Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, جون 7, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • اسلام آباد میں ایک صحافی لاپتہ ہونے کی اطلاعات
  • گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس : وسعت اللہ خان کا کالم
  • مظفر آباد ۔۔ کشمیر میں ہنگامے : عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد حراست میں لے لیے گئے
  • خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے : وجاہت مسعود کا کالم
  • عرض الدین کی عرضداشت اور شیداں تندور والی : شاہدمجید جعفری کی مزاح نوشت
  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد
  • پاکستان کے ساتھ نرمی ؟ برملا/نصرت جاوید کا کالم
  • معیشت کے بارے میں بے بنیاد دعوے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»نصرت جاویدکا تجزیہ۔۔سینٹ الیکشن: آرڈیننس کی حقیقت
تجزیے

نصرت جاویدکا تجزیہ۔۔سینٹ الیکشن: آرڈیننس کی حقیقت

ایڈیٹرفروری 8, 20210 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
pakistan politics ,columns of nusrat javaid at girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

کوئی پسند کرے یا نہیں حکومت مگر یہ ثابت کرنے کو ڈٹ چکی ہے کہ وطنِ عزیز کا سیاسی بندوبست عمران خان صاحب کی خواہشات کے عین مطابق ہی چلے گا۔ آئینی شقیں اور رسوم وقیود اس تناظر میں محض ریت کی بنائی دیواریں ہیں۔پارلیمان کے ذریعے قانون سازی بھی لازمی نہیں۔صدر کے دستخطوں سے جاری ہوئے آرڈیننس سے کام چلایا جاسکتا ہے۔عمران حکومت کے سیاسی مخالفین کی نگاہ سے دیکھیں تو ’’لاڈلے کی من مانیاں‘‘ مادرانہ شفقت سے برداشت کی جارہی ہیں۔معاملہ مگر اتنا سادہ نہیں ہے۔عمران خان صاحب اور ان کے جذباتی حامیوں کو یقین کامل ہے کہ ’’پرانے پاکستان‘‘ میں آئین اور قوانین’’ چورو اور لٹیروں ‘‘ کو معاونت فراہم کیا کرتے تھے۔ ’’اصولی اور صاف ستھری سیاست‘‘کو یقینی بنانے کے لئے کچھ ’’نیا‘‘ کرنا ہوگا۔1990کی دہائی سے ہمارے ہاں یہ تاثر عام ہوچکا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے افراد کی اکثریت ’’بے ایمان‘‘ ہے۔وہ لاکھوں روپے خرچ کرنے اور ’’قیمے والے نان‘‘ کھلانے کے بعد منتخب ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔ وہاں پہنچنے کے بعد انتخاب کے دوران ہوا ’’خرچہ‘‘ پورا کرنے کے علاوہ آئندہ انتخاب لڑنے کے لئے بھی رقم کی تلاش میں رہتے ہیں۔ایوانِ بالا کے لئے ہوئے انتخاب اس ضمن میں رونق بھرا ’’سیزن‘‘ لگادیتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کی قیادتیں سینٹ میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ذہین ومحنتی کارکنوں کو ٹکٹ دینے کے بجائے ان لوگوں کو نوازنے کو ترجیح دیتی ہیں جو ان کی عشرت بھری زندگی کے خرچے اٹھاتے ہیں۔کوئی مالدار شخص ان قیادتوں کو رام کرنے میں ناکام ہوجائے تو وہ ’’آزاد‘‘ حیثیت میں سینٹ کے لئے منتخب ہونے کی کوشش شروع کردیتا ہے۔سیاسی جماعتوں کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے لوگوں کے ساتھ براہِ راست سودے بازی کے ذریعے ایوان بالا میں پہنچ کر ’’معززوباوقار‘‘ ہوجاتا ہے۔
