سنا تھا، پر کبھی دیکھا نہیں تھا کہ خدا پتھر سے کیڑے کو رزق دیتا ہے۔لیکن اب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔اگر آپ نے نہیں دیکھا تو فوراً یوٹیوب کھولیں اور غور کریں کہ اللہ کی مہربانی سے کیسے کیسے کیڑوں اور لاروؤں کو رزق مل رہا ہے۔اِن لوگوں نے آج کل یوٹیوب چینلز بنا رکھے ہیں جہاں اُن کی اونٹ پٹانگ ویڈیوز کو لاکھوں کی تعداد میں دیکھا جاتاہے ، نتیجے میں اِن کے چینلز کو اشتہارات ملتے ہیں جن سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ یوٹیوب کی طرف سے اِنہیں ڈالروں میں ادا کیا جاتا ہے جس کے بعدیہ یو ٹیوبرز مزید مضحکہ خیز ویڈیوز بنانے میں جُت جاتے ہیں۔اِن یو ٹیوبرز کے رزق کا زیادہ ترذریعہ جنسی موضوعات سے متعلق ویڈیوز ہیں یا پھرجھوٹی خبروں کی بنیاد پر سیاسی تجزیوں والے وی لاگ ۔اِس کے علاوہ مذہبی موضوعات کو چٹ پٹا عنوان دے کر بھی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور کچھ ’فیملی‘ چینل ایسےبھی ہیں جن کا اگر بس چلے تو اپنی سہاگ رات کی ویڈیو بھی اپ لوڈ کردیں ۔یوٹیوب دیکھتے ہوئے یہ ویڈیوز عجیب و غریب عنوانات کے ساتھ سامنے آتی رہتی ہیں اور عام آدمی انہیں ’کلک‘ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔چلیں کوئی بات نہیں ، جس کا رزق جہاں لکھا ہے وہ وہیں سے روزی کما رہا ہے ، زیادہ مسئلہ اُن یو ٹیوبرز کا ہے جواپنی ویڈیوز کے ذریعےجھوٹ اور جہالت تو پھیلا ہی رہے ہیں مگر ساتھ ہی قوم کےخود ساختہ ہیرو اور نجات دہندہ بننے کے دعوی دار بھی ہیں۔اِن میں سب سے زیادہ خطرناک وہ ویڈیوز ہیں جن میں یہ لوگ کامِل یقین اور اعتماد کے ساتھ اپنا پُر فریب بیانیہ یوں نشر کرتے ہیں جیسے اُن کے پاس الہامی سچائی ہو ،اور پھر اُسے مزید ذائقے دار بنانے کے لیے مہا حب الوطنی اور مذہب کا تڑکہ لگا دیتے ہیں تاکہ اُن کے گمراہ کُن اعداد و شمار ، جھوٹی روایات اور کم علمی پر پردہ پڑا رہے اور کوئی انہیں بے نقاب کرنےکی ہمت نہ کرے۔لیکن ہمیں ہے حکم ِ اذاں سو ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔ایسے لوگوں کی گفتگو چونکہ خاصی لچھے دار ہوتی ہے اِس لیے عام آدمی بہت جلد متاثر ہوجاتا ہے، لیکن اگر ہم تھوڑی سی گہرائی میں جائیں تو اِن پاپولسٹ یوٹیوبرز کا پول آسانی سے کھول سکتے ہیں۔
سب سے پہلے تو اِن لوگوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ ایسے دعوے کرتے ہیں جن کی پڑتال ممکن نہیں ہوتی۔انگریزی میں اسے Falsification Principleکہتے ہیں، آنجہانی کارل پوپر اِس قانون کو یوں بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی اصول پرکھا ہی نہ جا سکے تو اسے درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا ،مثلاً اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میری پھونکوں سے لوگ شفا یاب ہوتے ہیں تو اِس دعوے کی پڑتال اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایسے تمام مریضوں کی طویل مدت تک کڑی نگرانی نہ کی جائے اور یہ نہ دیکھ لیا جائے کہ انہیں کیا بیماریاں لاحق تھیں اور کیا واقعی وہ بغیر کسی دوا کے تندرست ہوئے یا محض پھونکوں نے ہی اُن کی بازوؤں اور ٹانگوں میں جان پیدا کردی۔ظاہر ہے کہ ایسا کوئی تجربہ نہیں کیا جاتا اور محض شعبدہ بازی کے ذریعے معصوم لوگوں کو بے وقوف بنا یا جاتا ہے ، لوگ بھی بیچارے مجبور ہیں ، کیاکریں،مہنگے اسپتالوں میں علاج کے متحمل نہیں ہوسکتے، سو یوٹیوب پر جوبھی خرافات نظر آتی ہے اُس کو من و عن درست مان لیتے ہیں۔
غیر منطقی دعوے کرنے والے عموماً قصے کہانیوں اور ذاتی واقعات کا حوالہ دے کر انہیں مستند بنانے کی کوشش کرتے ہیں ،یہ لوگ اِس قدر اعتماد کے ساتھ سچ اور جھوٹ کا ملغوبہ بناتے ہیں کہ عام آدمی کے لیے فرق کرنا ممکن نہیں رہتا۔سوشل میڈیا کی ’فالوؤنگ‘ اِس ضمن میں سونے پر سہاگے کا کام کرتی ہے،بندہ سوچتا ہے کہ جسے ہزاروں لاکھوں لوگ بدھی مان سمجھتے ہیں وہ غلط کیسے ہوسکتا ہے ،لہذا جب ایسا شخص ذاتی قصہ سنا کر خلاف حقیقت بات کو درست بناکربیان کرتا ہے تو لوگ اُس پر یقین کر لیتے ہیں اور گہرائی میں جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔یہ یوٹیوبرز اکثر ایک اور تکنیک بھی بروئے کار لاتے ہیں اور وہ ہے سائنسی اصطلاحات کا استعمال۔یہ غیر محسوس طریقے سے خود کوبے حد منطقی اور سائنسی سوچ کا حامل دانشور بنا کر پیش کرتے ہیں اورایسا کرتے وقت وہ اپنی باتوں میں سائنسی تراکیب اور مغربی سائنسدانوں کی تحقیق کے حوالے دیتے ہیں تاکہ سننے والے کو یہ نہ لگے کہ بولنے والا سائنسی ذہن کا مالک نہیں۔اِس قسم کی گفتگو چونکہ بے حد چالاکی سے کی جاتی ہے اِس لیے اِسے جانچنے کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اُن سائنسی حوالوں اور مقالاجات پر خود ایک نظر ڈال لےجس کے بعداِن کا پول دو منٹ کھُل جائے گا۔یاد رہے کہ یہ لوگ محض سائنسی یاوہ گوئی کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، حقیقت میں اِن کی سائنسی سوجھ بوجھ بے حد سطحی نوعیت کی ہوتی ہے ، انہوں نے فقط چند سائنسی اصطلاحات اعتماد کے ساتھ رٹی ہوتی ہیں تاکہ اپنی بات میں وزن پیدا کیا جا سکے۔ مستند سائنسی تھیوریوں کو بھی یہ لوگ نہایت اطمینان سے رد کردیتے ہیں اور اِس ضمن میں اتنا تردد بھی گوارا نہیں کرتے کہ اپنی تھیوری کو کسی جریدے میں پیش کریں تاکہ اُس کی سنجیدہ سائنسی پڑتال کی جاسکے ، لیکن دوسری طرف عام لوگوں کے سامنے اپنے یو ٹیوب چینل پر ثابت شدہ سائنسی تھیوریوں کے نقائص ایسے بیان کرتے ہیں جیسے وہ عہد حاضر کے آئن سٹائن ہوں اورہم عصر سائنس دانوں نے اُن کی تحقیق کا peer reviewکر رکھا ہو ۔ اِن کی جعل سازی کو پکڑنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اِن کے دعوؤں کو پیش کردہ ثبوتوں کی روشنی میں پرکھا جائے۔عموماً یہ لوگ کائنات،مذہب اور فلسفے سے متعلق پیچیدہ گتھیوں کے معاملے میں بلند بانگ دعوے کرتے ہیں مگر اُس سطح کا ثبوت نہیں پیش کرپاتے جتنا بڑا دعویٰ ہوتا ہے ۔ یاجوج ماجوج کی لوکیشن کیا ہے، بگ بینگ سے پہلے کیا تھا، دجال کی آمد پر کیا منظر ہوگا۔۔۔انہیں سب معلوم ہے ،اورثبوت کے طور پر محض اِن کا بیان کافی ہے!اور اگر کوئی اِس بیان کو چیلنج کرے تو جواب میں الہامی کتب کے حوالے دے کر غیر محسوس انداز میں یہ پیغام دیں گے کہ میری بات کو درست نہ ماننے کا مطلب دراصل (معاذ اللہ)قران و حدیث کا انکار کرنا ہے ۔
اِن لوگوں کی چند نشانیاں اور بھی ہیں۔مثلاً اِن کی باتوں میں منطقی غلطیاں ہوتی ہیں ، جہاں اِن سے جواب نہ بن پڑے وہاں مخالف نقطہ نظر کے حامیوں پر ذاتی حملہ کریں گےاور اپنی پسند کے اعداد و شمار منتخب کرکے انہیں بغیر سیاق و سباق کے یوں بیان کریں گے کہ لگے جیسے انہوں نے اچھی خاصی تحقیق کی ہوئی ہے۔اور آخر میں جب اِن سے کچھ بھی بن نہ پڑے تو کہتےہیں کہ چونکہ اُن کا بیانیہ بین الاقوامی طاقتوں کو کھٹکتا ہے اِس لیے انہیں روکنے کی سازش کی جاتی ہے ،اُن کے مخالف نظریات رکھنے والوں کو فنڈنگ دی جاتی ہے اور یوں امت مسلمہ کی توانا آواز کو دبایا جاتا ہے ۔اِس اپیل سے عام مسلمان بیچارہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور اِن کے دام میں آجاتا ہے۔لاروؤں کی یوٹیوب کی ریٹنگ مزید بڑھ جاتی ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ جو کامیابی پاکستان میں اِن یوٹیوبرز کو ملی ہے انہیں دیکھ کر میں رشک و حسد میں مبتلا ہوں، اور سوچتا ہوں کہ منطقی اور سائنسی سوچ کی دہائی دینے کا کیا فائدہ،نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے،لیکن پھر خیال آتا ہے کہ اگر میری کوشش سے کوئی ایک شخص بھی گمراہی سے بچ جائے تو میں سمجھوں گا محنت وصول ہو گئی۔میری بخشش کا اگر کوئی امکان ہے تو اسی صورت میں ہے،وگرنہ اپنے پلڑے میں تو کوئی ایسی نیکیاں بھی نہیں جن کے بل بوتے پر میں روزِ حشر دامن یزداں چاک کرنے کی ہمت کرسکوں!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

