قیام پاکستان سے لے کر اب تک،شاید اب تک سے بہت بعد تک بھی پاکستانی سیاست ،معشیت اور سماج اسی طرح کی غیر یقینی اور تکلیف دہ صورتحال کا شکار رہے گا جس کا لمحہء موجود میں ہے.لیکن پاکستان کی تاریخ میں 1971ء سے 1977ء کا عہد ہمیشہ منفرد رہے گا کیونکہ اس عہد میں پاکستانی سیاست میں بنیادی نوعیت کے فیصلے ہوۓ،کچھ انقلابی اقدامات بھی لیے گئے جن کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر پر زیر بحث آنے لگا،یہ دور داخلہ اور خارجہ پالیسیوں اور آئینی اور عسکری حوالوں سے قابل ذکر رہا.
اگرچہ نادیدہ قوتیں اپنی چالاکیوں اور سازشوں میں مصروف کار رہیں اور ان قوتوں کا سامراجی طاقتوں سے گٹھ جوڑ بھی رہا. جب یہ منہ زور قوتیں اور طاقتیں ناکام ہونے لگیں تو 5 جولائی 1977ء کا سیاہ دن آ گیا اور یہ دن نہ صرف ایک جمہوری حکومت کے خاتمے کا دن تھا بلکہ اس دن نے آنے والے کئی سیاہ دنوں کی بنیاد رکھ دی. یہ سیاہ دن 47 برسوں پر محیط مارشل لاؤں کا ایک تسلسل ہے.جہاں مارشل لاء کی حکومت نہیں تھی وہاں بھی مارشل لائی مزاج غالب رہا.
5 جولائی 1977ء کا ماسٹر مائنڈ عالمی سامراج تھا یا پھر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ، اس کے تمام حالات و واقعات پاکستانی تاریخ میں واضح یا علامتی انداز میں سدا زندہ رہیں گے.
5 جولائی 1977ء کا مارشل لاء ایک عفریت تھا جس نے ہماری سیاست ، ہماری قومی شناخت اور ہماری تہذیب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے بطور خاص ہماری شناخت اور امن اس طوفان بلاخیز کا شکار ہو گیا اس مارشل لاء کو نا صرف سامراج کی حمایت حاصل تھی بلکہ ملکی سطح پر کچھ صحافتی گماشتے، دین فروش ملاں، مذہب کے نام پر خرید و فروخت کرنے والی بعض سیاسی پارٹیاں ،ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے سوداگر،نودولتیے،مصنوعی اشرافیہ اور کچھ سرمایہ دار ؛اس کریہہ کام میں برابر کے شریک تھے۔اس مارشل لا سے قبل کے مارشل لاوں نے ملک کودو لخت کیا اور اس مارشل لا(ضیائی)نے ہماری تہذیب کو لہو لہان کیا۔
یہ عجیب مارشل لا تھا،جس میں اسلام جیسے سلامتی والے مذہب کو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا اور اپنی ہی سماجی اور تہذیبی قدروں کو پامال کیا۔ضیائی مارشل کے نفاذ کے لیے قومی اتحاد کا احتجاج اور ملک گیر ہڑتالیں راہ ہموار کرتی رہیں تھیں اور اسلامی نظام کے نفاذ کا نقارہ بجایا جاتا رہا تھا مگر جب اس احتجاج کا منطقی نتیجہ مارشل لا کی صورت میں نکل آ یا تو اسلامی نظام کا بخار بھی اتر گیا ۔یہ نقارہ ایسا بجا کہ عوامی حکومت کے خلاف عام بندے کے دل میں زبردست نفرت پیدا ہوگئی اور اس نفرت نے سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں ایسے لیا کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت ” پاکستان پیپلز پارٹی "ایک صوبے تک محدود ہو کر رہ گئی (شعوری طور پر اسے محدود کرنے کی کوشش کی گئی)۔