس بات پر یقین نہیں کیا جاسکتا کہ امریکہ کا مقصد کوئی نظام استوار کرنا نہیں تھا۔ یوں بھی تین لاکھ فوجیوں پر مشتمل جو افغان فوج مٹی کے گھروندوں کی طرح ڈھیر ہوئی ہے، اس کی تربیت امریکہ اور نیٹو کے فوجی ماہرین ہی نے کی تھی ۔ اب افغان قیادت کو اس کا سارا الزام دے کر امریکہ اور ان کے یورپی حلیف اپنی غلطیوں کا سارا بوجھ افغان لیڈروں کی بزدلی اور کرپشن پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر ایسے کمزور اور بدعنوان لیڈر افغانستان پر مسلط تھے تو انہیں حاوی کرنے والا امریکہ اور ان کے حلیف ہی تھے۔ اور ان ملکوں کے عوام کے علاوہ تاریخ بھی افغانستان میں برپا ہونے والی تباہی کی ذمہ داری ان تمام لیڈروں پر عائد کرے گی جنہوں نے ایک واقعہ کا انتقام لینے کے لئے افغانستان کی تہذیب و ثقافت سے قطع نظر وہاں ایسا نظام استوار کرنے کےلئے عسکری قوت استعمال کی ،جو اب اوندھے منہ گرا پڑا ہے اور صدر بائیڈن نہایت ڈھٹائی سے اس کی ذمہ داری افغان لیڈروں پر عائد کررہے ہیں۔
یہ امریکہ کی ناکامی ہے البتہ اس ناکامی کی قیمت افغان عوام کو ادا کرنا پڑے گی۔ چاہے یہ قیمت طالبان کی پر تشدد حکومت کی صورت میں ہو یا پھر غیر ملکی فوجوں کےانخلا کے بعد پیدا ہونے والے تضادات، دھڑے بندیوں، مختلف ممالک کے مفادات اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی کسی نئی خانہ جنگی کی صورت میں سامنے آئے۔ فی الوقت طالبان کی یقین دہانیوں کے باوجود نہ تو دنیا اور نہ ہی افغان عوام ان باتوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ابھی تک افغانستان میں سیاسی و حکومتی انتظام کے لئے کسی قسم کا کوئی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے آج پریس کانفرنس میں ایک بار پھر یقین دلایا ہے کہ تمام افغان سیاسی گروہوں کو ساتھ ملا کر حکومت قائم کی جائے گی۔ تاہم جب تک اس کی عملی شکل دیکھنے میں نہیں آتی اور نئی حکومت مکمل اختیار کے ساتھ ملکی نظام کو بحال کرکے عوام کے تحفظ اور سہولتوں کا اہتمام نہیں کرتی اس وقت تک اس قسم کے بیانات کی حیثیت میڈیا تماشہ سے زیادہ نہیں ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس سے یہ تو واضح ہے کہ طالبان قیادت افغانستان میں حکمرانی کا خواب پورا کرنے کے لئے مغربی ممالک کی اقتصادی امداد کی ضرورت کو سمجھتی ہے اور اس کی خواہاں بھی ہے۔ اسی لئے طالبان کے ترجمان نے ملک کو ’منشیات سے پاک معاشرہ ‘ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ طالبان کی سابقہ حکومت میں منشیات کاشت کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی تھی لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ گزشتہ دو دہائی کی مزاحمت کے دوران طالبان کی آمدنی کا بیشتر حصہ منشیات کی اسمگلنگ سے ہی حاصل ہوتا تھا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ افیون کاشت کرنے والے کسانوں کو متبادل فصلیں اگانے اور آمدنی برقرار رکھنے کے لئے وسائل و تربیت فراہم کرے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے اگر طالبان بھی دنیا کے متفقہ مطالبے پر کان دھریں گے اور ملک میں اسلام کی من پسند توجیہ کے مطابق نصف آبادی کو ایک بار پھر گھروں میں مقید کرنے کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔
طالبان کے ترجمان نے دشمنی ختم کرنے، بیرونی دنیا سے تعلقات استوار کرنے، سفارت کاروں کو تحفظ دینے ، خواتین کام و تعلیم کا حق دینے اور میڈیا کی آزادی کے جو وعدے کئے ہیں، ان پر عمل درآمد کی صورت میں ضرور دنیا کے سامنے طالبان کی ایک مختلف صورت سامنے آسکتی ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا خود طالبان کے لئے بھی ان وعدوں پر عمل کرنا آسان ہوگا۔ سخت گیر مزاج کے حامل عناصر طالبان میں بھی موجود ہیں۔ اگر نام نہاد معتدل مزاج قیادت نے ان کی مرضی و منشا کے بغیر کوئی فیصلہ ٹھونسنے کی کوشش کی تو سب سے پہلے خود طالبان ہی ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوں گے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker