خالقِ کائنات نے قدرتی وسائل کی تقسیم میں کہیں کوئی ناانصافی نہیں کی، کسی ملک اور قوم کو تیل اور گیس کی دولت سے نوازا ہے تو کسی کو دیگر معدنیات کی نعمتیں عطا کی ہیں۔ کسی ملک کو وافر زرعی زمین میسر ہے تو کہیں جنگلات کی بہتات ہے۔ دنیا کے 190سے زیادہ ملک طرح طرح کی قدرتی نعمتوں سے مالامال ہیں۔ موجودہ عہد میں صرف وہی ملک ترقی یافتہ اور خوشحال ہیں جنہوں نے ان قدرتی وسائل کو اپنے ملک اور قوم کی امانت سمجھا۔ یونائیٹڈ کنگڈم بنیادی طور پر ایک زرعی ملک نہیں ہے لیکن یہاں گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران کبھی خوراک یا زرعی اجناس کی قلت نہیں ہوئی۔ برطانیہ کو جو قدرتی وسائل میسر ہیں اُن میں کوئلہ، پٹرولیم، قدرتی گیس، جپسم اور دیگر معدنیات شامل ہیں۔ یوکے دنیا بھر سے کھانے پینے اور روز مرّہ استعمال کی اشیا امپورٹ کرتا ہے اور اس ملک کے رہنے والوں کو یہ اشیا اُن کی قوت خرید کے مطابق میسر آ جاتی ہیں۔ برطانیہ میں آباد اوورسیز پاکستانیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ وطنِ عزیز کو قدرت نے جن نعمتوں سے نوازا ہے اگر اُن سے استفادہ کر کے انہیں ملک و قوم کی فلاح کے لئے استعمال میں لایا جائے تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ سی پیک کے بعد ریکوڈک ایک ایسا منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے ذریعے پاکستان کی مفلوک الحالی اور اقتصادی بدحالی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
پاکستانی تارکین وطن کی اکثریت ریکوڈک کی اہمیت اور افادیت سے لاعلم ہے۔ ریکوڈک (RECO DIQ)پاکستان کے صوبے بلوچستان کے چاغی ڈسٹرکٹ میں ایک ایسا علاقہ ہے جہاں سونے اور تانبے کے تقریباً 6بلین ٹن کے ذخائر موجود ہیں۔ اس اعتبار سے اس کا شمار دنیا کے چند بڑے معدنی خزانوں میں کیا جا رہا ہے۔ ریکوڈک کا معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ورلڈ بینک کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل سنٹر فار سیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹ نے 2019ء میں حکومت پاکستان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اس فرم کو 6بلین امریکی ڈالرز کی ادائیگی کا حکم سنایاجس نے ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی دریافت کے لئے اپنی فزیبیلٹی رپورٹ مکمل کی تھی اور حکومت بلوچستان سے اس کی 40سالہ لیز حاصل کرنے کی درخواست بھی دائر کی تھی۔ لیز کی درخواست مسترد ہونے پر ٹیدین کاپر کمپنی (TCC)نے حکومت پاکستان کے خلاف ساڑھے آٹھ بلین ڈالرز ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا تھا۔ درحقیقت ٹی سی سی نے 2010ء میں ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کا پتہ لگایا تھا جس کے بعد فزیبیلٹی تیار کر کے 2011ء میں ایک درخواست بلوچستان حکومت کو لیز کے حصول کے لئے دی گئی جس کے مسترد ہونے پر یہ تنازعہ طول پکڑ گیا۔ اس دوران پاکستان میں حکومتیں بھی بدلتی رہیں البتہ حکومت پاکستان نے ہرجانے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جس کے نتیجے میں وہ خطیر رقم کا ہرجانہ ادا کرنے سے بچ گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان نے اس سال کے آغاز میں ایک اور کمپنی برسٹو (BRISTOW)سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت حکومتِ بلوچستان کو ابتدائی طور پر تین ملین ڈالرز کی پیشگی ادائیگی کر دی گئی ہے۔ اس منصوبے سے بلوچستان میں تقریباً ساڑھے سات ہزار لوگوں کو ملازمتیں میسر آئیں گی۔ اس منصوبے میں کینیڈا کی کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن کے علاؤہ کئی اور کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ ملٹی بلین ڈالر زکے اس منصوبے سے پاکستان کو کتنے فیصد ملے گا اور سونا/تانبا نکالنے والی کمپنیز کا حصہ کتنا ہو گا؟اس کی تفصیلات تو تحریری معاہدے کے مندرجات دیکھ کر ہی بتائی جا سکتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ساؤتھ افریقہ سے سیار الیون تک جہاں جہاں بھی غریب ملکوں میں سونے کے ذخائر دریافت ہوئے اس کا فائدہ اُن ممالک کو کم اور مائننگ کمپنیز کو زیادہ ہوا ہے۔ اسی طرح مڈل ایسٹ سے نائیجیریا تک جن ممالک میں تیل کے خزانے پائے گئے وہاں بھی تیل نکالنے والی مغربی کمپنیاں زیادہ فائدے میں رہیں یا پھر اُن ممالک کے ارباب اختیار نے معدنیات کی دولت سے اپنی جیبیں بھریں، ملک اور قوم کو اِن قدرتی نعمتوں کا کچھ فائدہ نہ ہوا۔