خاص طور پر اس جماعت کو پنجاب میں بڑا دھچکا لگا کیونکہ اس مارشل لا کو پنجاب میں بڑی سپورٹ ملی تھی اور نادیدہ طاقتوں کی بڑی خواہش بھی یہی تھی کہ پی پی پی کو پنجاب سے دیس نکالا دیا جائے ۔پنجاب کی اس بے التفاتی سے پی پی پی 1977کے بعد سے یہاں اپنے قدم نہ جما سکی۔انھی حالات کی کوکھ سے پاکستان مسلم لیگ ن نے جنم لیا جو آ ج پاکستانی سیاست کی ایک بڑی حقیقت کا روپ دھار چکی ھے۔اس مارشل لا نے نہ صرف پاکستان میں تقریر و تحریر پر ناروا پابندیاں لگائیں بلکہ تعلیمی نصاب،میڈیا پالیسی ،مذہبی پالیسی ،خارجہ پالیسی اور داخلہ امور میں ہر پہلو سے اپنا اثرو رسوخ اس طرح داخل کیا کہ ہر مثبت "قدر”تہس نہس ھو کر رہ گئی۔ضیاء نے مذہب کے ہتھیار کو اس طرح استعمال کیا کہ اج کوئی بات لاجیکل نہیں رہی۔کھیل کا میدان ھو ،سیاست ھو یا پھرتعلیم ؛ کہیں بھی منطقی رویوں کی صورت دکھائی نہیں دیتی بلکہ ہر بات ” الله کریسی” پر منتج ھوتی ھے۔
یہ فطری بات ھے کہ جب آ پ کی تمام تر امیدیں توکل اور غیر مرئی قوتوں سے جڑی ھوں توپھر ہر بندہ اور ہر ادارہ دلیل اور مکالمہ سے کوسوں دور چلا جاتا ھے۔ھمیں یاد ھےکہ ضیاء ھی کے دور میں "انرجی کانفرنس "کاانعقاد ھوا تھا جس میں ایک رائے ایسی بھی سامنے ائی تھی کہ چونکہ "جنات”کی جسمانی تشکیل اگ سے ھوئی ھے لہٰذا جنات کو قابو میں لا کر ان سے انرجی حاصل کی جاسکتی ھے اس سے ھم توانائی کے بحران سے باسانی نکل ائیں گے۔اس لا یعنی مشورے یا رائے کو بڑی پزیرائی ملی تھی یہاں سے سارے ضیائی دور کے مائینڈ سیٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ھے۔توکل اورغیر منطقی رویئے اسی دور میں پنپتے ھیں جس میں ریاستی سطح پر”منطق”کا قتل ھوتا ھے۔یونان کے فلسفیانہ دور کے خلاف رجعت پسندوں کی سرگرمیاں ھوں یا عباسی عہد کا دور اخر؛ اس طرح کے تمام ادوار میں منطق اور لاجک کی موت واقع ہوئی ھے۔اسی موت میں رہبانیت ،ملائیت اور انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی ھوئی اورتعقل پسندی کا خاتمہ ھوا۔اس خاتمے کے نتائج قوموں کو بھگتنے پڑتے ھیں۔اہل پاکستان کو اج تک انہی نتائج کا سامنا ھے۔سیال کوٹ کا سانحہ،جڑانوالہ اور سوات کے پرسوز واقعات ؛ اسی انتہا پسندی کے نتائج ھیں۔اج تقریباً ہر پاکستانی کے اندر بڑا نہیں تو چھوٹا دہشت گرد ضرور چھپا بیٹھا ھے۔اس حقیقت کے عقب میں پانچ جولائی 1977 کا سیاہ دن کسی نہ کسی صورت موجود ھے۔اس تناظر میں میرا خیال ھے کہ پانچ جولائی 1977 کے دن جمہوریت کا قتل نہیں ھوا تھا بلکہ ھماری تہذیب کا قتل ھوا تھا جس کا قاتل ضیاالحق تھا۔
فیس بک کمینٹ

