قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف یہ اعلان کرتے ہوئے امریکہ کا دس روزہ دورہ مکمل کرکے پاکستان روانہ ہوئے ہیں کہ امریکی حکام نے بات چیت میں کبھی بھی پاکستان میں اڈے حاصل کرنے کی بات نہیں کی۔ اس طرح اس ہنگامہ آرائی کا خود ہی ڈراپ سین کردیا جسے وزیر اعظم عمران خان کی سرکردگی میں تحریک انصاف کے منہ زور ترجمانوں نے پاکستان کی’ خود مختار خارجہ پالیسی‘ کی دلیل کے طور پر پیش کیا تھا۔ یعنی بانس تو تھا ہی نہیں بانسری بنانے کی اپنی سی کوشش کرلی گئی۔
اب اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران احتجاج کیا ہے کہ اسے سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورت حال پر ہونے والے مباحثہ کی شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی۔ منیر اکرم نے اس ’ناانصافی‘ کا الزام بھارت پر عائد کیا جو اگست کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا صدر ہے۔ پاکستانی سفیر کا دعویٰ ہے کہ پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ملک ہے اور اس تنازعہ میں اس کا اسٹیک بہت زیادہ ہے۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی باقاعدہ درخواست بھی کی گئی تھی لیکن بھارت نے کونسل کے صدر کی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی سفیر کو ملک کا مؤقف پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اب ایک مراسلے کی صورت میں پاکستان اپنا مؤقف سلامتی کونسل کے ارکان کو بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ سب کو پاکستان کی پوزیشن کا پتہ ہو اور واضح ہوجائے کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں جمعہ کے روز افغانستان کی صورت حال پر غور کیا گیا۔ ایسے اجلاس کوئی مسئلہ حل کرنے کے قابل تو نہیں ہوتے لیکن مختلف ممالک اپنے مؤقف کی لابنگ کرنے اور پروپیگنڈا کے مقصد سے اسے استعمال کرتے ہیں۔ یہ اجلاس بھی بظاہر اسی مقصد سے بلایا گیا تھا۔ افغان وزیر خارجہ حنیف اتمر نے بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بات کی کہ بڑے شہروں پر طالبان حملوں کی صورت حال پر غور کرنے کے لئے سلامتی کونسل کا اجلاس بلایاجائے۔ بھارت چونکہ اس ماہ کونسل کا صدر ہے تو اس نے فوری طور سے یہ اجلاس طلب کرلیا۔ اجلاس کے دوران افغان اور بھارتی نمائیندوں نے طالبان سے زیادہ پاکستان کو تختہ مشق بنایا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پاکستان کے اڈوں سے دہشت گرد طالبان کی مدد کے لئے افغانستان آتے ہیں ۔ اسی لئے صورت حال دگرگوں ہورہی ہے اور افغان فورسز کو ایک کے بعد دوسری جگہ سے راہ فرار اختیار کرنا پڑتی ہے۔
پاکستانی سفیر منیر اکرم نے اجلاس میں شرکت سے انکار کے بعد بھارت کی مذمت کرنے کے لئے پریس کانفنرس منعقد کی۔ جو الزامات افغان اور بھارتی نمائیندوں نے اجلاس کے دوران پاکستان پر عائد کئے تھے، وہی الزامات پاکستانی سفیر منیر اکرم نے افغان حکومت اور بھارت پر عائد کئے۔ جنہیں اب پاکستانی ترجمان ’امن دشمن ‘عناصر کا نام دیتے ہیں۔ پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکہ اور طالبا ن کا معاہدہ کروایا تھا اور وزیر اعظم عمران خان کی بصیرت ہی کی وجہ سے امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک افغانستان کے سیاسی حل کی طرف مائل ہوئے تھے لیکن اب ایک سازش کے تحت پاکستان کو سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بھارت کے ساتھ سیاسی و سفارتی حساب برابر کرنے کے لئے ضرور پاکستانی سفیر کی پریس کانفرنس اہم رہی ہوگی لیکن یہ واویلا صرف ’ہوم آڈئینس ‘ کو ہی خوش کرے گا۔ بھارت نے بلاشبہ بھونڈی سفارتی سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان حکومت کے ساتھ مل کر یہ غیر ضروری اجلاس طلب کیا اور وہاں اپنے سفیروں کے ذریعے پاکستان پر بے بنیاد تنقید کرکے افغان مسئلہ کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کو اس واقعہ کو کوئی اہمیت نہیں دینی چاہئے تھی کیوں کہ سوال یہ نہیں ہے کہ طالبان کیوں کر اتحادی افواج کے نکلتے ہی پوری طاقت سے اپنا آپ منوا رہے ہیں بلکہ سب سے بڑا سوا ل تو یہ ہے کہ ڈیڑھ سو ارب ڈالر کی کثیر مالیت سے تیار کی گئی افغان فورسز جنہیں دنیا کا اعلیٰ ترین اسلحہ فراہم کیا گیا ہے اور امریکی و اتحادی فوجوں نے جن کی تربیت کے لئے تمام جدید طریقے استعمال کئے تھے، کیوں طالبان کے حملوں کے سامنے کاغذ کی ناؤ ثابت ہورہے ہیں۔ پاکستانی سفیر نے سلامتی کونسل کے غیر اہم ہنگامی اجلاس اور اس میں کی گئی بلاوجواز الزام تراشی کو سنجیدہ معاملہ بنا کر دراصل پاکستان کے خلاف بھارتی و افغان اسکیم کو کامیاب ہونے کا موقع دیا ہے۔ الزام تراشی کا جواب ریکارڈ پر لانے کے لئے پریس ریلیز ہی کافی ہوتی۔
حالیہ دنوں میں پاکستان کی افغان پالیسی دنیا کے ہر اہم دارالحکومت میں زیر بحث رہی ہے۔ امریکہ نے چونکہ افغان جنگ کی قیادت کی تھی ، اس لئے اس بحث کا مرکز بھی اس وقت واشنگٹن ہی بنا ہؤا ہے۔ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف ، انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ہمراہ امریکی دارالحکومت کے دورے پر پہنچے تھے اور متعدد اہم امریکی لیڈروں سے ملاقات میں پاکستانی مؤقف واضح کرنے کی کوشش کی گئی۔ معید یوسف دس روزہ قیام میں متعدد ملاقاتوں، پریس بریفس اور انٹرویو دینے کے بعد اب وطن روانہ ہوچکے ہیں۔ روانگی سے پہلے انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت میں اڈے فراہم کرنے کے معاملہ پر بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ اگرچہ افغانستان میں امن کے معاملہ پر متفق ہیں لیکن دونوں ملکوں میں طریقہ کار پر اختلاف ہے۔معید یوسف غیر واضح اشاروں میں ’ مکمل‘ بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہر بار وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ بلکہ ایسی غیر واضح اور علامتی باتوں سے یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ پاکستان کی افغان پالیسی میں الجھاؤ ہے اور ملک کے اندر فیصلے کرنے کے مختلف مراکز میں کہیں نہ کہیں اختلاف کی صورت بھی موجود ہے جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آخر پاکستان کیا چاہتا ہے۔ یہ تو طے ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے ۔ اس وقت اس پر اصرار کرکے صلاحتیں ضائع کرنے کی بجائے پاکستان کو یہ بتانا چاہئے کہ وہ یہ مقصد کیسے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ افغان امن کے حصول کے لئے طریقہ کار کے اختلاف کی بات کرتے ہوئے معید یوسف پر فرض تھا کہ وہ اس طریقہ کار کی وضاحت کرتے جو پاکستان اختیار کرنا چاہتا ہے تاکہ دنیا کو یہ خبر ہوتی کہ امریکہ کو پاکستانی طریقہ کار پر کیوں اور کیا اعتراض ہے۔ پاکستان ایسا کرسکے تو صورت حال واضح کرنے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوجائے گی کہ فوجیں نکالتے ہی کیوں افغانستان میں امن کی صورت حال شدید خطرے کا شکار ہے اور دوحہ میں طالبان اور افغان حکومت کے نمائیندوں کی موجودگی کے باوجود کیوں بین الافغان مذاکرات کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پارہے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے امریکی صدر اور وزیر اعظم کی فون پر بات کے حوالے سے بھی ایسا مبہم طرز عمل اختیار کیا تھااور کہا تھا کہ اگر امریکی صدر فون نہیں کرتے تو ہمارے پاس بھی دوسرے آپشن ہیں۔ یہ غیر واضح بات کرکے معید یوسف نے پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی طرح اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکی نمائندوں نے تو کبھی پاکستان میں اڈوں کی بات ہی نہیں کی؟ یہ بتاتے ہوئے انہیں یہ بتانا چاہئے تھا کہ پھر پاکستانی حکومت کے نمائیندے ’ہرگز اڈے نہیں دیں گے‘ کا ڈھول کیوں پیٹتے رہے تھے؟ اب انہوں نے افغانستان میں امن کے لئے پاکستانی اور امریکی طریقے میں اختلاف کا ذکر کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ اختلاف کن نکات پر ہے اور اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے؟
ایسا مؤقف اختیار کرکے دراصل پاکستان کی افغان حکمت عملی کے بارے میں اس شبہ کو تقویت دی جارہی ہے کہ پاکستان جو کہتا ہے ، عملی طور سے اس کے برعکس اقدام کرتا ہے۔ یہی تاثر پاکستان پر اعتبار میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ اب پاکستان کے پاس طالبان کے علاوہ ایسا کوئی دوسرا ہتھکنڈا نہیں ہے جسے استعمال کرتے ہوئے وہ دنیا سے اپنی اہمیت منوانے کا اہتمام کرسکے۔ پاکستان کی اسی کمزور سفارتی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے سلامتی کونسل کے فورم سے پاکستان کے خلاف زہرناک پروپیگنڈا کیا ہے۔یہ دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ افغان حکومت کے ساتھ اس بات پر متفق ہے کہ طالبان کو جنگ جوئی کی بجائے بین الافغان مذاکرات کے ذریعے کسی سیاسی حل پر آمادہ ہونا چاہئے۔ امریکہ اور افغان حکومت ان مذاکرات میں طالبان کو سیاسی اختیار میں حصہ دار بنانے کے لئے تیار ہیں لیکن ان سے انسانی حقوق کے تحفظ ، خواتین کو مساوی مواقع دینے کے حق اور کسی نہ کسی قسم کے جمہوری طریقہ کے بارے میں رعایت مانگ رہے ہیں۔ امریکہ اور افغان حکومت شاید طالبان کو کسی سیاسی حل میں ہمہ گیر اور مکمل اختیار دینے پر بھی تیار نہیں ہیں۔
پاکستان بھی افغانستان میں امن چاہتا ہے لیکن اس کی خواہش ہے کہ کسی بھی سیاسی انتظام میں طالبان کو برتری حاصل ہو تاکہ ان کے زیر پرستی بننے والی حکومت میں ایک تو افغانستان سے بھارتی اثر و رسوخ کا خاتمہ کروایا جاسکے تو دوسری طرف ایسے افغان عناصر کو اختیار و اقتدار سے دور رکھا جائے جو پاکستان دشمن رویہ رکھتے ہیں یا بھارت نواز ہیں۔ یہ خواہش اب کھل کر سامنے آنے لگی ہے جسے اگر عام شخص محسوس کرسکتا ہے تو امریکی سرکاری ایوانوں میں بھی اس مسئلہ پر بے چینی و تشویش ہوگی۔ پاکستانی وزیر اعظم کہتے ہیں کہ طالبان عسکری و سیاسی طور سے اتنے طاقت ور ہیں کہ وہ افغانستان پر قبضہ کرسکتے ہیں اور پاکستان کا ان پر کوئی اثر نہیں ہے۔ ایسے بیانات کے دوران جب کہا جائے گا کہ پاکستان طاقت کے زور پر کابل پر قبضہ کے خلاف ہے تو اس بیان کی نیک نیتی مشکوک ہوجاتی ہے۔ خاص طور سے جب پاکستانی حکومت اور فوج کے نمائیندے افغانستان پر طاقت کے ذریعے قبضے کے بعد قائم ہونے والی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی وعدہ کرنے سے بھی انکار کرتے ہوں۔پاکستان کہتا ہے کہ طالبان ہمارے اثر میں نہیں رہے اور ان کے پاس افغانستان پر قبضہ کی طاقت و صلاحیت بھی ہے۔ امریکہ اس پوزیشن کے دونوں حصوں سے اختلاف رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے ہر آنے والے دن کے ساتھ غیر اہم ہوتا جارہا ہے۔ یعنی پاکستانی حکومت کے دعوؤں کے باوجود افغانستان کے معاملہ میں پاکستان کی حیثیت تین میں نہ تیرہ میں کے محاورے جیسی ہوچکی ہے۔ پاکستان اگر طالبان کا سرپرست بن کر اس تنازعہ کا حصہ دار بننا چاہتا ہے لیکن طالبان سے سیاسی مراعات نہیں دلوا سکتا تو دنیا بالآخر پاکستان کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گی جس کا مستحق طالبان کو سمجھا جائے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

