لاہور / ملتان / اسلام آباد ۔۔ پاکستان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی اور تیل کی عالمی سپلائی میں تعطل کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں۔
شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ جو بھی پیٹرول پمپ مصنوعی قلت میں ملوث ہو، اس کو فوراً بند کیا جائے اور اس کا لائسنس منسوخ کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں، جب پاکستان کے مختلف شہروں کے پیٹرول پمپس میں رش معمول سے بڑھ رہا ہے اور کئی پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔
پاکستان میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں کہ اگر مشرق وسطی میں لڑائی جاری رہی تو آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رُکن یاسر گلزار کہتے ہیں کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز معمول کے مطابق پیٹرول پمپس کو تیل کا کوٹہ فراہم کر رہی ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اگر ایک پیٹرول پمپ کی یومیہ کھپت پانچ ہزار لیٹر ہے تو آئل کمپنیز اسی لحاظ سے کوٹہ دے رہی ہیں تاہم جب مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے تو پھر لوگ افراتفری میں اپنی ضرورت سے زیادہ پیٹرول یا ڈیزل ڈلواتے ہیں۔
’جو موٹر سائیکل والا 100 روپے کا پیٹرول ڈلواتا ہے، وہ 500 روپے کا ڈلوا رہا ہے جبکہ گاڑی والے بھی ٹینک فل کروا رہے ہیں لیکن بُرائی پیٹرول پمپس والوں پر آ رہی ہے کہ وہ پیٹرول نہیں دے رہے۔‘
یاسر گلزار کہتے ہیں کہ کوئی بھی پیٹرول پمپ مالک جان بوجھ کر تیل ذخیرہ نہیں کرتا کیونکہ اگر وہ اپنے صارف کو تیل دینے سے انکار کرتا ہے تو اس سے اس کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔
یاسر گلزار کے بقول عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور امکان ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں 70 سے 80 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 40 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ مہنگائی میں کتنا اضافہ ہو گا۔
اُن کے بقول اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو پھر اُسے چاہیے کہ جب تک مشرق وسطی میں بحران جاری ہے، اُس وقت تک پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عوام سے وصول نہ کرے جو 60 سے 70 روپے فی لیٹر وصول کی جاتی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

