افسانےعائشہ حنیفلکھاری

عائشہ حنیف کا افسانہ : جینے کی خواہش میں موت

ماں مر گئی ۔ باپ ۔۔۔۔۔کچھ پتا نہیں ہے اس لفظ کے آ گے وہ خاموش ہوگئی تھی جیسے اس لفظ باپ سے کوئی رشتہ ہی نہیں ہے اس کا بہنیں بھی تھیں اس کا کیا مطلب تھیں تو اب کہاں ہیں ؟؟؟؟؟
جواب دو سکینہ اب کہاں ہیں آ پ کی بہنیں کچھ تو بتاؤ ۔مجھے کچھ نہیں پتا روتے ہوئے سکینہ کہنے لگی ۔
اچھا ٹھیک ہے مت بتاو ابھی مگر اتنا بتا دو کہ بھائی کتنے ہیں اور کہاں ہیں ؟؟؟
تین بھائی ہیں مگر اپنی زندگی میں مصروف ومگن مجھے تو شاید وہ بھول گئے ہیں یا پھر جانتے ہی نہیں ہیں کہ غلطی سے یہ بدنصیب بھی اس دنیا میں موجود ہے اتنا بتاتے ہوئے وہ رو پڑی اس سے آ گے وہ کچھ نہ بول سکی ۔اس کی ہمت جواب دے گئی تھی کہ مزید کسی بھی سوال کا جواب دے سکے اس لیے جہانگیر بھی خاموش گیا تھا ۔
یہ جہانگیر سے اس کی پہلی ملاقات تھی اس کے بعد ان دونوں میں کافی دوستی ہو گئی تھی اس نے اپنے بارے میں سب کچھ جہانگیر کو بتا دیا تھا جہانگیر کے ساتھ اس کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا مگر ایک رشتہ تھا احساس کا ۔اس احساس کی وجہ سے وہ سکنیہ کی نظروں میں اس دنیا کا سب سے خوبصورت اور قیمتی رشتہ تھا ۔کیونکہ گھر سے تو اس کو کبھی پیار محبت ملا ہی نہیں تھا پہلی بار اس کا واسطہ ایسے انسان سے پڑا جو نہ صرف اس سے پیار کرتا تھا بلکہ اس کی تکلیف کا احساس بھی تھا اس کو وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح سکینہ کی اس گھر سے جان چھوٹ جائے اس کے لیے ایک ہی راستہ تھا اس کے پاس کہ وہ اس سے شادی کر کے باعزت طریقے سے اپنے گھر لے آ ئے۔مگر جو ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے گھر والے نہیں مانتے سکینہ اور جہانگیر کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا سکینہ کے گھر والوں نے تو مان جانا تھا مگر مسئلہ جہانگیر کے گھر کا تھا سکنیہ کا وہ گھر نہیں تھا وہ اس کے لیے امتحان گاہ تھی جس میں ہر پل ہر لمحہ ایک اذیت ،دکھ ،تکلیف سانس لینے کا بھی اس کا حساب دینا پڑتا تھا ایسے گھر سے تو بہتر تھا وہ بے گھر ہوتی یا پھر ماں کے ساتھ وہ بھی مر جاتی مگر ایسا نہیں ہوا تھا وہ زندہ تھی اور زندگی گزار نہیں بلکہ زندگی کے دن پورے کر رہی تھی ۔
گھر کا آ نگن تو لڑکی کے لیے ٹھنڈی چھاؤ ں جیسا ہوتا ہے مگر سکینہ کے لیے اس کا گھر تیز تپتی دھوپ جیسا تھا ۔جہانگیر کے ساتھ جو احساس کا رشتہ تھا وہ کب کا محبت میں بدل چکا ان دونوں کو پتا ہی نہیں چلا ۔ان کے اس رشتے کو چار سال ہوگئے تھے مگر ابھی تک جہانگیر کے گھر والے نہیں مان رہے تھے تنگ آ کر انہوں نے گھر سے چلے جانا ہی بہتر سمجھا ۔کیونکہ سکینہ کو جہانگیر پر پورا بھروسہ تھا وہ بھی سکینہ کے ساتھ دل سے مخلص تھا ۔اگر جہانگیر کے گھر والے مان جاتے تو وہ دونوں کبھی بھی یہ قدم نہ اٹھاتے ۔یہ نہیں تھا کے جہانگیر نے کوشش نہیں کی تھی منایا نہیں‌تھا اپنے گھر والوں کو اس نے بہت کوشش کی ہر طریقے سے منانے کی کوشش کی مگر ان کی ایک ہی ضد کہ خاندان سے باہر نہیں کرنا ۔پتا نہیں ایسے لوگوں کس بات کا غرور ہوتا ہے خاندان خاندان کی رٹ لگا رکھی تھی ۔۔مگر ان کو کون سمجھائے ۔۔۔
جہانگیر اور سکینہ نے کل چلے جانا تھا ہمیشہ کے لیے وہ یہ قدم خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت اٹھا رہے تھے ۔وہ جانتے تھے جس رستے وہ جا رہے وہاں بھی مشکلات ہوں گی مگر دونوں ساتھ ہوئے تو وہ تمام مشکلات سر کر لیں گے ۔مگر وہ دونوں نہیں جانتے تھے جس رستے وہ جا رہے وہاں موت ان کا انتظار کر رہی ہے ۔
صبح نماز کے وقت وہ چلے گئے ایک نئی منزل کی طرف رواں دواں ۔مگر چند لوگوں کے لیے یہ دنیا سوائے دکھوں کے گھر اور کچھ بھی نہیں ہوتی وہ ساری زندگی سکون کی تلاش میں رہتے ہیں مگر انہیں سکون نہیں ملتا ۔اپنی آ خری ارام گاہ میں جا کے ہی ان کو سکون ملتا ہے۔
جس بس میں وہ جا رہے تھے اس پر چند لٹیروں نےحملہ کر دیا فائرنگ کی وجہ سے کچھ لوگ عین اسی وقت ان کی جان چلی گئی تھی ۔سکینہ خوفزادہ ہو کے جہانگیر کے ساتھ چپکی ہوئی تھی مگر دو گولیوں نے ایک ساتھ ہی جہانگیر کی جان لے لی تھی ۔جہانگیر کو خون میں لت پت دیکھ کر سکینہ کی چیخچ نکل گئی اس کےبعد وہ بھی اپنی جان دے بیٹھی اس موت جہانگیر کو دیکھ کے ہوئی تھی وہ اس کا واحد سہارا تھا اس دنیا میں جینے کا جب وہی نہ رہا تو سکینہ کیسے زندہ رہ سکتی تھی؟؟جینے کی خواہش میں دونوں موت کو گلے لگا چکے تھے ۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker