وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں ایک بیان میں امید ظاہر کی تھی کہ مسلم لیگ (ن) آئیندہ انتخابات میں بھی کامیاب ہوگی اور ملک کو جنت نظیر بنا دے گی۔ یوں تو یہ دعوے مسلم لیگ کے لیڈر پنجاب اور مرکز میں حکومتیں قائم کرنے کے بعد ہر بار کرتے رہے ہیں لیکن پارٹی کی موجودہ حکومت اس لحاظ سے بدترین ہے کہ اسے مسلسل تحریک انصاف کی صورت میں چیلنج کا سامنا ہے اور وہ اس کا جواب دینے میں ناکام ہے۔
اس صورت حال میں آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کو عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف میدان میں اترنا پڑا۔ حالانکہ اگر شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) سیاسی حربوں سے اپوزیشن پارٹی کو کسی سیاسی اتفاق رائے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے تو شاید ملک میں یہ تاثر بھی عام نہ ہوتا کہ فوج اور تحریک انصاف میں براہ راست تصادم ہے۔ سیاست ایک مشکل شعبہ ہے ۔ اس میں حوصلے، صبر و ضبط اور حکمت و تدبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمران خان ضرور ایک مشکل شخص ہیں اور انہوں نے بلاشبہ پاکستانی سیاست میں تصادم اور ہتک آمیز گفتگو کا چلن عام کیا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کی ناکامی یہ ہے کہ وہ اقتدار میں ہونے کے باوجود اس کا کوئی متبادل راستہ تلاش نہیں کرسکی۔
اس بات کو سادہ الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یوں دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کامیابی سے فوج مخالف بیانیہ بنایا ہے۔ وہ اگرچہ اسے جمہوری جد و جہد کا حصہ قرار دیتی ہے اور اس کا مؤقف ہوتا ہے کہ فوج اصل مسئلہ فوج کے سیاست میں ملوث ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی نہایت ہنر مندی سے وہ ایک طرف اس حقیقت کو عام حافظے سے نکالنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے کہ اس نے خود اقتدار میں آنے کے لیے فوج ہی کے تعاون سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اور دوسری طرف عمران خان نہایت ڈھٹائی سے فوج سے براہ راست مذاکرات کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ اگر تحریک انصاف بنیادی حقوق، آئین کی عملداری اور جمہوری نظام کی بات کرتی ہے تو اس میں فوج کے ساتھ سیاسی افہام و تفہیم سے راستہ نکالنے کا کوئی بھی طریقہ غلط اور ناجائز سمجھا جائے گا۔ البتہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے اس متضاد پالیسی کو مقبولیت کے غلاف میں لپیٹ کر بظاہر فوج کی توہین کرنے، اس کے لیڈروں پر ہتک آمیز الزام تراشی کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور اسے اصولی جمہوری جد و جہد کا حصہ بناکر پیش کیا جاتا ہے۔
اس سیاسی دوغلے پن کا جواب ملک کی سیاسی جماعتوں ہی کو دینا تھا۔ خاص طور سے حکومت سنبھالنے والی مسلم لیگ (ن) پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی لیکن شہباز شریف ہی نہیں ، ان کے بھائی اور پارٹی کے صدر نواز شریف اور ان کی صاحبزادی اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز بھی تحریک انصاف کے بیانیے کے مقابلے میں کوئی ایسا بیانیہ سامنے نہیں لاسکیں جو عوام کی توجہ حاصل کرسکتا۔ لے دے کے الزام تراشی اور دھمکیوں کا ہتھکنڈا باقی رہ جاتا ہے جو حکومتی وزرا وقتاً فوقتاً استعمال کرتے رہتے ہیں۔ لیکن حکومت اور مسلم لیگ (ن) یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں کہ الزام تراشی اور دروغ گوئی میں وہ تحریک انصاف کے پروپیگنڈے کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ کسی جھوٹ یا الزامات و دشنام طرازی کے ماحول کو تبدیل کرنے کے لیے جوابی الزام تراشی کامیاب نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مثبت سیاسی طرز عمل ، مؤثر حکومتی اقدامات اور عوام کے سامنے ماضی اور حال کا تقابل پیش کرکے تبدیلی کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہ کام کرنے میں ناکام ہے۔ اس طرح وہ جوابی الزام تراشی کا طریقہ اختیار کرکے کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی مثال بن چکی ہے۔
شہباز شریف نے گزشتہ سال اقتدار سنبھالتے ہوئے جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا تھا وہ بیرونی سرمایہ کاری کے متعلق تھا۔ ایک مرحلے پر تو 80 یا ایک سو ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کا امکان بھی ظاہر کیا گیا تھا لیکن اقتدار میں ڈیڑھ سال گزارنے کے باوجود شہباز شریف کی حکومت اس مقصد میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ گو کہ آئی ایم ایف پروگرام اور قرض کی وجہ سے معاشی استحکام پیدا ہؤا ہے جسے آئی ایم ایف نے تازہ ترین بیان میں بہتری کی علامت بتایا ہے کیوں کہ پاکستان اب ڈیفالٹ سے مزید دور ہوگیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ معمولی بہتری میں قومی پیداوار یا سرکاری وسائل میں اضافہ کی وجہ سے نہیں دیکھی گئی ۔ حکومت بدستور ٹیکس نیٹ بڑھانے اور زیادہ لوگوں کو ٹیکس دینے پر آمادہ یا مجبور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ حکومت مسلسل بالواسطہ محاصل پر انحصار کرتی ہے جس کا بوجھ براہ راست عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح سرکاری اعداد و شمار اور وزیر خزانہ کی طرف سے مثبت اشاریوں کی بات کرنے کے باوجود عام لوگوں کو معاشی سہولت کا احساس نہیں ہوتا۔ مہنگائی کی شرح میں کمی کے بلند دعوے بھی زمینی سچائیوں کو تبدیل نہیں کرسکتے کہ ملک میں غربت، بیروزگاری اور احتیاج میں اضافہ ہورہا ہے۔
حکومت اگر بیرونی سرمایہ کاری لانے میں کامیاب ہوجاتی تو شاید یہ صورت حال مثبت طور سے تبدیل ہوسکتی تھی۔ لیکن وزیر اعظم کے مسلسل غیر ملکی دوروں کے باوجود سرمایہ آتا دکھائی نہیں دیتا۔ اسی لیے نہ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی عوام کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے۔ لہذا تحریک انصاف کا یک طرفہ بیانیہ مقبولیت پاتا ہے اور لوگ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت تو اپنے وعدے ہی پورے کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ،اس کا اعتبار کیسے کیا جائے؟ ان حالات میں حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے اور اس کی وجوہات بتانے کی بجائے جعلی اشہاری مہمات کے ذریعے پاکستان کو خوشحال خطہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے جس سے عوام کی مایوسی و ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران جماعت، تحریک انصاف کے مقابلے میں بیانیہ استوارکرنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔
بیرونی سرمایہ کاری لانے میں ناکامی کی دیگر بہت سی وجوہات کے علاوہ ملک میں تسلسل سے سیاسی تصادم کی صورت حال بھی ایک عذر ہے۔ کوئی کمپنی یا ملک کیوں ایک ایسے ملک میں سرمایہ لگائے گا جہاں سیاسی حالات بے یقینی کا شکار ہوں اور یہ واضح نہ ہو کہ آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے۔ ماضی میں مختلف پارٹیوں کی حکومتوں نے اپنے سے پہلے والی حکومتوں کے اہم فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس لیے بیرونی سرمایہ کار پاکستانی نظام کی مضبوطی پر اعتبار نہیں کرتے بلکہ ملکی عدالتی نظام بھی بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ عدالتیں مالی معاملات کو تعطل کا شکارر کھتی ہیں اور اس بات کی ضامن نہیں بن سکیں کہ کوئی بھی حکومت ہو ملک کا قانون بیرونی سرمایہ کار کے حقوق کا محافظ ہوگا۔