ووٹ کی خریدوفرووخت کی بابت پھیلائی جھوٹی سچی کہانیوں نے ہمارے پڑھے لکھے متوسط طبقے کی اکثریت کو یہ سوچنے کو مجبور کیا کہ سینٹ کی خالی ہوئی نشستوں پر انتخاب خفیہ رائے شماری کے بجائے کھلے بندوں ہو۔سیاسی جماعتوں کو ہر صورت ان کے جثے کے مطابق حصہ ملے۔عمران خان صاحب ’’روایتی سیاست‘‘ کے خلاف اُبلتے غصے کو بھڑکاتے ہوئے ہی برسراقتدار آئے ہیں۔سینٹ کی مارچ 2021میں خالی ہونے والی 48نشستوں پر انتخاب کے دوران ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے خلاف اپنی جانب سے برپا کی جنگ کو بھرپور توانائی سے برقرار دکھانا چاہ رہے ہیں۔اسی باعث ہفتے کے روز ایک صدارتی آرڈیننس جاری ہوا ہے جس نے ’’نظامِ کہنہ‘‘ کے عادی سیاست دانوں اور مبصرین کو حیران وپریشان کردیا ہے۔آئین اور قانون کی نزاکتوں اور با ریکیوں سے نابلد مجھ جیسے صحافی یہ طے کرچکے تھے کہ آئین کے آرٹیکل 226میں ترمیم کئے بغیر سینٹ کی مارچ 2021میں خالی ہونے والی نشستوں پر ’’کھلا‘‘ انتخاب ناممکن ہے۔آئین میں ترمیم کے لئے تاہم پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔عمران حکومت کو یہ سہولت میسر نہیں۔ ’’اسی تنخواہ‘‘‘ میں گزرکرنا ہوگا۔
عمران حکومت تاہم ووٹ کی خریدوفروخت‘‘ روکنے کے مشن پر ڈٹ گئی۔اپوزیشن جماعتوں پر چھائے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو آئین میں ترامیم کے لئے مذاکرات پر مدعو کرنے کے بجائے سپریم کورٹ کے روبرو اپنی فریاد لے گئی۔ صدر مملکت کی وساطت سے پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت سے درخواست ہوئی کہ ماضی کی ’’گندی‘‘ روایات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’’کھلے‘‘ انتخاب کی ہدایت جاری کی جائے۔حکومت کی فریاد پر سپریم کورٹ میں ابھی غور جاری تھا کہ حکومت آئین میں ترمیم کی تجویز لے کر قومی اسمبلی بھی چلی گئی۔حکومت کی تجویز کردہ ترمیم پر سنجیدہ بحث مباحثے کے بجائے ایوان میں گالم گلوچ اور دھکم پیل کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ مجوزہ ترمیم پر ووٹنگ کے بغیرہی قومی اسمبلی کا اجلاس مزید ہنگامہ آرائی سے بچنے کے لئے ’’اچانک‘‘ ختم کردیا گیا۔ حکومت اگرچہ چین سے نہیں بیٹھی۔ہفتے کے روز صدر کے ذریعے ایک آرڈیننس جاری کردیا گیا ہے جو کھلے انتخاب کی راہ بناتا ہے۔قانون سازی کا مسلمہ اصول ہے کہ کوئی فیصلہ کرتے ہوئے ’’اگر‘‘ کا استعمال نہیں ہوتا۔ہفتے کے روز جاری ہوا آرڈیننس اس تناظر میں ’’تاریخی‘‘ہے کیونکہ اس میں سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے کی بابت ’’اگر‘‘ کا استعمال ہوا ہے۔فرض کیا کہ سپریم کورٹ بالآخر اس نتیجے پر پہنچی کہ خفیہ رائے شماری سے وابستہ تمام تر قباحتوں کے باوجود کھلا انتخاب کروانا آئین میں ترمیم کئے بغیر ممکن نہیں تو حکومت کی بہت سبکی ہوگی۔حکومت کی فریاد مان لی گئی تو عدلیہ کی آزادی اور ساکھ کی بابت وسوسے پھیلائے جائیں گے۔ حکومت اس کے باوجود یہ پیغام دینے میں ہر صورت کامیاب رہے گی کہ سینٹ کی خالی ہونے والی نشستوں پر ووٹ کی خریدوفروخت کو روکنے کے لئے اس نے ہر ممکنہ قدم اٹھانے سے گریز نہیں کیا ۔’’