امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی امن تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امکان ظاہر کیاہے کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایران پر از سر نو حملے شروع کرسکتا ہے۔ دوسری طرف پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں عالمی سطح پر امریکہ کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ کے پاس ایک ناممکن جنگ یا ایران کے ساتھ ایک بری ڈیل کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے‘۔ واضح رہے ٹرمپ ایک اچھی ڈیل کی بات کرتے ہیں۔
دونوں ملک اگرچہ پاکستان کے توسط سے کسی ممکنہ امن معاہدے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کررہے ہیں لیکن بظاہر ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں ہے۔ ایران کی سیاسی قیادت کسی حد تک موجودہ جنگی حالات سے نکلنے اور امریکی حکومت کو کچھ رعائیتیں دے کر امن معاہدہ کرنے کے حق میں تھی تاہم ایرانی فیصلہ سازی کے عمل میں پاسداران انقلاب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے اب سیاسی لیڈر بھی سخت گیر رویہ اختیار رکررہے ہیں۔ اور مسئلہ میں پیدا ہونے والے الجھاؤ کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کی جارہی ہے۔ اسی کا اظہار اسلام آباد میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے تو جنگ بندی کے لیے ٹھوس و جامع منصوبہ پیش کردیا ہے تاہم اب امریکہ کی نیت و اخلاص پر امن کا دار و مدار ہے۔ انہوں نے بات چیت میں رکاوٹ کے حوالے سے امریکی رویہ کا بھی حوالہ دیا ۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن مذاکرات کے دوران اور اب جنگ بندی کے لیے تجاویز کا تبادلہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر تند و تیز بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔ وہ بیشتر اوقات ایران میں فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہیں اور جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے ایرانی لیڈروں کے بارے میں توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ متعدد تجزیہ نگار بھی سمجھتے ہیں کہ اگر امن مذاکرات کے عمل کے بیچ صدر ٹرمپ سوشل میڈیا پر بیان بازی سے گریز کرتے تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔ لیکن دوسری طرف ایرانی قیادت کو بھی اندازہ ہے کہ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پیغامات یا بیانات کا حقیقی امن بات چیت پر کوئی خاص اثر مرتب نہیں ہوگا۔ اس لیے ایرانی سفیر جب سوشل میڈیا بیانات یا امریکی لیڈروں کے طرز عمل کو امن میں رکاوٹ کہتے ہیں تو وہ جزوی سچ ہی ہوتا ہے۔
اپریل کے شروع میں کسی حد تک ایران کی سیاسی قیادت متحرک تھی اور اسلام آباد آنے والے وفد کی قیادت بھی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کی تھی جبکہ ایرانی صدر پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ رابطوں میں تفصیلات طے کررہے تھے۔ تاہم ایران اور امریکہ نے یہ نادر موقع گنوا دیا۔ اب دونوں ایک دوسرے پر الزام عائد کرتے ہیں اور خود کو فاتح ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ امریکہ کو یقین ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ذریعے ایرانی حکومت پردباؤ میں اتنا اضافہ کردیا جائے گا کہ اسے کسی نہ کسی طرح کسی معاہدے پر اتفاق کرنا پڑے گا۔ آج ہی امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے اقتصادی اقدامات کے ذریعے ایرانی حکام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے پاس اپنے فوجیوں کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ یہ حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتے جائیں گے۔ بنیادی طور سے صدر ٹرمپ تنازعہ کے دوسرے فیز میں ایران پر معاشی دباؤ بڑھا کر کسی نتیجہ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ دکھائی دینے لگا ہے کہ اس عمل میں جس تحمل اور صبر و ضبط کی ضرورت ہے، ٹرمپ جیسا جلد باز لیڈر شاید اس کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اگرچہ سرکاری طور سے امریکہ کی فتح کا حوالہ دیتے ہوئے یہی کہا جاتا ہے کہ امریکہ کو جلدی نہیں ہے۔ وہ غیر معینہ مدت تک انتظار کرسکتا ہے۔
