کچھ لوگ خاموشی سے بڑے بڑے کام کر جاتے ہیں اور کانوں کان کرنے والے کی خبر نہیں ہونے دیتے ۔ ایک جزبہ اور لگن کی شمع لئے ہر در اور نگر نگر روشن کرتے ہیں ۔ لیکن مجال ہے تشہیر کی خواہش ہو ۔ کام ہی ان کی خوشی اور مشن کی تکمیل ہی ان کا سرمایہ حیات ہوتا ہے ۔ چند نام تو اپنے ہی ماحول اور جان پہچان کو ہی زندگی کا مرکز اور محور بنا لیتے ہیں اور پھر انہی کی اپنی تمام تر صلاحیتیوں سے آ بیاری کرتے ہیں ۔ لیکن میں اس محمد علی واسطی کی بات کرنے جا رہا ہوں جس نے خاک نشینوں کی اٹھان کے لئے ہاتھ بڑھایا اور جنوبی پنجاب کی ثقافتی روایات اور کرافٹ کو پہچان دلوا کر متعارف کروایا ۔
برسوں سے پسا ہوا طبقہ روائیتی تعلیم سے نا بلد جسکا معاشرے کی گھٹن نے گلا دبوچا ہوا تھا ۔ سامنے آنے کے لئے کسی صورت بھی تیار نہ تھا ۔ لیکن اس مرد آہن نے انکو لا کر ایسی جگہ کھڑا کیا جس سے انکو اپنا صیح مقام کا نظارہ کرنے کو ملے ۔ محمد علی واسطی کا تعلق خانیوال کے ایک معزز اور معتبر گھرانے سے ہے ۔ بنیادی تعلیم خانیوال سے ہی حاصل کی ۔ والدین ڈاکٹر بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ لیکن واسطی اپنی ہی دنیا میں مگن دوسروں کو مقام دلوانے کا متلاشی تھا ۔ فوٹو گرافی سے آغاز کیا اسی کی جدت میں محو، آرٹ کی دنیا میں قدم رکھنے کا منتظر تھا ۔ آخر والدین کو راضی کر لیا اور لاہور این سی اے میں داخلہ لے لیا ۔ یہ اس ایک گم گشتہ آرٹ و کرافٹ کی تاریخ سے پردہ ہٹانے کا نقطہ آغا ز اور خواب کو منزل بنانے کا مشکل سفر ۔ داخلہ کے دوران گاؤں سے ایک ادھیڑ عمر شخص اپنے بیٹے کو پرنسپل صاحبہ کے پاس لایا اور کہنے لگا یہ پڑھ کے کچھ بن جائے گا ۔ محترمہ پرنسپل صاحبہ نی فرمایا شایئد اور کچھ بنے نہ بنے پر انسان ضرور بن جائے گا ۔ اسی انسان بننے کی خواہش نے واسطی صاحب کا اندر بیدار کیا اور کالج کے اندر اور لاہور کی علمی ، ادبی اور ثقافتی خزانہ میں غوطہ زن ہو گئے ۔
گریجویشن کے بعد تقریباً دو سال تک این سی اے میں ہی درس تدریس کا کام کیا ۔ بڑے ارادوں کے آگے یہ منزلیں زینوں کا درجہ رکھتی ہیں ۔ وہ ایک سال کی تعلیم کا ہر سال دھرایا جانا اپ کی طبعیت پر گراں گزرا اور پھر نئی تجربہ گاہوں کا رخ کیا ۔ آپ نے کراچی میں ایک بڑے ادارہ کو جوایئن کیا ۔ اس دوران اپنے مشاہدہ سے آرٹسٹ کی بے قدری کے زخم آپکی طبیعت پر گہرے ہوتے گئے ۔ کام کرنے والے کی بجائے کروانے والے کی پہچان نے آپکو رنجیدہ کر دیا ۔ اخبار کے کاتب بارہ بجے تک خبریں لکھتے اور پھر اخبار کی پرنٹنگ کے لئے جاتا ۔ وہ محنت کش ، انکی اہلیت اور عرق ریزی کا ثمر صرف مالک ہی تک محدود تھا ۔