اصولی مؤقف‘‘ پرڈٹی رہی۔ روایتی اور سوشل میڈیا پر حاوی ’’بیانیوں کی جنگ‘‘ کے یرغمال ہوئے سیاسی کھیل میں یہ ایک توانا ترین پیغام ہوگا۔ اس کی تکرار اپوزیشن جماعتوں کو ’’نظام کہنہ‘‘کے عادی ’’چور اور لٹیروں‘‘کی صورت پیش کرے گی۔پراپیگنڈہ محاذ پر کامیابی وکامرانی کے جھنڈے بلند کرنے کے جنون میں مبتلا تحریک انصاف کے نورتن مگر یہ سمجھ نہیں پارہے کہ کھلے انتخاب کے لئے اپنائی ان کی ضد یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ عمران خان صاحب کو تحریک انصاف کی نشستوں پر بیٹھے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی نیت پر اعتبارنہیں رہا۔ان کی مؤثر تعداد ’’خودمختار‘‘ ہونے کو بے چین ہے۔ اس تناظر میں پیغام یہ بھی پھیلے گا کہ ہفتے کے دن جاری ہوا ا ٓرڈیننس درحقیقت ووٹ کی خرید وفروخت روکنے کے لئے نہیں بلکہ حکمران جماعت میں ابھرتی حقیقی یامفروضہ ’’بغاوت‘‘ کے قلع قمع کی گھبراہٹ دکھاتی کوشش ہے۔ریاست کے دیگر ستونوں سے بھی اس تناظر میں معاونت کی درخواست ہوئی ہے۔صاف ستھری اور اصولی سیاست کے فروغ پر اپنے تئیں مامور تحریک انصاف ’’نئے پاکستان‘‘ میں یقینا حیران کن فیصلے کررہی ہے۔کئی حوالوں سے اس کی جرأت داد کی مستحق ہے کیونکہ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے اس نے پارلیمان کے بجائے ریاست کے دیگر ستونوں سے بھی کھلے بندوں مدد مانگ لی ہے۔اپوزیشن جماعتوں میں موجود ’’کائیاں اور تجربہ کار‘‘ سیاست دانوں کا ہجوم اس کے ’’حسنِ کرشمہ ساز‘‘ سے ہکا بکا ہوگیا ہے۔اعلیٰ عدالت کے روبرو گڑگڑانے کے علاوہ اسے کوئی اور راہ نظر نہیں آرہی۔ عمران حکومت اپنی ضد اورترجیح کے مطابق سینٹ کی 48نشستوں پر انتخاب کروانے میں کامیاب ہوگئی تو خفیہ رائے شماری کی ’’برکت‘‘ سے حیران کن نتائج دکھانے کے منصوبے ’’اُڑنے بھی نہ پائے تھے…‘‘ والے مخمصے کا شکار ہوجائیں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleفاروق عادل کا کالم۔۔ایک خواب جسے دیکھنے کی اجازت نہیں
Next Article فاروق عادل کی تحقیق : شیخ مجیب کے چھ نکات اور اپوزیشن لیڈروں کا رویہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اسلام آباد میں ایک صحافی لاپتہ ہونے کی اطلاعات

جون 7, 2026

گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس : وسعت اللہ خان کا کالم

جون 7, 2026

مظفر آباد ۔۔ کشمیر میں ہنگامے : عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد حراست میں لے لیے گئے

جون 7, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • اسلام آباد میں ایک صحافی لاپتہ ہونے کی اطلاعات جون 7, 2026
  • گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس : وسعت اللہ خان کا کالم جون 7, 2026
  • مظفر آباد ۔۔ کشمیر میں ہنگامے : عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد حراست میں لے لیے گئے جون 7, 2026
  • خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے : وجاہت مسعود کا کالم جون 6, 2026
  • عرض الدین کی عرضداشت اور شیداں تندور والی : شاہدمجید جعفری کی مزاح نوشت جون 6, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.