کالملکھارییاسر پیرزادہ

مسلمانوں کے مغرب پر واقعی احسانات۔۔ذراہٹ کے /یاسرپیرزادہ

اسکول کے زمانے میں جب ہم سائنس پڑھتے تھے تو ہر ایجاد کے پیچھے کسی غیر مسلم کا نام ہی ملتا تھا۔ بلب کس نے بنایا ایڈیسن نے، کوانٹم تھیوری کی بساط کس نے بچھائی نیلز بوہر نے، ہوائی جہاز کس نے ایجاد کیا رائٹ برادران نے، ٹیلی فون کا موجد کون گراہم بیل، ریڈیو کا خالق کون مارکونی، تابکاری پر تحقیق کس نے کی میری کیوری نے ، حرکت کے قوانین کس نے دئیے نیوٹن نے، جسم میں خون کی گردش بارے کس نے بتایا ولیم ہاروے نے، صفر مطلق (Absolute Zero) کا تصور کس کے ذہن میں آیا رابرٹ بوائل کے۔! کچھ بڑے ہوئے تو دائیں بازو نے بتایا کہ نوجوان مغرب سے زیادہ مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں، اصل میں یہ بنیادی تحقیق مسلمانوں نے کی تھی جس کے بل پر آج مغرب ناچ رہا ہے، یہ ہم ہی تھے جنہوں نے سائنس کی بنیاد رکھی، یہ ہم ہی تھے جنہوں نے یونانیوں کے فلسفے کو آگے بڑھایا، یہ ہم ہی تھے جنہوں نے ستاروں پر کمند ڈالی، یہ ہم ہی تھے جنہوں نے میڈیکل سائنس کی بنیاد ڈالی، آج مغرب کی ہر ایجاد کے پیچھے کسی نہ کسی مسلمان کا ہاتھ ہے، الگورتھم کے پیچھے موسی ٰالخوارزمی ہے، کیمرے کی ایجاد کے پیچھے ابن الہیشم ہے اورجراحی کے آلات کا موجد الزھراوی ہے۔ کچھ مزید جوان ہوئے تو بائیں بازو نے گھیر لیا، ان لوگوں کی باتیں حیران کر دینے والی تھیں۔ کہنا ان کا یہ تھا کہ مسلمان اپنی نام نہاد عظمت رفتہ میں گم ہیں، مسلمانوں کے عروج کا زمانہ بمشکل سو دو سو سال تھا، اس میں انہوں نے تھوڑی بہت ترقی ضرور کی مگر اصل کام مغرب نے کیا ہے، بغداد اپنے عروج پر تھا جب وحشی منگولوں نے اسے آسانی سے فتح کر لیا، آج مسلمان مغرب کی ہر ایجاد پر خواہ مخواہ اپنا لیبل لگانا چاہتے ہیں، حالانکہ مسلمانوں نے جو بھی تحقیق کی وہ انیسویں صدی تک فرسودہ ہو چکی تھی۔
سچائی ان دو انتہاوﺅں کے کہیں درمیان میں پھنس گئی ہے۔
دور جاہلیت میں مغرب کا خیال تھا کہ باہر کی دنیا بھی ان جیسی جاہل اور وحشی ہے، اہل مغرب کا کسی قسم کے علوم سے کوئی واسطہ نہیں تھا، یونانی فلسفے سے وہ یکسر نابلد تھے، مغرب کو پہلی مرتبہ یونانی علم و فلسفے سے روشناس کروانے والے مسلمان تھے، بغداد میں جب دارالحکمہ قائم ہوا، یونانی اور ایرانی فلسفے کے تراجم شروع ہوئے اس وقت مغرب کے حکمران کھیل تماشوں میں مشغول تھے(عربوں کی تاریخ) دراصل مسلمانوں اور اہل مغرب کے درمیان پہلے دن سے مخاصمت تھی، عیسائیت نے اسلام کو آسانی سے مذہب قبول نہیں کیا بلکہ اس کے مفکرین نے اسلام پر شدید تنقید کی، لاطینی زبان میں قران کا پہلا ترجمہ 1156ءمیں ایک شخص پیٹر ڈی کلینی نے کیا، اس ترجمے نے سینٹ تھامس کے لیے اسلام پر حملوں کی راہ ہموار کی، بعد میں آنے والے مغربی لکھاریوں اور فلسفیوں نے بھی اس روایت کو جاری رکھا، یوں اہل مغرب کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اپنا تعصب اور دشمنی ختم کرنے میں کئی سو سال لگ گئے۔ اٹھارویں صدی میں یہ ممکن ہوا کہ مغربی مفکرین نے کھلے ذہن کے ساتھ مسلمانوں کے کام کو پرکھنا شروع کیا، اسلام کے بارے میں خیالات میں بھی تبدیلی آئی، اس ہمدردانہ رجحان کو والٹئیر نے شدید ناپسند کیا اور اسلام کے بارے میں توہین آمیز بیانات دئیے، مگر دوسری طرف جرمن فلسفی گوئٹے نے قران کا مطالعہ کرکے مقالہ تحریر کیا جو ایک قسم کا والٹئیر کی تنقید کا جواب تھا، اسی طرح نطشے نے جہاں عیسائیت پر شدید تنقید وہاں اس نے اسلام کے بارے میں کو ئی منفی بات نہیں کی۔
