آج کل سمندر پار پاکستانیوں سے پیہم ملاقات ہو رہی ہے ۔ یہ پیارے لوگ برسوں پہلے روزی روٹی کی تلاش میں ملک سے نکلے اور پھر آب و دانہ تلاش کرتے کرتے اتنی دور نکل گئے کہ پاکستان ان کے لیے نقشے پہ ایک دھندلا سا نقطہ بن کے رہ گیا۔
رزق کی تلاش میں نکلے دیسی پرندوں کے یہ پرے، جہاں بھی گئے ان کے دلوں میں پاکستان اسی طرح آباد رہا۔ ملک سے آنے والے ہر شخص کے ہاتھ ملتانی کھسے، بہاولپوری کڑھت کے جوڑے، کسیرے بازار کے برتن، سیالکوٹ کی جیکٹیں، خوشاب کا ڈھوڈا، کشمیری شالیں اور دھسے، بلتی کوٹ اور ٹوپیاں، کوئٹہ کے چلغوزے اور قہوے منگوانا، ان کی زندگیوں کا حاصل ٹھہرا۔
عمر بھر وہیں رہنے کے باوجود بچوں کی شادیاں کرنے کے لیے پاکستانی ماموں کے بیٹے اور پھوپھو کی لڑکی ہی نظر آتی ہے۔ شادی کی رسم اگر بدیس میں بھی کی جائے گی تو دودھ پلائی کا گلاس تک شاہ عالمی سے منگوایا جائے گا ۔
سالہا سال پردیس میں کی جانے والی محنت شاقہ نے ہمارے ان پیاروں کو مالی آسودگی سے نوازا اور ان جی داروں نے کھلے دل سے اپنے پچھڑے ہوئے رشتے داروں اور ہم وطنوں کی مدد کی۔
جب جب، دیس سے کوئی باہر گیا، ان پیاروں کے دل شاد اور دامن کشادہ رہے ۔ گھروں کے دروازے کھلے اور دسترخوان وسیع رہے۔ مہمان کو نہ اجنبیت کا احساس ہوا اور نہ ہی یہ لگا کہ میں میزبان پہ کسی طور بوجھ ہوں۔
وقت کا کام گزرنا ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ انسانی خیالات و تصورات بھی تبدیل ہوتے جاتے ہیں ۔ ہمارے سمندر پار یہ بہن بھائی اب آتے ہیں تو ان کی باتیں گھومتی گھماتی سیاست پہ نکل آتی ہیں ۔
ملک سے دور رہتے ہوئے ملکی سیاست کے لئے ان کا جوش و جذبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ وہ زمینی حقائق جو اس زمین کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہیں ان کی عقابی نگاہ سے چھپ نہیں پاتے۔
ان پاکستانیوں کے اس جذبے کا ٹھٹھا بھی اڑایا جاتا ہے، طرح طرح کے القاب سے بھی نوازا جاتا ہے اور ہری چگ سمجھ کے ان کی رائے کو درخور اعتنا بھی نہیں سمجھا جاتا۔
آج کل غالباً کرسمس کی چھٹیوں کی وجہ سے ان پردیسی پرندوں کے غول کے غول اتر رہے ہیں اور روزانہ ہی کسی گروہ سے ملاقات ہوتی ہے۔ میں ان کی باتیں سنتی ہوں، لوگوں کی آنکھوں میں ان کے لیے استہزا بھی دیکھتی ہوں اور منہ پہ کی گئی خوشامد درآمد بھی سنتی ہوں۔
ہمارے یہ سادہ دل بہن بھائی جس جوش و خروش سے ہمارے مسائل کا سیاسی و سماجی حل تلاش کرتے نظر آتے ہیں اس کے پیچھے شاید کسی نے کبھی جھانکنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
میں ان کی باتوں کو سنتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ رنگ رنگ کے ملکوں میں بھانت بھانت کے لوگوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے بھی ایک ایسے ملک جو انھیں دو وقت کی روٹی بھی نہ دے سکا کے سیاسی عمل میں حصے دار بننے کا یہ جذبہ بھی شاید چاہنے اور چاہے جانے کے جذبے کی طرح ایک بے اختیار جذبہ ہے۔
دنیا کے بہترین خطوں میں رہنے کے باوجود اپنے ملک میں رہنے والے جب منہ بھر بھر کے اپنے حکمرانوں کو کوستے ہیں تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ان کے چہروں پہ ایک محرومی جھلک جاتی ہے ۔
بعض اوقات، کسی درد مشترک سے کٹ جانا بھی ایک بہت بڑی محرومی ہوتی ہے اور یہ محرومی، ہجر کا دکھ سہنے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں ۔
بے وطنی، لامکانی اور بے گھری کی یہ کیفیت کیسی عجیب ہے۔ بندھتے سوٹ کیسوں میں پاکستانی برانڈز کے شلوار قمیض رکھے جاتے ہیں۔
ماں جو پچھلی بار تو ملی تھی لیکن اس بار صرف اس کی پرانی شال نشانی کے طور پہ لے جانے کو ملتی ہے۔
مٹی کی مہک اور اپنوں کا خلوص جو ڈبوں میں باندھ کر ساتھ نہیں لے جایا جا سکتا۔ یہ ہی زاد سفر ہوتا ہے بے چاروں کا۔
سامان باندھتے، راتوں کے آخری پہروں میں اپنے اجنبی ٹھکانوں کی طرف رخصت ہوتے ان غریب الدیاروں کے دکھ کون پھرولے؟
بس اتنا ہے کہ ہر ملاقات پہ دل پہلے سے بھاری ہو جاتا ہے۔ مسافرت، ہجر، غریب الوطنی، یہ دکھ وہی سمجھ سکتے ہیں جو بسنے کی لاکھ کوشش کے باوجود کہیں بس نہ پائے۔
شالا مسافر کوئی نہ تھیوے ککھ جنہاں تھیں بھارے ہو
تاڑی مار اڈا نہ باہو، اسیں آپے اڈن ہارے ہو
(بشکریہ:بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

