اسلام آباد:ہفتے کے روز توشہ خانہ کیس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو سزا سنانے کے چند گھنٹوں بعد ہی فیصلہ سنانے والے جج برطانیہ روانہ ہوگئے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کو 2 ماہ قبل مئی میں لندن میں منعقد ہونے والے تربیتی کورس کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور تربیت کے لیے ابتدائی نامزد افراد میں سے ایک تھے لیکن ان کا ویزا منظور نہ ہونے کی وجہ سے ان کا نام اس فہرست سے خارج کر دیا گیا، تاہم وہ پرائیویٹ ویزے پر کورس میں شرکت کرنے کے قابل قرار پائے جب کہ اور دوسرے نامزد جج وقت پر اپنا ویزا حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
یونیورسٹی آف ہل نے 25 مئی کو اسلام آباد جوڈیشل سروس (آئی جے ایس) کے 8 افسران کو انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے متعلق عدالتی تربیت کے لیے نامزد کیا تھا، نامزد افسران میں سپریم کورٹ کے ایک افسر بھی شامل تھے۔
تربیتی سیشن 5 سے 13 اگست تک منعقد کیے جا رہے ہیں، ابتدائی طور پر اسلام آباد جوڈیشل سروس سے تعلق رکھنے والی عابدہ سجاد اور ہمایوں دلاور، سول ججز عائشہ شبیر، ثاقب جواد، صنم بخاری، سمیعہ اقبا، رضوان الدین قریشی سمیت سپریم کورٹ کے ایک افسر حسن ریاض کو کورس کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا، نامزدگیوں کی منظوری اسلام آباد ہائی کورٹ انتظامیہ نے دی تھی، تاہم کچھ پروسیسنگ فالٹس کی وجہ سے ایڈیشنل سیشن جج اور سول ججز جواد، قریشی اور شبیر ویزا حاصل نہیں کر سکے۔
21 جون کو یونیورسٹی نے اسلام آباد جوڈیشل سروس سے چار دیگر ججز اور خیبر پختونخوا جوڈیشل سروس کے ایک افسر کو نامزد کیا، ان میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کامران بشارت مفتی، سیش جج زیبا چوہدری، جج سید فیضان حیدر، سول جج صہیب بلال اور کے پی سے سیشن جج فرح عطا اللہ شامل تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان نامزدگیوں کی منظوری دی جب کہ اسی دوران سیشن جج ہمایوں دلاور نے ویزا کے لیے درخواست دی اور برطانیہ کے نجی دورے کے لیے روانہ ہوئے، اس بار انھیں ویزا جاری کردیا گیا۔
جب انہوں نے اپنے ویزے سے متعلق یونیورسٹی کو مطلع کیا تو انہیں ویٹنگ لسٹ میں رکھا گیا۔
اتفاق سے اس دوران ایڈیشنل سیشن جج حیدر کے ویزے میں تاخیر ہوئی اور وقت کی کمی کی وجہ سے یونیورسٹی نے دوبارہ ہمایوں دلاور کو نامزد کردیا کیونکہ ان کے پاس درست ویزا تھا۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

