آپ نے بچپن سے لگاتار لوک کہانیاں سنی اور پڑھی ہونگی۔ میں نوجوانوں سے مخاطب نہیں ہوں۔میں جانتا ہوں کہ ٹیکنالوجی کی بھرمار کے بعد ،آج کے نوجوان گزرے ہوئے کسی بھی دور کی نوجوان نسلوں سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ٹیکنالوجی آپ کو و ہ رہنے نہیں دیتی، جو آپ ہوتے تھے اور جو آپ ہوتے ہیں ۔ سندھ اور پنجاب کے صوفیائے کرام نےسوہنی مہینوال کی کہانی کو روحانیت کا انتہائی اونچا مقام دے دیا ہے۔ کئی ایک لوک کہانیوں کی طرح آج کی اس کہانی کو مقدس مانا اور سمجھا جاتا ہے۔ ایک بھکشو صوفی ہونے کے ناطے، سچ پوچھئے تو مجھے کچھ کہتے ہوئے، کچھ لکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ ڈر لگتا ہے اپنی لکھی ہوئی اور کہی ہوئی بات کے غلط معنی اور غلط تعبیر سے۔ کچھ کہنے سے پہلے میں آفاقی صوفی شعرا کے قدموں پر سر نگوں ہوتا ہوں۔ کہانی میں ہیرو کی چھان بین کرنے سے پہلے ہم اپنی تہذیبوں، تمدنوں اور ثقافتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ رسم ورواج کو ٹٹولتے ہیں۔ اخلاقی قدروں کی ساخت اور شناخت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
محبت ہوجانے کا فارمولا نہ کبھی بناتھا اور نہ کبھی کوئی فارمولا بن سکتا ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بحث ہوگی۔سوہنی مہینوال کی کہانی کا تجزیہ کرنے کے لیے ہم چند مثالیں لیتے ہیں۔ پہلے چند چھوٹی اور معمولی نوعیت کی مثالیں سامنے رکھتے ہیں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ ملکر خواب دیکھتے ہیں۔ مگر تعلیم مکمل کرنے، روزگار سے لگنے کے جتن خوابوں کو ملیامیٹ کردیتے ہیں۔ گنتی کے چند لڑکے لڑکیاں بچپن کے خوابوں کی خوشگوار تعبیر دیکھ پاتے ہیں۔ ایسی ہی محبتیں پڑوسیوں کے درمیاں پروان چڑھتی ہیں۔ ایسی محبتوں کے بارے میں شاذونادر لیلیٰ مجنوں اور ہیررانجھا جیسی کہانیاں اور قصے گھڑے جاتے ہیں۔ کسی کہانی کے قصے اور داستانوں میں ’بد‘لانے کے لیے کہانی میں منفی کرداروں کو لازماً اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ منفی کردار بااثر لوگوں کے علاوہ رسم ورواج بھی ہوسکتے ہیں۔ عام طور پر اس نوعیت کی رکاوٹوں کو سماج کی دیوار کہاجاتا ہے۔ یہ میں نہیں کہتا۔ اس نوعیت کے جملے فلمی اسکرپٹ کی جان سمجھے جاتے ہیں۔ آج کل کے محبت کرنے والوں نے سماج کی دیوار میں شگاف ڈال دیے ہیں۔ وہ ڈٹ کر سماج کی دیوار سے ٹکراتے ہیں۔ پچھلےدور میں بھی محبت کرنے والے کبھی کبھار سماج سےٹکرانے کی جسارت کرتے تھے۔ اپنے زور بازو پر بھروسا رکھتے تھے۔ آج کل سماج کی دیوار سے ٹکرانے کے لیے قانون کا سہارا لیتے ہیں۔