ریکوڈک سے سونے اور تانبے کو نکالنے کے منصوبے کا آغاز 2027-28 ء میں ہو گا یعنی اس خزانے سے پروڈکشن کی ابتداء ہو گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس منصوبے کا فائدہ ملک و قوم کو بھی ہو گا اور ہم اقتصادی بحران سے نجات حاصل کر سکیں گے؟ یا پھر سونے اور تانبے کی کانوں سے ملنے والی رائلٹی یا آمدنی سے ہمارے اربابِ اختیار کے ذاتی خزانوں میں اضافہ ہو گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ریکوڈک میں سونے کی جو کانیں موجود ہیں وہ دنیا بھر میں سونے کا پانچواں بڑا ذخیرہ ہیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے مطابق 1978ء میں جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے دوران ریکوڈک میں سونے کے ذخائر کا پتہ لگا لیا گیا تھا۔ اگر ایسا ہی ہے تو اِن ذخائر سے سونے کے حصول میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی۔ ریکوڈک کا منصوبہ واقعی پاکستان کو اقتصادی خوشحالی کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔ فی الحال یہ کہا جا رہا ہے کہ اس پراجیکٹ سے ہونے والی آمدنی کا پچاس فیصد حصہ بیرک گولڈ کارپوریشن، 25فیصد بلوچستان اور 25فیصد حکومت پاکستان کو ملے گا۔ ایک اندازے کے مطابق اگر ریکوڈک کے خزانے سے چالیس برس تک سونا اور تانبا نکلتا رہے گا تو اس سے ہونے والی کل آمدنی کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان دشمن عناصر کی گذشتہ کئی برسوں سے یہ پوری کوشش ہے کہ بلوچستان کے حالات کو بدامنی اور مسائل کی لپیٹ میں رکھا جائے تاکہ سی پیک اور ریکوڈک جیسے منصوبوں کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ پاکستان کے دشمنوں کو اس حقیقت کا پوری طرح ادراک اور اندازہ ہے کہ اگر مذکورہ دو منصوبے کامیابی سے ہمکنار ہو گئے تو واقعی پاکستان کی اقتصادی تقدیر بدل سکتی ہے اور پاکستان کو کسی عالمی مالیاتی ادارے یا آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کی بھی حاجت نہیں رہے گی۔ جو عناصر پاکستان کو اقتصادی طور پر مستحکم ہوتے نہیں دیکھ سکتے وہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے کے لئے ہر حربہ آزما رہے ہیں۔ یہ کس قدر دلچسپ حقیقت ہے کہ پاکستان میں کوئلے، معدنی نمک، کرومائیٹ، باکسائٹ، خام لوہے، سنگ مرمر، قدرتی گیس، قیمتی پتھروں اور دیگر معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں لیکن اِن قدرتی وسائل کو غلط حکمت عملی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ملکی اور قومی مفاد کے لئے استعمال میں نہیں لایا جا سکا۔نہ تو اِن قدرتی وسائل کے حصول کے جدید طریقے استعمال کئے جاتے ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر اس کی مارکیٹنگ کر کے ایکسپورٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال پاکستان کا گلابی نمک ہے جس کو کئی غیر ملکی کمپنیاں کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر اس کی شاندار پیکنگ کر کے بین الاقوامی مارکیٹ سے لاکھوں ڈالرز منافع کماتی ہیں۔
اسی طرح گندم، کپاس، گنّے، آم، کھجور اور کینو کی پیداوار کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا دسواں بڑا ملک ہے مگر ہم عالمی منڈی میں اپنی اِن تمام اشیاء کی کامیاب مارکیٹنگ یا ایکسپورٹ نہیں کر پاتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو معلوم نہیں کیوں اس کا فائدہ ہماری قومی معیشت کو کم ہی ہوتا ہے۔ ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ ریکوڈک کے قدرتی وسائل سے ہماری قومی معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچے اور ہمیں بیرونی قرضوں اور کشکول سے نجات ملے تاکہ ہم اپنی آزادی اور خود مختاری کا اپنی شرائط پر تحفظ کر سکیں۔
فیس بک کمینٹ

