وہ لمبی میز کے گرد ترتیب سے پڑی کرسیوں کی قطار میں کنارے والی کرسی پر بیٹھی تھی۔۔۔پہلے آنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ من پسند جگہ کا انتخاب کر سکیں اور دیر سے آکر پہلے سے موجود لوگوں کی نظروں سے بھی بچ جائيں۔۔۔یہ روزانہ صبح معمول کی میٹنگ کا ایک عام سا دن تھا جب وہ اپنی زکام زدہ ناک اور بھاری سر کے ساتھ بمشکل بیٹھی تھی۔۔۔اس کے سامنے آہستہ آہستہ لوگ آتے گئے اور میٹنگ شروع ہوگئی۔۔۔روزانہ کے برعکس وہ سب کو سن تو رہی تھی لیکن بےتوجہی سے۔۔تمام لوگ باری باری اپنی جگہ سے اٹھتے اور زیر بحث موضوع پر اظہار راۓ کرتے۔۔اور سوالات کے جواب دے کر واپس آکر بیٹھ جاتے۔۔ایسے ہی سب کو سنتے وہ اپنی باری کی منتظر تھی جب اسے اپنے ساتھی کے الفاظ نے جھنجھوڑ کر خيالات کی دنیا سے باہر نکالا۔۔۔
اس نے اپنا دستی کمپیوٹر کھولا ،سکرین پر اپنے الفاظ دیکھے اور سامنے پراجیکٹر کی سکرین پر ساتھی کے الفاظ بھی۔۔۔ہو بہو وہی الفاظ بس نام کی تبدیلی۔۔۔وہ حیرانی سے کبھی اپنے لفظ دیکھتی کبھی سامنے۔۔۔اس نے بولنے والے کی طرف دیکھا۔۔۔لمحہ بھر کو نظریں ملیں۔۔۔اور اس کے ساتھی نے فوراً نظروں کا رخ پھیر لیا۔۔۔۔ادھر بے یقینی،غصہ اور ضبط کی کوشش میں اس کی آنکھیں بیک وقت خفگی لیے شکوہ کناں تھیں لیکن شدت جذبات میں آنکھیں آنسووں سے بھر گئی اور وہ طبیعت کا بہانہ کر کے باہر نکل آئی۔۔۔۔اس کو کام کرتے آٹھ ماہ ہو چکے تھے اس کے کام کی پابندئ وقت کی اور اچھے اخلاق کی وجہ سے اس کا دفتر میں اچھے ورکرز میں شمار ہوتا تھا۔۔اس لیے اس کو طبیعت کی خرابی کی وجہ سے رخصت مل گئی۔۔وہ دفتر میں اپنی سینئر کے پاس آئی ۔۔عالیہ باجی نے اس کو اولین دنوں میں رہنمائی بھی کی تھی اور اب بھی کرتی تھی ۔۔۔اس نے اپنا مسئلہ سنایا۔۔۔اور پھر سر جوڑ کر بیٹھنے اور غور کرنے پر معلوم ہوا کہ اس نے اپنی اچھائی اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے اپنے ساتھی کو اس کی درخواست پر اپنا کمپیوٹر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔۔۔اور جس کے ساتھ نیکی کی جاۓ اس کے شر سے بچ نہیں سکی تھی۔۔۔مدد کی آڑ میں وہ نقل کر کے اس کا پورا منصوبہ ہی لے گيا تھا۔۔۔یہ کہانی ان دونوں کی سمجھ میں آگئی تھی لیکن ثبوت کے بغیر کہانی کسی کو سنانے کا مطلب مگرمچھ سے بیر لینے کے برابر تھا۔۔بھلا ہو سی سی ٹی وی کا۔۔۔وہ دونوں سیکیورٹی اور آفس میں نظم وضبط برقرار رکھنے اور آنے جانے والوں کی آمدورفت کے اوقات پر نظر رکھنے کی خاطر لگاۓ کیمروں سے صاحب بہادر کمپیوٹر استعمال کرتے اور نظر بچا کر کمپیوٹر سے نقل کرتے ہوۓ دکھائی دے رہے تھے۔۔۔ان کو امید نہیں تھی کہ وہ بےوقوف سی لڑکی اپنے الفاظ اور آیڈياز کی چوری پر اتنی حد تک جا سکتی۔۔۔معاملہ ختم ہوا تو عالیہ باجی اسے شانت رکھنے کی خاطر ساتھ لے آئيں۔۔