سماج کی چھوٹی موٹی اور کمزور دیواریں زیادہ دیر تک محبت کرنے والوں کا راستہ روک نہیں سکتیں۔ اچھے لڑکے کی اچھی لڑکی سے شادی میں والدین زیادہ دیر ناراض نہیں رہتے۔ ساس، بھاوج، نندیں خوش خوش ایک گھر میں رہنے لگتے ہیں۔ سماج کی دیوار سے ٹکرانے کے کچھ اسباب بڑے معیوب، قابل اعتراض اور نازیبا سمجھے جاتے ہیں۔ ایسی محبت پر انگلیاں اٹھتی رہتی ہیں۔چلیے مان لیتے ہیں کہ محبت کبھی بھی، کہیں بھی اور کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے عقیدے کو بیج میں آنے نہیں دیتے۔ دونوں کے درمیاں ذات پات میں اونچ نیچ کو وہ خاطر میں نہیں لاتے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کھنچائو اور دیرینہ دشمنی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ مگر سماج کی دیوار اپنے اعتراضات کے ساتھ ان دونوں کاراستہ روکے ہوئے کھڑی رہتی ہے۔ سماجی قوتیں معاشرے کی قدروقیمت کی حفاظت کے لیے برسر پیکار ہو جاتی ہیں۔ سماج کے دھنی، معاشرے کے اصولوں کی رکھوالی کرنے کے لیے محبت کرنے والوں کے آڑے آ جاتے ہیں۔ مانا کہ آپ کو کبھی بھی کسی سے محبت ہوسکتی ہے۔ معاشرہ آپ کی چاہتوں میں دخل نہیں دیتا۔مگر کچھ محبتوں کی ہیئت ایسی ہوتی ہے کہ معاشرہ اس کو گوارا نہیں کرتا۔ چہ میگوئیاں ہونے لگتی ہیں۔ بال بچوں والے کسی مرد کو کسی غیر شادی شدہ عورت سے محبت ہوجائے اور وہ اسے اپنی منکوحہ بناکر گھر لے آئے تومعاشرہ شدومد سے گونجے گا نہیں۔ اس کے برعکس اگر بال بچوں والی عورت کو کسی مرد سے محبت ہوجائے، توپھر معاشرہ ایسی محبت اور ایسی شادی کو آسانی سے برداشت نہیں کرتا۔
مانا کہ دور ادوار ایک جیسے نہیں ہوتے۔ آج کل بال بچوں والے مرد کا غیر شادی شدہ عورت سے محبت اور پھر نکاح، اور اسی طرح بال بچوں والی کسی عورت کا غیر شادی شدہ مرد سے شادی کرنا زیادہ تر معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ مگرسوہنی مہینوال کا دور اگلے وقتوں کا دور تھا، جب اس طرح کی محبتوں کو اخلاقی قدروں سے گرا ہوا فعل مانا جاتا تھا۔
سوہنی شادی شدہ تھی۔ مہینوال سے محبت کرتی تھی۔ سوہنی کی محبت میں گرفتار مہینوال چناب ندی کے دوسرے کنارے، جھگی ڈال کربیٹھ گیاتھا۔ وہ جانتا تھا کہ سوہنی شادی شدہ تھی۔ سوہنی ہر رات جب اس کا شوہر گہری نیند میں چلا جاتا تھا، تب گھڑے کی مدد سے چناب تیر کرپار اپنے محبوب مہینوال کے پاس پہنچ جاتی تھی۔ صبح ہونے سے پہلے سوہنی چناب تیر کر گھر واپس لوٹ آتی تھی اور اپنے میاں کے قریب سوجاتی تھی۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ ہر رات، اتنا بڑا رسک لینے کے لیے سوہنی کیا کرتی ہوگی؟ لگتا ہے ، عین ممکن ہے کہ میاں رات میں جاگنے نہ پائے، وہ قطعی طور پر میاں کو دودھ میں یا کسی اور طرح سے نشہ آور چیز کھلا دیتی ہوگی۔ اسے یقین ہوتا تھا کہ میاں کی آنکھ صبح ہونے سے پہلے کھل نہیں سکتی۔ مہینوال کبھی خود چناب تیرکر سوہنی سے ملنے اس کے گائوں نہیں گیا۔ غالباًڈرتا تھا کہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد اس کا حشر کیسا ہوگا۔ روحانی محبت وصل کی تمنا سے بالاتر ہوتی ہے۔ جدائی میں ان کو وصل دکھائی دیتا ہے۔ سوہنی مہینوال کی محبت روحانی تقاضوں کے برعکس تھی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

