ایشیا ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطہ اس وقت طاقتوں کی نئی صف بندی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ افغانستان کی غیر یقینی داخلی صورتحال، پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی کشیدگی، اور ایران و اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم اس پورے خطے کو ایک حساس مرحلے میں داخل کر چکا ہے۔ ان تمام عوامل کے براہِ راست اور بالواسطہ اثرات پاکستان پر مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان جغرافیائی طور پر ان تمام خطوں کے سنگم پر واقع ہے۔
افغانستان کی صورتحال اس تناظر میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر افغانستان میں داخلی خانہ جنگی شدت اختیار کرتی ہے یا مختلف گروہوں کے درمیان مسلح تصادم بڑھتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر پاکستان کی مغربی سرحد پر محسوس ہوں گے۔ ماضی کی طرح سرحد پار دہشت گردی، غیر قانونی نقل و حرکت اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مہاجرین کی نئی لہر پاکستان کی معیشت اور سماجی ڈھانچے پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر چکا ہے اور کسی نئی ہجرت کی صورت میں مالی اور انتظامی چیلنجز کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
افغانستان کی جنگی صورتحال کا ایک اہم پہلو علاقائی طاقتوں کی مداخلت ہے۔ چین خطے میں اقتصادی استحکام چاہتا ہے تاکہ اس کے علاقائی منصوبے متاثر نہ ہوں، جبکہ امریکہ افغانستان سے انخلا کے باوجود خطے میں اسٹریٹجک مفادات رکھتا ہے۔ اگر ان طاقتوں کے درمیان مقابلہ دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے تو افغانستان ایک بار پھر پراکسی کشمکش کا میدان بن سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان کو براہِ راست برداشت کرنا ہوں گے۔
جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی اس صورتحال سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر افغانستان میں کسی ایک فریق کا اثر بڑھتا ہے اور دوسرا اسے اپنے خلاف سمجھتا ہے تو خطے میں عدم اعتماد مزید گہرا ہوگا۔ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ دفاعی اخراجات بڑھا سکتا ہے، جس کا بوجھ ترقیاتی منصوبوں پر پڑے گا۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے لیے مختص وسائل دباؤ کا شکار ہوں گے، جبکہ سرمایہ کار غیر یقینی ماحول میں محتاط رویہ اختیار کریں گے۔
اس پورے منظرنامے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نہایت حساس عنصر ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم کے کئی عوامل ہیں: ایران کے جوہری پروگرام پر اسرائیل کے تحفظات، شام اور لبنان میں اثر و رسوخ کی جنگ، اور خطے میں پراکسی گروہوں کی حمایت کا الزام۔ اگر یہ کشیدگی براہِ راست عسکری تصادم میں بدلتی ہے تو پورا مشرقِ وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
ایران۔اسرائیل جنگ کی صورت میں سب سے فوری اثر عالمی توانائی منڈیوں پر پڑے گا۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کا اہم راستہ ہیں۔ کسی بھی عسکری کارروائی یا ناکہ بندی سے تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان چونکہ توانائی کا بڑا درآمد کنندہ ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مہنگائی، بجلی کے نرخوں اور صنعتی لاگت کو متاثر کرے گا۔ درآمدی بل میں اضافہ روپے پر دباؤ ڈالے گا اور مالیاتی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔
خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی محنت کش سالانہ اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں۔ اگر ایران۔اسرائیل کشیدگی پورے خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے تو روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔ کسی بڑے بحران کی صورت میں ترسیلاتِ زر میں کمی پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
وسطی ایشیا بھی اس تناؤ سے محفوظ نہیں رہے گا۔ اگر ایران کسی بڑے تصادم میں الجھتا ہے تو علاقائی تجارتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے وسطی ایشیا تک زمینی رسائی کے منصوبے سست روی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بحیرہ عرب میں سکیورٹی خدشات بڑھنے سے سمندری تجارت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
داخلی سطح پر ایسی علاقائی کشیدگی قومی سلامتی کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔ دفاعی تیاریوں پر اخراجات میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تاہم اگر معاشی بنیادیں کمزور ہوں تو طویل مدتی کشیدگی معیشت کو عدم استحکام کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان داخلی استحکام، معاشی اصلاحات اور سفارتی توازن کو بیک وقت برقرار رکھے۔
ان تمام خطرات کے باوجود مواقع بھی موجود ہیں۔ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کو سفارتی پل میں بدل سکتا ہے۔ اگر وہ غیر جانبدار اور متوازن پالیسی اختیار کرے تو علاقائی تنازعات میں ثالثی یا سہولت کاری کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ تجارت، ٹرانزٹ فیس اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے پاکستان کو معاشی فوائد فراہم کر سکتے ہیں۔ گوادر بندرگاہ اور علاقائی راہداری منصوبے ایسے مواقع ہیں جو درست حکمت عملی کے ذریعے خطے کی کشیدگی کو اقتصادی امکانات میں بدل سکتے ہیں۔
آخرکار حقیقت یہی ہے کہ ایشیا میں بڑھتی کشیدگی، افغانستان کی ممکنہ جنگ اور ایران۔اسرائیل تصادم پاکستان کے لیے محض خارجی مسائل نہیں بلکہ ہمہ جہتی چیلنج ہیں۔ ان کے اثرات دفاع، معیشت، سیاست اور سماجی استحکام ہر سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ دانشمندانہ سفارتکاری، مضبوط داخلی معیشت اور قومی اتفاقِ رائے ہی وہ ستون ہیں جو پاکستان کو اس غیر یقینی دور میں محفوظ اور مستحکم رکھ سکتے ہیں۔ اگر بروقت منصوبہ بندی کی جائے تو یہی بحران مستقبل کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