البتہ عملی طور سے ایران نے زیادہ قوت برداشت اور صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے امریکہ و اسرائیل کی شدید بمباری کو سہا ہے اور اس کے باوجود شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اب بھی ایرانی حکومت کو عسکری مشکلات کے علاوہ معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ دوسری طرف عوام کی پریشانی بھی کسی ممکنہ طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے لیکن ایرانی لیڈر کسی صورت بدحواسی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ انہوں نے اپنے مؤقف میں سختی پیدا کی ہے حتی کہ اب پاسداران انقلاب یہ کہنے لگے ہیں کہ امریکہ کے پاس بری ڈیل کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ورنہ وہ جنگ شروع کرکے دیکھ لے جو اس بیان کے مطابق ناممکن جنگ ہے۔ یہ بیان خود پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار ہونے کے علاوہ اس ایرانی رویہ کا مظہر بھی ہے کہ زیادہ دیر تک انتظار کرنے سے بہتر نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے ایران کو دو باتوں کی وجہ سے اپنی حکمت عملی کامیاب ہونے کا یقین ہے۔
ایک تو امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عوام کی ناراضی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایران کو امید ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت دیر تک عوامی پریشانی کا دباؤ قبول نہیں کرسکتے ۔ انہیں کسی نہ کسی صورت اس جنگ سے باہر نکلنا ہوگا۔ مغربی میڈیا میں ہونے والے بعض تبصرے بھی ایرانی لیڈروں کی امیدوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ حالانکہ ایرانی لیڈروں کو اپنے عوام کی پریشانی اور ایرا ن میں بڑھنے والی معاشی مشکلات کی وجہ سے عوامی غم و غصہ کا زیادہ خوف ہونا چاہیے۔ لیکن وہاں ایک ایسا نظام کام کرتا ہے جس میں عوامی ضرورتوں کی بجائے نظریے کی افادیت کو بنیاد مانا جاتا ہے۔ اس لیے یہ توقع کی جارہی ہے کہ امریکی عوام مہنگائی اور معاشی دباؤ سے تنگ آکر ٹرمپ حکومت کو معاہدہ پر مجبور کردیں گے۔ حالانکہ امریکہ میں پیٹرول سمیت کسی شے کی قلت نہیں ہے۔ اور ایران میں بنیادی ضرورت کی ہمہ قسم اشیا کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے۔
اس کے علاوہ ایرانی لیڈروں کو یقین ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو اپنے حلیف ممالک کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ حلیف ممالک میں یہ بڑھتا ہؤا سفارتی تناؤ امریکہ کی پوزیشن کمزور کرتا ہے۔ تہران کے لیڈر ، خاص طور سے پاسداران کی قیادت اس گمان میں بھی مبتلا دکھائی دیتی ہے کہ عرب ممالک خوفزدہ ہیں اور اب وہ امریکہ سے فاصلہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ ان دو قیاسات اور انتظار کی دیرینہ حکمت عملی کے باعث تہران سے سامنے آنے والے اشارے امن کے حوالے سے مایوس کن ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ پاسداران کی قیادت میں ایران اب اپنی شرائط پر معاہدہ کرنا چاہتی ہے۔اس میں امریکہ کو حملہ کی غلطی تسلیم کرکے جنگ ختم کرنے کے علاوہ ایران کو تاوان جنگ دینا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ایرانی جوہری پروگرا م کے بارے میں اپنے مطالبے سے بھی دست بردار ہونا پڑے گا۔ ایران آبنائے ہرمز پر بھی کنٹرول بحال رکھے گا اور صرف اپنی مرضی سے ہی جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دے گا۔
ایران اور امریکہ نے پاکستان کے توسط سے جن تجاویز کا تبادلہ کیا ہے، ان کے بارے میں بہت کم مصدقہ معلومات سامنے آئی ہیں۔ لیکن میڈیا میں جو نمایاں نکات پیش کیے جارہے ہیں ، ان کے مطا بق ایران اب ایٹمی پروگرام اور افزودہ یورینیم کے سوال پر بات کرنے پر آمادہ نہیں ہے بلکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے، مشرق وسطی سے امریکی اڈوں کے خاتمے اور لبنان سمیت پورے خطے میں ہر قسم کی جنگ بندکرنے کے وعدے کے بعد ہی امن معاہدہ پر متفق ہوگا۔ بین السطور جنگ میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے اور ایران پر اقتصادی پابندیاں اٹھانے کی بات بھی کی جاتی ہے۔ اسی سے پاسداران کےغیر معمولی اعتماد کا پتہ چلتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کثیر وسائل کے ساتھ کیے گئے حملے اور دنیا بھر میں طعنے برداشت کرنے کے بعد کیوں کر خالی ہاتھ اس تنازعہ سے نکلنے پر آمادہ ہوگا؟ اگر ایران اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود امن کے لیے بے قرار نہیں ہے تو کیا امریکہ کو امن کی ایران سے بڑھ کر ضرورت ہے؟
لگتا ہے کہ دونوں ممالک اگلی چال سے پہلے ایک دوسرے کے عزم کو جانچنے کی کوشش کرہے ہیں۔ اس عمل میں کسی طرف سے بھی اندازے کی معمولی سی غلطی ایک نئی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ اندیشہ ہے کہ امریکہ نے اگر ایک بار پھر حملوں کا آغاز کیا تو رہی سہی ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا اور ایران کے انفرا اسٹرکچر کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش ہو گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

