لاہور ۔۔ یکم جنوری کے بعد سے مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹریوں سے اترنے کے مختلف نوعیت کے 45 حادثاث رپورٹ ہوئے ہیں۔چھے ماہ کے دوران ٹرینوں کے 45 حادثات نے ریلوے کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے ۔ ریلوے کے انفراسٹرکچر کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا، ریلوے کی سیفٹی مینٹی ننس پر سوالات اٹھنے لگے۔ٹرینوں کے حادثات، ریلوے کی سیفٹی مینٹی ننس پر سوالیہ نشان، ذرائع کے مطابق یکم جنوری سےاب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹریوں سے اترنے کے مختلف نوعیت کے 45 حادثات رونما ہو چکے ہیں، 92 نیوز کو موصول رپورٹ کے مطابق مسافر ٹرینوں کے پٹریوں سے اترنے کے 22، مال بردار ٹرینوں کے 20 حادثات ہوئے، 3 دیگر حادثے بھی ہوئے۔
جعفر ایکسپریس کو تخریب کاری کا نشانہ بھی بنایا گیا، حادثات کی وجہ سے پاکستان ریلوے کے انفراسٹرکچر کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا، 21 مئی کو کراچی سے لاہور آنے والی شالیمار ایکسپریس کو سیاں والا دار الحسان کے قریب حادثہ پیش آیا، ٹرین کراسنگ پر اینٹوں والے ٹرالے سے ٹکرا گئی جس سے ٹرین کی تمام 15 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
بات کی جائے 30 مئی تو 30 مئی کو رحمان بابا ایکسپریس ٹرین کراسنگ پر ٹرالے سے ٹکرا گئی، یکم جون کو پاکستان ایکسپریس کو مبارک پور کے قریب حادثہ پیش آیا، ٹرین کی ڈائننگ کار کے نیچے سے پوری ٹرالی نکل گئی تاہم ٹرین بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی، 14 جون کو ٹرینوں کے تین واقعات رپورٹ ہوئے۔پشاور جانے والی ٹرین خوشحال خان خٹک کی 6 بوگیاں کند کوٹ کے مقام پر پٹری سے اتر گئیں، اسی روز علامہ اقبال ایکسپریس کے بریک بلاک میں خرابی پیدا ہوگئی، تھل ایکسپریس ٹرین کار سے ٹکرا گئی تھی۔ 18 جون کو جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد کے قریب تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا، ریلوے ٹریک کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا گیا جس کے باعث ٹرین کی 5 بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں۔
( بشکریہ 92 نیوز )
چھے ماہ کے دوران ٹرینوں کے 45 حادثات نے ریلوے کی کارکردگی کا پول کھول دیا
فیس بک کمینٹ