بیرونی سرمایہ کاری کا اختیار کسی پاکستانی حکومت کے پاس نہیں ہے لیکن وہ ملکی حالات کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات ضرور کرسکتی ہے تاکہ سرمایہ کاری کا ماحول امید افزا ہو۔ البتہ شہباز شریف کی حکومت ا س مقصد میں بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ ان میں خاص طور سے کرپشن اور امن و امان کی صورت حال شامل ہیں۔ ان دونوں معاملات کا تعلق گورننس سے ہے۔ البتہ ملک کی سیاسی پارٹیوں نے اسے ایک نعرہ تو بنایا ہے لیکن گورننس بہتر کرنے کے لیے عملی اقدامات میں ناکام رہی ہیں۔ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت کی گورننس میں کیڑے نکالتی ہے اور کے پی کے حکمرن اور تحریک انصاف کے لیڈر وفاقی حکومت کو ناکام کہہ کر دل خوش کرتے ہیں لیکن دونوں ہی اپنے طور پر ان کمزوریوں کو دور کرنے پر آمادہ نہیں ہیں جن کے نتیجہ میں گورننس بہتر ہوسکے۔ حتیٰ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی چند مواقع پر حکومتی گورننس کا ذکر کرکے اسے براہ راست دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی مہم جوئی سے منسلک کرچکے ہیں۔ لیکن عملی طور سے کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ایک سروے کے بارے میں رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستانی نظام میں بدعنوانی کو اہم ترین مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سروے میں ملک کے تین چوتھائی لوگ یہ کہتے ہیں کہ کرپشن بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس سے نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس سروے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ عوامی رائے میں پولیس مسلسل سب سے زیادہ بدعنوان ادارہ ہے جب کہ دوسرے نمبر پر سرکاری ٹھیکوں میں بولیاں وصول اور منظور کرنے کا شعبہ آتا ہے۔ عدالتیں بدعنوانی کے انڈیکس میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ گویا پورا ریاستی نظام بدعنوانی کے عفریت میں جکڑا ہؤا ہے لیکن حکومت اس کا حل تلاش کرنا تو دور کی بات ہے، اس پر بات کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کی اس رپورٹ پر تو خوشی کا اظہار کرتی ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کی صورت حال سے بچ چکاہے لیکن چند ہفتے قبل پاکستان میں بدعنوانی کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ماہرین کی معلوماتی رپورٹ اور تجزیے کو عوام سے چھپانے کی کوشش کی گئی۔ جب آئی ایم ایف نے یہ رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر جاری کردی تو بھی حکومتی نمائیندوں سے اس پر بات کرنے اور ان پہلوؤں کو بہتر بنانے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔
ایک طرف دہشت گردی کی وجہ سے حالات دگرگوں ہیں تو دوسری طرف قانون کی بالادستی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ شہروں میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عام شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔ حال ہی میں اسلام ہائی کورٹ کے ایک جج کے کم عمر بیٹے نے دو نوجوان لڑکیوں کو اپنی بڑی گاڑی سے کچل کر ہلاک کردیا لیکن چند ہی دن میں اس معاملہ سے اس لڑکے کو مکھن میں بال کی طرح نکال لیا گیا۔ اسی دوران ایک سرکاری اہلکار کے ہاتھوں ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی کی خود سوزی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ اس لڑکی نے انصاف اور عدم ثبوت کی بنیاد پر زیادتی کے مرتکب کو بری کرنے سے مایوس ہوکر خود کشی کی تھی۔ اس قسم کے واقعات سے عوام میں یہ احساس مضبوط ہوتا ہے کہ ملک کا قانون اور حکومت انہیں تحفظ اور انصاف فراہم نہیں کرسکتے۔
ان حالات میں شبہاز شریف ابھی سے آئیندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے اعلانات کررہے ہیں۔ حیرت ہے کہ وہ کس برتے پر آئیندہ انتخابات میں عوام کو منہ دکھانے اور ان سے ووٹ مانگنے کا حوصلہ کریں گے۔ ایسے دعوؤں کے بعد دھاندلی اور زور ذبردستی انتخاب جیتنے کا تاثر یقین میں نہیں بدلے گا تو اور کیا ہوگا؟
( کاروان ۔۔ناروے )