آپ نے کراچی کو بھی خیر آباد کہہ دیا اور ملتان آ کر ڈیرہ جما لیا ۔ یہاں کی ثقافت ، مصوری ، کرافٹ ، فن کاروں کو دیکھتے ہی بھانپ گئے کہ یہی وہ مرکز اور فن کا معیار ہے جسکا میں متلاشی تھا ۔ کیا اعلی فنکار ، خطاط ، کیمل سکن اور ظروف ، دستکاری اور سٹیج اور سر و سنگت سے مالا مال شہر لیکن انکی مہارت سے بے خبر عوام نے واسطی کو وہ میدانِ عمل دے دیا جو انکی تحریک کا باعث بنا ۔ آپ نے نہ صرف ملتان ، بہاولپور اور ڈیرہ غازی کی ان چھپی صلاحیتوں کا اجاگر کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ۔ یہ وہ وقت تھا جب میری بھی اس دوست سے شناسائی ہوئی ۔ آپ آرٹس کونسل ملتان کے روح رواں تھے ۔ اور ہر وقت فنکاروں کا ایک ہالہ آپکے محو سفر ہوتا ۔ میں نے بھی فوج میں ہوتے ہوئے دو فنکشن کروائے جو تاریخی نوعیت کے ثابت ہوئے ۔ اور خوب داد وصول کی ۔ اپ نے ان فنکاروں کا بڑے پروگراموں میں شامل ہونے اور اپنے فن کو متعارف کرنے پر امادہ کیا ۔ مختلف صوبائی اور قومی فیسٹیول میں شرکت کر کے انکے اعتماد کی بحالی میں بڑا کام کیا ۔ آپکی ایک کوشش جو ابھی تک پایہ تکمیل تک نہ پہنچی وہ ایک کرافٹ کالج کا قیام تھا ۔ جسکی شروعات تو کر دیں لیکن یونیورسٹی کا کرافٹ کا شعبہ بنانے میں کامیابی نہ ملی ۔ فنکار اور آرٹسٹ سے تعلیمی توقع تاکہ وہ ڈیپارٹمنٹ کو ہیڈ کر سکے کا مطلب تھا، فن کی قدر نہیں تعلیمی اسناد کی قدر ہے ۔ جناب واسطی صاحب اس بے قدری کے خلاف دیوار بن گئے اور سب کو باور کرایا کہ اگر فن کی ترقی اور ترویج کے لئے کام کرنا ہے تو انہی کو استاد ماننا پڑے گا نہیں تو یہ انکی توہین ہے اور ٹوٹے سلسلے کی کڑی کو دوبارہ ملانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو جائے گا ۔
یہ ایک قدر اور اعزاز کی جنگ تھی جو میرا دوست واسطی سروس میں دوسروں کی جنگ آخر دم تک لڑتا رہا ۔ جس میں اب بھی اب بھی مزید پیش رفت کی ضرورت ہے ۔ جو آرٹس کونسل کرائے کی بلڈنگ کی دوسری منزل پر قائم تھی اور فردوس جمال ، لغاری ، مستانہ جیسے فنکاروں اور ثریا ملتانیکر اور پٹھانے خان جیسی مایہ ناز موسیقی کی دنیا کی ہستیاں، جہانگیر جیسا مصور سب جناب واسطی کے رفقا تھے ۔ اسکو بھی ایک موضوع مقام دلوانے بھی آپکی کوشش ملتان کے لئے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ۔ اور گھنٹہ گھر کے قریب ایک عالیشان ثقافت کی مظہر عمارت فنکاروں کو اس عظیم انسان کی یاد دلاتی رہے گی ۔ اگر میرا دوست واسطی سروس سے ریٹاٰئر نہ ہوتا تو ان خاک نشینوں کو اپنا مقام دلوا کہ دم لیتا اور کرافٹ کالج کا قیام عمل میں آتا ۔ کیونکہ بازار سے ہر چیز خریدتے وقت ڈیزایئن ہی اسکی بنیاد ہے اور وہ ان ہنر مندوں کا کام ہے جنکی حوصلہ افزائی سے ہم عالمی ٖمعیار میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں ۔ باآخر یہ سرکاری ملازم ریٹائیرمنٹ کی حد کو پہنچ گیا ۔ لیکن سروس ایکسٹینشن اور دوبارہ ملازمت لگن اور خدمت کے جذبہ سے کام کرنے والے لوگوں کا مقدر نہیں ۔ اس کے لئے ایک خاص ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر پاکستانی کے پاس نہیں ۔ خیر عزت اور اعزاز پانے والا میرا دوست دوسروں ہی کی جنگ لڑتا رہا اور ان ہنر مندوں کو وہ مقام دلوا گیا جس نے عزت کی روزی روٹی کا بندوبست کر دیا ۔ اللہ تعالی انکی زندگی میں برکت دے اور جنوبی پنجاب کی آرٹس کونسل کا یہ افسر کم اور خدمت گزار ہمیشہ خوشیوں سے ہمکنار ہو ۔
فیس بک کمینٹ

