لاہور (خصوصی رپورٹ ) عالمگیر ترین کی خودکشی کے معاملے پر پولیس نے تحقیقات شروع کرتے ہوئے جائے وقوعہ کو سیل کر دیا اور آلہ قتل کو قبضے میں لے لیا۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس کی جانب سے عالمگیر ترین کے فلیٹ کی تلاشی اور فنگر پرنٹس لینے کا عمل جاری ہے، تفتیشی ٹیم کے ماہرین فلیٹ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں خودکشی کی وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا۔
عالمگیر ترین کی لاش کو پوسٹمارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، پولیس کا مزید کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے تحریری نوٹ کی تلاش بھی جاری ہے، حتمی وجوہات اور حقائق تفتیش کے بعد سامنے لائے جائیں گے۔
دوسری جانب اس خودکشی کے حوالے سے مختلف چہ میگوئیاں بھی جاری ہیں اور بعض لوگ اس موت کو کاروباری معاملات سے جوڑ رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندان میں کچھ جائدادوں اور کاروبار کے تنازعات تھے ۔ اس کے علاوہ عالمگیر خان ترین کی شادی بھی دسمبر میں ہونے والی تھی ۔ وہ منگنی کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار تھے ۔ ان کے آخری خط میں ان کی بیماری کا تذکرہ بھی موجود ہے اور عالمگیر خان ترین نے مبینہ خط میں اپنے علاج معالجے کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے میں اب علاج سے تنگ آ گیا ہوں ۔
عالمگیر ترین معروف بزنس مین اور پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کی ٹیم ملتان سلطانز کے مالک اور منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔
آخری خط میں عالمگیر ترین نے خودکشی کی وجہ اپنی بیماری بتائی ہے۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ ’میں اپنی زندگی سے پیار کرتا ہوں، 6 مہینے پہلے تک میری زندگی اطمینان بخش تھی، مجھے جِلدی بیماری ہے جس کی وجہ سے مستقل اسٹیرائڈز لینا پڑتی ہیں، چہرےکی جِلدی بیماری کےعلاج کے باعث چہرے کی بائیں جلد کو نقصان ہواہے، مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا، چہرےکی جِلد کونقصان پہنچ رہا تھا۔‘
خط میں مزید لکھا گیا کہ ’جلدی بیماری سے آنکھیں متاثر ہوئیں جس کے باعث پڑھنا تک بند کر دیا، کمر درد کے باعث رات کو نیندکی گولیاں تک کھانی پڑیں، بھرپور زندگی گزاری ہے، ڈاکٹروں کے چکر نہیں لگانا چاہتا۔‘
تحریر کے متن کے مطابق انہوں نے اپنے بھائی جہانگیر ترین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’جہانگیر ! میرے نوکر عالم کا خیال رکھنا، میرے ملازم نے ساری زندگی خدمت کی اس کو پولیس پر یشان نہ کرے۔‘
دوسری جانب ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے انہیں عالمگیر ترین کی بیماری کا علم نہیں۔عالمگیر ترین غیر شادی شدہ تھے، ان کے دوستوں کے مطابق عالمگیر ترین کی عمر 63 سال تھی، ان کی منگنی ہوئی تھی اور وہ دسمبر میں شادی کرنے جا رہے تھے۔
ملتان سلطانز کی جانب سے ٹوئٹرپر پوسٹ میں عالمگیر ترین کی موت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور مداحوں سے درخواست کی گئی ہےکہ وہ ترین فیملی کی پرائیویسی کا خیال رکھیں۔
ابتدائی تفتیش کےمطابق عالمگیر ترین نے دائیں کنپٹی پر ایک گولی چلائی، پوسٹ مارٹم کے بعد میت گھر منتقل کردی گئی، لاش کے پاس سے ملنے والی پستول اور تحریری نوٹ کو فارنزگ کے لیے بھجوادیا گيا ہے۔
پولیس کے مطابق دن 10بجے عالمگیر ترین کا ملازم گلبرگ میں ان کے اپارٹمنٹ پہنچا تو وہ کمرے میں خون میں لت پت مردہ پائے گئے اور دائیں طرف ایک پسٹل پڑا ہوا تھا۔ اس نے جہانگیر ترین اور پولیس کو فوری اطلاع دی، پولیس اور فارنزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کر لیے۔
عالمگیر ترین کی موت کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور جہانگیر ترین ، ان کے عزیر و اقارب سمیت سیاسی شخصیات علیم خان ،عون چوہدری وغیرہ بھی وہاں پہنچ گئے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق عالمگیر ترین کی موت خودکشی کا واقعہ ہی معلوم ہوتی ہے۔
ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق عالمگیر ترین کی موت سر میں گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی گولی سر کے دائیں طرف لگی، پولیس نے پسٹل اور عالمگیر ترین کا لکھا خط فارنزک کےلیے بھجوا دیا ہے، عالمگیرترین کی میت ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ان کی نماز جنازہ آج لاہور میں ادا کی جائے گی۔
واضح رہے کہ عالمگیر ترین ، پاکستان استحکام پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین کے بھائی ہیں، جس وقت عالمگیر ترین کی خودکشی کی اطلاع ملی تو جہانگیر ترین پارٹی اجلاس میں شریک تھے، بھائی کی موت کی اطلاع ملنے پر وہ جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو گئے۔