مغرب میں قریب پندرہویں صدی تک فلسفے اور سائنس کو مذہب سے متصادم سمجھا جاتا تھا، یہی وجہ ہے کہ ارسطو اور ابن رشد کی تعلیمات پر پابندی تھی، مسلمانوں نے کمال یہ کیا کہ افلاطون اور ارسطو کی پیروی کرتے ہوئے عقل اور ایمان کو ہم آہنگ کیا اور یوں اپنے اور اہل یورپ کے لیے ترقی کو ممکن بنایا۔ ترقی کی یہ داستان بڑی دلچسپ ہے، شروع میں مغربی لکھاریوں نے جو کام کیا اس میں مسلمانوں کا حوالہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی، اہل مغرب کے شہرہ آفاق کام ایسے بھی ہیں جو مسلمان حکما سے مستعار لیے گئے ہیں، کاپی رائٹ کی پروا کیے بغیر، بالکل ویسے جیسے بھارتی فلموں میں ہمارے گانے چپ چاپ چرا لیے جاتے ہیں۔ سب سے پہلی مثال دانتے کی Divine Comedyکی ہے، انیسویں صدی کے ایک فرانسیسی دانشور نے دانتے کے اس کام پر تحقیق کی اور پھر ان لوگوں کا مذاق اڑایا جو اسے” قرون وسطی کا واحد شاہکار کہتے ہیں“ اس کے خیال میں دانتے اپنے سے پہلے گزرے مسلمانوں کے کام سے بخوبی علم رکھتا تھا اور اس نے ماضی کے تمام تجربات کا مکمل استعمال کیا۔ دانتے نے جہنم کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ ابن عربی سے مستعار لیا ہے، جہنم کی ہیئت، اس کی منازل ، اس کے درجے، چکر دار سیڑھیاں سب ابن عربی نے بیان کیں جو اطمینان سے دانتے نے Divine Comedyمیں استعمال کیں، ابن عربی کی جہنم میں پہلی منزل ایک آگ کا سمندر ہے جسے دانتے نے Diteکا نام دیا ہے۔ دانتے کو فی الحال یہیں چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔ امام غزالی وہ واحد مسلمان فلسفی ہیں جن کا کام اہل مغرب تک براہ راست پہنچا، غزالی کی تعلیمات نے اہل مغرب کو بےحد متاثر کیا، نہ صرف تہافتہ الفلاسفہ کے ذریعے بلکہ امام غزالی کے کام نے روحانیت کے میدان میں بھی عیسائیت پر اپنا اثر چھوڑا، خدا کے وجود پر غزالی کے دلائل کئی مغربی فلسفیوں نے استعمال کیے جن میں سینٹ تھامس بھی شامل ہے۔ بلائس پاسکل سترہویں صدی کا ایک فرانسیسی فلاسفر اور ریاضی دان تھا جس نے خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے مشہور زمانہ دلیل دی کہ اگر انسان مان لے کہ خدا ہے اور اپنی زندگی اسی عقیدے کے تحت بسر کرے تو آئندہ زندگی میں اگر جنت ہوئی تو ہمیشہ کے لیے اسے مل جائے گی اور اگر نہ بھی ہوئی تو کوئی گھاٹا نہیں لیکن خدا کو نا ماننے کی صورت میں اگر زندگی بعد ازموت ہوئی تو پھر ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا پڑے گا جو سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ پاسکل کی یہ تھیوری بڑی تفصیل میں ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا زیادہ تر حصہ امام غزالی کی کتب سے لیا گیا ہے جن میں خاص طور سے احیا علوم الدین اور میزان العمل شامل ہیں ، حتیٰ کہ جو مثالیں اور تشبیہات امام غزالی نے استعمال کیں وہی پاسکل نے تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ استعمال کیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ سے طلبا ریاضی، فلسفے، طب اور فلکیات کا علم حاصل کرنے کے لیے مسلم مدرسوں میں داخلہ لیا کرتے تھے اور پھر وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہیں مغربی جامعات میں معلم ہونے کا اہل سمجھا جاتا تھا، اس وقت مغرب میں یہ جامعات بالکل مسلم مدرسوں کی طرز پر تعمیر کی جاتی تھیں، ان کا نصاب اور پڑھانے کا طریقہ بھی ہو بہو مسلم مدرسوں جیسا ہوتا، یورپ میں ایسا پہلا مدرسہ نیپلز میں قائم ہوا جہاں منطق، ریاضی، موسیقی اور علم الہندسہ کی تعلیم دی جاتی۔ بعدازاں اسی دور میں آکسفورڈ اور جرمنی میں بھی یونیورسٹیاں قائم ہوئیں اور یوں مسلمانوں کا دیا گیا علم فرانس سے انگلینڈ اور جرمنی پہنچا۔ آکسفورڈ عربی کام کے ترجمے کا مرکز بنا جہاں ابن سینا اور ابن رشد کی کتابوں کے تراجم کیے گئے اور یوں اہل مغرب جو تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے روشنی میں نہا گئے اور ہم ایسے اندھے کنویں میں گر گئے جہاں سے اب تک نہیں نکل پائے۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker