امر جلیلکالملکھاری

امر جلیل کا کالم:اپنی شناخت کا متلاشی

تقریباً روزانہ، یا پھر ایک دو روز کے بعد کسی نوزائیدہ کے کچرے کے ڈھیر پر، گندے نالے میں یاگٹر سے ملنے کی خبریں اخباروں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ کچھ نوزائیدہ مردہ حالت میں ملتے ہیں۔ کچھ نوزائیدہ کتے، بلیوں اور چوہوں کی خوراک بن جاتے ہیں۔ کچھ نوزائیدہ زندہ رہ جاتے ہیں۔ نہ جانے کس کا گھڑا ہوا محاورہ ہے۔ آپ نے بار بار سنا ہوگا۔ ’’ جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے‘‘۔ آج آپ کچرے کے ڈھیر سے زندہ ملنے والے ایک نوزائیدہ کی داستان سنیں جواب جوان ہوچکا ہے۔ اس وقت جو آپ سوچ رہے ہیں، وہ اپنی جگہ درست ہے۔ میں نے آج تک آپ کو بنی بنائی ، گھڑی گھڑائی کہانیاں اور قصے سنائے ہیں۔ مگر ایک بات یاد رکھیں ۔ جو لوگ زندگی بھر سچ بولنے کے داعی ہوتے ہیں،وہ کبھی کبھارجھوٹ بھی بولتے ہیں۔ اسی طرح زندگی بھر جھوٹ بولنے والے کبھی کبھار سچ بھی بول جاتے ہیں۔میں کسی قسم کا دعویٰ نہیں کرتا ۔ سادہ سی منطق آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ کچرے کے ڈھیروں ، گٹروں اور نالوں سے نوزائیدہ بچوں کے ملنے کی خبریں اگر سچی ہیں، تو پھر آج کا قصہ بھی سچ ہے۔ سچا ہے۔ سچ پر مبنی ہے۔ آپ سنیں۔
اپنا شناختی کارڈ بنوانے کے لیے ایک شخص نادرا کے دفتر آیا۔ فارم پر کیا ، پر کیا ہوا فارم ا س نے افسر کے سامنے میز پررکھا۔ پر کیے ہوئے فارم کی پڑتال کرتے ہوئے افسر نے چونک کرپوچھا ۔’’ والد کی جگہ یہ تم نے کیا لکھ دیا ہے۔ والد کا نام : نا معلوم‘‘۔
’’جی ہاں‘‘۔ اس شخص نے کہا ۔’’ میں اپنے باپ کا نام نہیں جانتا ۔‘‘افسر نے سخت لہجے میں کہا ۔’’ جانتے ہو ، تم اپنی والدہ کی کردار کشی کررہے ہو‘‘۔
اس شخص نے تحمل سے جواب دیا۔ ’’ میں اپنی ماں کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتا۔‘‘
افسر تعجب سے اس شخص کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر اچانک اٹھ کر وہ اپنے سینئر سے مشورہ کرنے کے لیے اس کے کمرے کی طرف چلاگیا ۔ تھوڑی دیر کے بعدو اپس آکر وہ اپنی چیئر پر بیٹھا۔ اجنبی شخص کی طرف دیکھتے ہوئے افسر نے کہا ۔’’ فارم میں تم نے اپنا نام آدم لکھا ہے۔ یہ نام تمہیں کس نے دیا ہے؟۔
اجنبی شخص نے اطمینان سے جواب دیا۔
’’ میں نے اپنے آپ کو یہ نام دیا ہے‘‘۔
افسر کو اجنبی کی ذہنی صحت پر شک ہونے لگا۔فارم پر نظر ڈالتے ہوئے افسر نے کہا ۔’’ تم نے لکھا ہے کہ تم ایم اے ہو۔ سرٹیفکیٹ لائے ہو؟‘‘۔
اجنبی شخص نے خاکی رنگ کے بڑے لفافے سے سرٹیفکیٹ نکال کر افسر کے سامنے میز پررکھا۔ افسر نے سرٹیفکیٹ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔’’ اس پر تمہارا نام للہ دتہ لکھا ہوا ہے۔ تمہارے والد کانام خدا بخش لکھا ہے۔ ثابت کرسکتے ہو کہ یہ سرٹیفکیٹ تمہارا ہے؟
اجنبی شخص نے کہا۔’’ میں فلاحی یتیم خانے میں پل کر بڑا ہوا ہوں۔یہ نام مجھے یتیم خانے والوں نے دیے ہیں‘‘۔
