دنیا بھر میں کورونا وائرس اپنی تباہیاں پھیلا رہا ہے، امریکہ ہو یا برطانیہ یا تھرڈ ورلڈ ملک سب ہی اس کوشش میں ہیں کہ اس سے ہونے والی جانی نقصان کو کم سے کم شرح پر کنٹرول کیا جائے، اب تک کی دنیا بھر کی حکمت عملیوں کو دیکھا جائے تو اس میں سب سے اہمیت کا حامل کوئی عمل ہے تو وہ لاک ڈاؤن کا ہے، کونسا ایسا ملک ہے جس نے لاک ڈاؤن نہ کیا ہو، چین نے بھی لاک ڈاؤن کے ذریعے اسے کنٹرول کیا اور جن ممالک نے لاک ڈاؤن کی اہمیت کو نہ جانا اس میں برطانیہ، امریکہ اور چند یورپی ممالک شامل ہیں وہ روزانہ سینکڑوں جانیں گنوا رہے ہیں، اور بڑے نقصانات کے بعد ہی لاک ڈاؤن کی طرف لوٹ رہے ہیں، پاکستان میں بھی کورونا وائرس آتے ہی ابتدائی طور پر جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد سے لے کر اب تک حکمرانوں نے اپنی تقریروں اور میڈیا ٹاکس میں ایک ابہام ہی پیدا کیا، وفاقی حکومت ہو یا سندھ حکومت، پنجاب ہو یا خیبر پختونخوا، بلوچستان ہو یا گلگت بلتستان جس بھی حکومتی سربراہ یا نمائندے نے بات کی تو اس نے اپنی منطق پیش کی اور عوام کو مزید ابہام کا شکار کیا، جس کی وجہ سے لوگوں میں کورونا وائرس کا وہ ڈر ہی پیدا نہ ہو سکا اور لوگ لاک ڈاؤن کو چھٹیاں سمجھتے ہوئے انجوائے کرنے لگے، اس دوران سندھ نے سخت لاک ڈاؤن کیا تو وفاق نے تنقید شروع کر دی، اس طرح عوام مزید کنفیوز ہو گئی ۔
بہرحال منگل کے روز نیشنل کوارڈینیشن کونسل کا ویڈیو لنک اجلاس ہوا، بقول سندھ حکومت ترجمان اس اجلاس میں بیشتر صوبوں نے لاک ڈاؤن بڑھانے اور سخت اقدامات کی رائے دی لیکن وزیراعظم عمران خان لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کرنے کے خواہاں تھے اور ان کی ہی بات پر باہمی ہم آہنگی کے لیے چند انڈسٹریز اور دکانیں کھولنے کو ناگزیر قرار دیا گیا اور بدھ سے بیشتر معمولات زندگی بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس کے بعد ایک لسٹ جاری کی گئی، جس کے مطابق کیمیکل مینوفیکچررز، ای کامرس لوکل اینڈ ایکسپورٹ، سافٹ ویئر ڈویلپنگ اینڈ پروگرامنگ، پیپر اینڈ پیکجنگ، لیبر کے ذریعے چلنے والی انڈسٹریز، سیمنٹ پلانٹس، فرٹیلائزرز پلانٹس، مائینز اینڈ منرلرز، ڈرائی کلینرز، ہارٹیکلچر نرسریز، زرعی آلات مینوفیکچررز، گلاس مینوفیکچررز، ویٹرنری سروسز، ایکسپورٹ انڈسٹریز اور سٹیشنری شاپس کھلی رہیں گی، اگر اس لسٹ کا جائزہ لیا جائے تو تقریبا تمام ملک ہی کھول دیا گیا ہے، ماسوائے ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں کے، اس کی بڑی وجہ کورونا وائرس کا سٹرائیک کم ہونا اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے سے بےروزگاری میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔
پوری دنیا میں سب سے اہمیت کے حامل تعلیمی ادارے ہوتے ہیں اگر حکومت نے یہ فیصلہ کرنا ہی تھا تو تعلیمی اداروں کو بھی کھولنے کی اجازت دی جانی چاہئیے تھی، منگل کے روز دو اور اہم واقعات بھی ہوئے علما کرام نے اپنے طور پر ہی مساجد کو لاک ڈاؤن سے مستثنی قرار دیتے ہوئے کھولنے کا اعلان کیا اور تاجروں نے بھی اعلان کیا کہ وہ ہر صورت بدھ سے دکانیں کھولیں گے۔
اس صورتحال کو دیکھا جائے تو ریاست کی عملداری علما اور تاجروں نے ایک لحاظ سے چیلنج کی ہے لیکن اس کی وجہ بھی ہمارے حکمران ہیں، ان کی کنفیوژن سے بھرپور پالیسی نے ان کو یہ طاقت دی کہ ریاست کے حکم کو چیلنج کر سکیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے پاکستان کورونا وائرس کے حوالے سے محفوظ پالیسی کی بجائے خطرناک پالیسی کی جانب گامزن ہو گیا ہے، شاید ہماری حکومت ابھی بھی نقصان کا اندازہ نہیں کر پا رہی یا وہ اس خطرے سے جان بوجھ کر آنکھیں چرا رہی ہے، وفاقی حکومت پر سرحدیں بند نہ کرنے کے حوالے سے بھی تنقید ہوتی رہی ہے لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی ۔
جو بھی ہو آنے والے دن عوام کو اپنے طور پر ہی سیلف ائسولیشن اپنانی پڑے گی وگرنہ نقصانات کو سنبھالنے کی کپیسٹی ہماری ریاست میں بالکل ہی نہیں ہے اور اگر خدانخواستہ کورونا کے پھیلاؤ میں شدت آتی ہے تو کیا اب اس کی تمام تر ذمہ داری وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ پر ہو گی
فیس بک کمینٹ

