معروف لکھاری صائمہ ملک کی کتاب ”گزرے تھے ہم جہاں سے“ (کچھ یادیں، کچھ باتیں) حسن ِترتیب کے اعتبار سے ڈراموں، کالموں اور افسانوں کا مجموعہ ہے۔ کتاب میں شامل تمام ڈرامے، کالم اور افسانے اگرچہ مختلف موضوعات پر ہیں، لیکن ان میں فکر و سوچ کا تسلسل موجود ہے، نیز ان کے کردار ہمارے معاشرے کی بھرپور عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کتاب کی مصنفہ صائمہ ملک نے اپنی کتاب میں شامل ڈراموں، کالموں اور افسانوں میں خواتین کے مسائل، ان کی سماجی، معاشرتی اور نفسیاتی مشکلات کو بلاجھجک،بے باکی اور کمال ِمہارت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ زیر نظر کتاب میں صائمہ ملک نے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے سماج میں عورت کو قابل استعمال شہ، اور خدمت کرنے والی کنیز سمجھا جاتا ہے، ورت خواہ بیوی ہے، بہن ہے، ماں ہے، یا بیٹی ہے، اسے اپنے شوہر، بھائی، باپ اور بیٹے کا ہر حکم ہر حالت میں ماننا ہے۔ اسے دوسرے الفاظ میں یہ کہاجا سکتا ہے کہ عورت مرد کی فرعونیت برداشت کرنے اور اس کے احکامات کی تعمیل کے لیے بنی ہے۔ صائمہ ملک نے زیر نظر کتاب میں شامل اپنی ہر تخلیق میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو مساوی حقوق دیےن کا کوئی تصور موجود نہیں ہے،یہاں تک کہ اس کی خواہش اور سوچ بھی مرد ہی کے تابع رہتی ہے۔ صائمہ ملک کی زیر نظر کتاب میں مردوں کے مظالم اور خواتین کی مظلومیت کا رونا نہیں رویا گیا ہے، نہ ہی صائمہ ملک نے اپنی تخلیقات میں مغربی سوچ یا لبرل ازم کو حاوی ہونے دیا ہے، بلکہ انہوں نے سماج میں ان دیکھی اور نظر آنے والی خامیوں، برائیوں، غلط فہمیوں اور بے ایمانیوں کو حقائق کے پس منظر میں پیش کیا ہے، جسے جرا¿ت اور بے باکی کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس بے باکی کو فحش نگاری کا نام دینا نہ صرف غلط ہو گا بلکہ زمینی حقائق سے انحراف بھی ہو گا۔ میری ذاتی رائے میں صائمہ ملک نے اپنی کتاب میں خواتین کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ امتیازی سلوک، تشدد، استحصال اور بدسلوکی سے محفوظ رہنا ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔ صائمہ ملک کو چاہیے وہ اپنی کتاب کو گرلز کالجوں اور جامعات کی لائبریریوں تک پہنچانے کی کوشش کرے، نیز اسے حقوق ِنسواں کے لیے سرگرم تنظیموں کی عہدیداروں تک بھی رسائی دلائے، تاکہ حقوق ِنسواں کی تنظیمیں اس کتاب کو عام خواتین تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔ زیر نظر کتاب میں صائمہ نے مشرق کی روایتی عورت کی طرح حقائق کو چھپانے کے بجائے انہیں اس طرح منظر عام لائی ہیں کہ ان کی تخلیقات کو سطح عمومی سے دیکھنے والے چونک کر رہ جاتے ہیں، اور اسے بے باکی کا نام دے سکتے ہیں۔ صائمہ ملک کی کتاب کے نام گزرے تھے ہم جہاں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں شامل تخلیقات، ان کے مشاہدات، وادارت قلبی اور تجربات پر مشتمل ہیں۔ ان مشاہدات اور تلخ تجربات کے ذریعہ انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ جہاں سے گزری ہیں، اس میں کتنے خار مغلیاں تھے اور کتنے گلاب و چنبیلی کے پھول تھے۔ صائمہ ملک نے خواتین پر ونے والی زیادتیوں اور مظالم کا کرب، اور مشکلات میں شامل ڈراموں اور افسانوں کے کرداروں کی زبان سے کہلوایا ہے۔ بزرگان ِدین کے شہر ملتان سے تعلق رکھنے والی صائمہ ملک نے جس جرا¿ت اور بے باکی سے ان مشاہدات، تلخ تجربات اور وادارت قلبی کو صفحہ قرطاس پر بکھیرا ہے، ان کو دام تحریر میں لانے کے لیے مرد لکھاریوں کو بھی سوچنا پڑتا ہے۔ صائمہ ملک کی جرا¿ت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی کتاب کے آغاز ہی میں اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ یہی وہ گنہگار عورت جو اپنے ساتھ چار پاکباز مردوں کو بھی جہنم میں لے جا سکتی ہے۔ اس جملے میں چھپے ہوئے طنز اور تلخ حقائق کا روگ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ہے۔ کتاب ”گزرے تھے ہم جہاں سے“ 168 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں حسن ِترتیب کے حساب سے چار ڈرامے، کم و بیش دو درجن کالم اور 8 افسانے شامل کیے گئے ہیں، جبکہ جمشید اقبال اور مجاہد عیشائی کا اظہار خیال بھی شامل ہے، جبکہ بیک ٹائٹل پر وجاہت مسعود، ڈاکٹر اختر علی سید، فصیح باری خان، اور علی معین نے کتاب اور مصنفہ پر اپنی آراءتحریر کی ہیں۔ صائمہ ملک کی کتاب کا سرورق اگرچہ سادہ ہے، لیکن کتاب کے نام کے نیچے قوسین کے درمیان (کچھ یادیں، چند باتیں) لکھ کر اپنی تصویر کو سرورق کی زینت بناتے ہوئے اسے خود نوشت یا آپ بیتی ہونے کا تاثر دیا گیا ہے، اگرچہ اس کتاب کا سارا متن آپ بیتی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، لیکن اسے مشاہدات، تلخ تجربات اور واردات قلبی کا اظہار کہا جا سکتا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ کتاب ادبی حلقوں کے ساتھ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی عہدیداروں اور کارکنوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں ہو گی۔
مقبول خان کا تبصرہ:صائمہ ملک کی کتاب”گزرے تھے ہم جہاں سے”میں خواتین کے مسائل کو بلاجھجک، بے باکی اور کمال ِمہارت کے ساتھ پیش کیا گیا
ایڈیٹر21 Views
Previous Articleفیصلہ چیلنج نہیں ہو تو حتمی ہوتا، آئین کے مطابق چلنے کی ضرورت ہے، بہانہ تلاش نہ کیاجائے: چیف جسٹس
Next Article رضی الدین رضی میری چڑیا : علی نقوی کا اختصاریہ