’’ تو پھر درست ہی ہونگے ‘‘۔ افسر نے کہا۔ ’’ یتیم خانے والے تمہارے مرحوم والدین کو جانتے ہونگے۔ تبھی تو انہوں نے یہ نام لکھے ہیں‘‘۔
اجنبی نے اطمینان سے کہا ۔’’ یتیم خانہ والوں کو میں نوزائیدہ حالت میں کچرے کے ڈھیر پر پڑا ہو املاتھا۔ کوئی نہیں جانتا کہ میرے ماں باپ کون تھے‘‘۔
افسر کو سمجھ میں آنے کے باوجود جیسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اجنبی نے کہا ۔’’ میرے جیسے لاوارث بچوں کو یتیم خانے والے فرضی نام دے دیتے ہیں‘‘۔افسر اپنے وجود میں اجنبی کے لیے ہمدردی محسوس کرنے لگا ۔ اس نے اجنبی آدم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔یتیم خانہ کی طرف سے دیے ہوئے ناموں کے ساتھ تمہارا شناختی کارڈ بن سکتا ہے‘‘۔’’ میں فرضی شناخت کو اپنی مستقل شناخت بنانا نہیں چاہتا۔‘‘ اجنبی شخص نے کہا۔
’’ مجھے میری شناخت چاہیے، پھر وہ شناخت چاہے کتنی گھنائونی ہی کیوں نہ ہو‘‘۔
افسر نے اجنبی آدم کو سمجھاتے ہوئے کہا ’’ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی ایسے شخص کو شناختی کارڈ جاری نہیں ہوا ہے جس نے فارم میں والد کانام لکھنے کے بجائے گمنام یا نامعلوم لکھا ہو‘‘۔ افسر نے کہا ۔’’ ایم اے کی ڈگری پرتمہارا نام اللہ دتہ اور تمہارے والد کا نام خدا بخش لکھا ہوا ہے۔ وہی نام تم فارم میں لکھ دو۔ میں تمہیں چھ دن کے اندر شناختی کارڈ دلوادوں گا۔‘‘
’’ ایم اے کی ڈگری میری شناخت نہیں ہے۔ میری پہچان نہیں ہے‘‘۔ اجنبی آدم نے کہا۔’’ میری شناخت یہ ہے کہ میں لاوارث ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میرے ماں باپ کون تھے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ مسلمان تھے، ہندو تھے، یہودی تھے یا عیسائی تھے۔ یہ میری شناخت ہے۔ یہی میری پہچان ہے۔‘‘
مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے افسر نے کہا ۔’’ پھر تو زندگی بھر تمہیں شناختی کارڈ نہیں مل سکتا۔‘‘
حکو مت وقت سے ہم بعد میں بات کریں گے۔ پہلے آپ آدم کے معاملے کا جائزہ لیں۔ سوچیں اور فیصلہ کریں کہ آدم جیسے لوگوں کو شناختی کارڈ ملنا چاہیے؟ روزانہ کئی نوزائیدہ زندہ یا مردہ حالت میں کوڑے ،کرکٹ کے ڈھیروں پر پڑے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ گٹروں سے ملتے ہیں۔ ازراہ انسانیت انکو پالنے پوسنے والے نیک دل اور یتیم خانے والے ان کو فرضی والدین کے نام دے دیتے ہیں۔ فرضی ناموں کو وہ اپنی شناخت بنا لیتے ہیں۔ وہی فرضی شناخت وہ اپنی آنے والی نسلوں کو منتقل کردیتے ہیں۔ برصغیر کے بٹوارے کے دوران ہونے والے وحشی فساد ات کے نتیجے میں سرحد کی دونوں جانب، پاکستان اور ہندوستان میں لاتعداد ایسے بچے ہوئے تھےجواپنے والدین، خاص طور پر باپ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ وہ اب اگر زندہ ہیں، تو ستر برس کے سینئر سٹیزن ہوچکے ہیں۔ اجنبی آدم جیسے گنتی کے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی المناک شناخت کو چھپانا نہیں چاہتے ۔آدم کی المناک شناخت تاریخ کا پوشیدہ باب ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker