Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, مئی 13, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • Navigating the Best Betting Sites with an Eye on User-Friendly Design
  • Coronavirus disease 2019
  • Wettanbieter Österreich toont verrassende eenvoud in online weddenschappen voor beginnende spelers
  • tc-check-https://test.com
  • Casinos Online Novos: Conheca as Melhores Plataformas em Portugal
  • Пинко казино отзывы: чего ожидать от игр?
  • جوہری صلاحیت کا حامل ایران عالمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • Wichtige Faktoren bei Buchmachern ohne Oasis und Auszahlungsbedingungen
  • 1xbet Login Finland Official Internet Site Online Betting Web-site ᐉ Sports Chances & Lines
  • Aviator Gerçek Parayla Oynanan Bir Oyundur Resmi Oyun Sitesi”
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تازہ ترین»نصرت جاویدکا کالم :”ٹرمپ واقعی "من باتوں میں موہ لیتا ہے”
تازہ ترین

نصرت جاویدکا کالم :”ٹرمپ واقعی "من باتوں میں موہ لیتا ہے”

ایڈیٹرجنوری 21, 20257 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
nusrat javaid
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

جوانی سے ’’سرخ انقلاب‘‘ کے خواب دیکھنے والے مجھ جیسے پاکستانیوں کو ڈونلڈ ٹرمپ مختلف وجوہات کی بنا پر پسند نہیں۔ اپنے دل ودماغ میں کئی دہائیوں سے برف کی مانند منجمد ہوئے تعصبات کے باوجود میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ حالیہ امریکی تاریخ میں ری پبلکن جماعت کے ٹکٹ پر ٹرمپ واحد شخص ہے جو ریکارڈ بناتی اکثریت کی حمایت سے اس ملک کا صدر منتخب ہوا ہے۔ اس کے انتخاب کے بعد میں ٹوہ لگانے کی کوشش میں مصروف ہوں کہ اپنے ووٹروں کا جی لبھانے کے لئے ٹرمپ کیا ’’جگاڑ‘‘ لگاتا ہے۔
ہمارے ہاں ہی نہیں بلکہ امریکی میڈیا کی اکثریت بھی یہ تاثر فروغ دیتی رہی کہ ٹرمپ بنیادی طورپر سفید فام نسل پرست سوچ کو ڈھٹائی سے اپنا کر دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کو مگر جوووٹ ملے ہیں ان کا تجزیہ کریں تو بآسانی دریافت ہوجاتا ہے کہ محض سفید فام نسل پرست ہی نہیں بلکہ افریقی اور سپین سے امریکہ میں نسلوں سے آباد افراد نے بھی اسے حیران کن تعداد میں ووٹ دئے ہیں۔ ان کے ووٹ کم از کم مجھے یہ پیغام دیتے ہیں کہ عام سوچ کے برعکس افریقہ اور سپین سے نسلی تعلق رکھنے والے بھی فی الوقت کسی خاتون کو وائٹ ہائوس میں براجمان ہوا دیکھنے کو آمادہ نہیں۔
ہیلری کلنٹن کا تعلق سفید فام اشرافیہ سے تھا۔ اس کا شوہر بھی کسی زمانے میں امریکہ کا مقبول ترین صدر رہا تھا۔ سفید فام اشرافیہ کی ہر حوالے سے مجسم نمائندہ ہیلری کو بھی لیکن ٹرمپ کے مقابلے میں کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ اب کی بار ٹرمپ کا مقابلہ کملاہیرس سے تھا جو آخری دم تک طے نہیں کر پائی کہ وہ نسلی اعتبار سے خود کو افریقہ سے آئے لوگوں کی نمائندہ بناکر پیش کرے یا خود کو بھارتی نڑاد پکارے۔ ٹرمپ کا ہیلری اور کملا کے مقابلے میں جیتنا واضح طورپر یہ پیغام دیتا ہے کہ امریکی معاشرہ ابھی تک عورت کو مرد کے مقابلے میں کم تر اور کمزور صنف شمار کرتا ہے۔ اسے عنان حکومت سونپنے کو تیار نہیں اور یہ سوچ فقط سفید فام نسل پرستوں تک ہی محدود نہیں ہے۔
امریکہ کے مقابلے میں پاکستان جیسے ملک ’’قدامت پرست‘‘ تصور ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں مگر 1964ء میں محترمہ فاطمہ جناح نے اس دور کے فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کی حکومت کو للکارا۔ ایوب خان کو اس برس صدر منتخب ہونے کے لئے ریاستی فیاضی کے علاوہ جابر ہتھکنڈے بھی استعمال کرنا پڑے۔ نیشنل عوامی پارٹی کو سپریم کورٹ کے ہاتھوں 1974ء میں ’’ملک دشمن‘‘ قرار دلوانے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اس جماعت کا اپنے تئیں خاتمہ کردیاتھا۔ نیشنل عوامی پارٹی کے رہ نما خان عبدالولی خان کی اہلیہ اور باچا خان کی بہو -بیگم نسیم ولی خان مگر پردے سے نکل کر سیاسی میدان میں اتریں اور نیشنل عوامی پارٹی کو نیشنل ڈیموکریٹ پارٹی کی صورت زندہ رکھا۔ جنرل ضیاء الحق کے گیارہ برس تک پھیلے مارشل لاء کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو مزاحمت کی علامت بنی رہیں۔ بعدازاں انہیں تقریباََجوانی میں مسلم دنیا کی پہلی منتخب وزیر اعظم ہونے کا اعزاز بھی نصیب ہوا۔ عورت اور مرد سیاستدانوں کے مابین تقابل تک البتہ محدود رہا تو مجھے جنوبی ایشیاء کے حوالے سے سری لنکا، بھارت اور بنگلہ دیش کا ذکر بھی کرنا ہوگا۔
آج کالم میں مگر تاریخ کو زیر بحث لانا نہیں چاہ رہا۔ ابلاغ کا عاجز اور کافی حوالوں سے نکما طالب علم ہوتے ہوئے میں درحقیقت ٹرمپ کی ’’کشش‘‘ دریافت کرنا چاہتا ہوں۔انگریزی زبان میں ان دنوں Communication Strategic کا بہت ذکر ہوتاہے۔ میرے کئی جاننے والے اس کے ماہر تسلیم ہوئے اور اس کی وجہ سے قابل رشک تنخواہ اور مراعات سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ میں جاہل اس اصطلاح کا مطلب ہی آج تک سمجھ نہیں پایا۔ بہرحال کسی رہ نمائی کے بغیر میں ان دنوں یوٹیوب کی مہربانی سے ٹرمپ کے ان انٹرویوز کو بہت غور سے سن رہا ہوں جو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے اس نے اپنے پسندیدہ صحافیوں کو دئے ہیں۔ نظر بظاہر ٹرمپ انتہائی سادہ اور بسااوقات بچگانہ گفتگو کرتا سنائی دیتا ہے۔ وہ مگر بہت کائیاں شخص ہے۔ 2024ء کا انتخاب جیتنے کے بعد مسلسل اصرار کررہا ہے کہ اس کی کامیابی کا راز ’’کامن سینس سیاست‘‘ ہے۔ مختصراََ یوں کہہ لیں کہ وہ عام فہم باتوں سے ووٹروں کے دل موہ لیتا ہے۔ میں اس کا دعویٰ سن کر اس کی گفتگو کا سنجیدگی سے مشاہدہ کرنے کو مجبور ہوا۔ برف کی مانند دل ودماغ میں منجمد ہوئے تعصبات کو بھلاکر غور کیا تو اندازہ ہوا کہ ٹرمپ واقعتا من باتوں میں موہ لیتا ہے۔
اپنے ہر انٹرویو میں مثال کے طورپر ٹرمپ بائیڈن حکومت پر Incompetence” "Gross یعنی بدترین نکمے پن کا الزام لگاتا ہے۔ اپنے الزام کے ثبوت میں ہمیشہ جولائی 2021ء میں افغانستان سے امریکی افواج کے ذلت آمیز انخلاء کا حوالہ دیتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج نکالنے کا معاہدہ ٹرمپ کے دور صدارت میں طے ہوا تھا۔ بائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ بنیادی طورپر وہ خود بھی افغانستان پر مسلط کردہ جنگ کا حامی نہیں تھا۔ صدر اوبامہ کو منع کرتا رہا کہ وہ جرنیلوں کے دبائو میں آکر وہاں مزید فوجیں نہ بھیجے۔ اس کے بجائے ڈرون حملوں کے پاکستان اور افغانستان پر بے دریغ استعمال سے ’’دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے‘‘۔ ٹرمپ مگر مصر ہے کہ افغانستان سے فوجیں نکالتے ہوئے بائیڈن نے صریحاََ نااہلی سے کام لیا۔ وہ اصرار کرتا ہے کہ طالبان کے ساتھ ہوئے معاہدے کے باوجود وہ امریکی افواج کو کافی دنوں تک بگرام ایئربیس پر تعینات رکھنا چاہتا تھا۔ امریکی افواج اگر کابل کے نزدیک بگرام بیس پر موجود ہوتیں تو اشرف غنی کے فرار کے باوجود طالبان فاتحانہ اندازمیں کابل نہ لوٹتے۔ ’’سمجھوتوں‘‘ کو مجبور ہوجاتے۔بگرام کے حوالے سے ٹرمپ کی کہی بات مجھے معقول سنائی دی۔ اس کے ساتھ ہی مگر یہ خدشہ بھی لاحق ہوا کہ وہ امریکی افواج کا افغانستان سے ذلت آمیز انخلاء بھولا نہیں ہے۔ اس امر پر بھی مسلسل افسوس کا اظہار کررہا ہے کہ طالبان نے فاتحانہ انداز میں کابل لوٹنے کے بعد جدید ترین امریکی اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ بہت حیران ہوکر وہ یہ سوال اٹھائے جارہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کابل سے نکلنے کے باوجود انسانی امداد کے نام پر طالبان کو امریکی ڈالر کیوں دیتی رہی۔ ’’فاتحین‘‘ کے خمار میں مبتلا طالبان کو ٹرمپ کے تازہ ترین انٹرویو سنجیدگی سے لینا ہوں گے۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

کالم گردوپیش نصرت جاوید
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleلاس اینجلس میں لگی آگ کی شدت میں ایک بار پھر اضافے کا خدشہ
Next Article امر جلیل کاکالم: سب منظور خدا ہوتا ہے!
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم

اپریل 28, 2026

تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی : وجاہت مسعود کا کالم

اپریل 25, 2026

ٹرمپ کا حتمی ہدف ، ایران کی کامل تباہی : برملا / نصرت جاوید

اپریل 7, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • Navigating the Best Betting Sites with an Eye on User-Friendly Design مئی 13, 2026
  • Coronavirus disease 2019 مئی 13, 2026
  • Wettanbieter Österreich toont verrassende eenvoud in online weddenschappen voor beginnende spelers مئی 13, 2026
  • tc-check-https://test.com مئی 13, 2026
  • Casinos Online Novos: Conheca as Melhores Plataformas em Portugal مئی 13, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.