اب وہ بیٹھ کر سارے معاملے کو از سر نو یاد کر کے غصہ غم اور ندامت کا شکار ہو رہی تھی۔۔وہ سب کے کام آتی تھی اپنا کام بھی مکمل رکھتی تھی لیکن پھر بھی اس کو بےوقوف بنانا۔۔۔اخلاق کا اچھا ہونا کس قدر برا تھا اس کے لیے۔۔باس کے پاس جا کر غصے کے اظہار سے پہلے اس کےآنسووں کا نکل آنا اس کو شرمسار کر رہا تھا۔۔۔عالیہ باجی اس کو حوصلہ دیتی جارہی تھیں اور ساتھ ساتھ گھر جاتے ہوۓ راستے سے اپنے کام نمٹا رہی تھیں۔۔۔سبزی لینا، گروسری کرنا، بچوں کی فیس ادا کرنا ،گھر پہنچ کر عالیہ باجی نے بچوں کے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی کھانا لگایا ۔۔سالن وہ شام میں بنا کر جاتی تھیں۔۔۔کھانے کے بعد چاۓ پیتے پیتے عالیہ باجی نے شام کو دعوت کے لیے بننے والے پکوان بھی چڑھاۓ، بچوں کو ہوم ورک کرنے بٹھایا اور اگلے روز کے لیے صاف یونیفارم کی موجودگی یقینی بنائی۔۔اس نے عالیہ باجی کی ہمت کو داد دی جو بغیر کسی وقفے کے مستقل دفتر گھر بچے اور خاندان کے امور نبھا رہی تھیں لیکن وہ جانتی تھیں عالیہ باجی کے سسرالی ان سے پھر بھی اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں سے ناراض ہی رہتے تھے۔۔۔ایک ورکنگ وومن کو کام کی جگہ پر اپنے آپ کو منوانے کے لیے ساتھی مرد کولیگ سے دوہری محنت کرنا پڑتی ہے۔۔۔اگر بداخلاق ہو گی تو ساتھ والے کام نہیں کرنے دیں گے، خوش اخلاق ہو گی تو یا کردار کی خير نہیں یا پھر بہانے بنا کر مجبوریاں بتا کر مدد کے نام پر فائدہ اٹھایا جاۓگا۔۔۔سینئرز بھی خواتین ورکر کے کام کی تعریف کے معاملے میں یا تو لڑکیوں کو فیور دینے کے الزام کے ڈر سے حق تلفی کر جاتے یا پھر کام کی بجاۓ دوسرے پہلووں کی تعریف کر کے عورت کا کام کرنا مشکل کر دیتے۔۔۔۔وہ بیماریاں جن کے ساتھ گھر کے باقی افراد چھٹی کر کے آرام کرتے اس طبیعت کے ساتھ تو خاتون خانہ سارے کام نمٹاتی جاتی ہے۔۔۔چھٹی کا دن باقیوں کے لیے تفریح کا دن ہوتا ہے لیکن ورکنگ وومن کے لیے تعطیل مزید کام اور تھکن کا سامان کرتی۔۔عالیہ باجی کا شکریہ ادا کر کے وہ گھر کے لیے نکل آئی۔۔اسے واپس جاتے ہوۓ ابا کی دوا بھی لے کر جانی ہے کیونکہ جب سے بھائی گھر الگ گھر میں منتقل ہوا تھا اماں ابا کی تکلیف اور اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گيا تھا۔۔۔ابا اسے کہتے تھے وہ ابا کی بیٹی نہیں بیٹا ہے۔۔۔لیکن اس کو ہمیشہ اس بات سے اعتراض تھا اور یہ اعتراض بڑھ ہی رہا تھا کہ بیٹا تو ان سب مشکلات کے بغیر جو کہ اسے بطور بیٹی درپیش تھیں ان کا سہارا بننے کی ہمت نہیں رکھتا تھا ۔۔۔۔جو کہ وہ کر رہی تھی اور بخوشی کر رہی تھی۔۔۔عورت میں بڑی ہمت ہوتی وہ بیک وقت ممتا، محبوبہ،مددگار،دوست ،اولاد کا بطور والدین اور والدین کو بچوں کی طرح سنبھال سکتی ہے۔۔۔لیکن جو چيز اس کو ناپسند ہے وہ ہے اس کو کمزور سمجھ کر ،معصوم دیکھ کر بےوقوف بنانا۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

