امریکی محکمہ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسماعیل خطیب نے 1979 کے انقلاب کے بعد 1980 میں پاسدرانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔
Browsing: اسرائیل ایران
دوسری جانب اس دعوے پر ایران کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کے باعث اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن کی تصدیق بعد میں مختلف ذرائع سے ہوتی رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔
اسرائیلی پولیس فورس نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک دھماکے کے بعد ایک شخص کو لڑکھڑاتے ہوئے سڑک سے دور جاتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ملبہ چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔
کلسٹر ہتھیار کے ذریعے راکٹ، میزائل یا توپ کے گولے سے درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے بم (بمبیٹس) بکھیر دیے جاتے ہیں، جو ایک وسیع علاقے تک پھیل جاتے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے تہران میں کئی تیل کے ڈپوں یعنی ’فیول سٹوریج کمپلیکس‘ پر حملے کیے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’یہ اہم حملہ تھا جس کا مقصد ایندھن کے اُن ذخائر کو نشانہ بنانا تھا جنھیں ایران کے عسکری نظام اور فوجی بنیادی ڈھانچے کو چلانے کے لیے براہِ راست اور بار بار استعمال کیا جا رہا تھا۔‘
سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا اس بیان کو ویسا ہی ’سرنڈر‘ سمجھا جاسکتا ہے جیسا صدر ٹرمپ نے اسے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے تو یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس بیان کو ایران کا سرنڈر کہہ کر اور دوسری طرف ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور سے تباہ کرنے کا دعویٰ کرنے کے بعد امریکہ یک طرفہ طور سے اس جنگ کو بند کرنے کاا علان کرے جس کے بعد اسرائیل بھی امریکی تقلید میں جنگ بندی پر راضی ہوجائے۔ گو کہ یہ سب سے سہل اور خوش کن طریقہ ہوگا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے لیے صرف مسعود پزشکیان کا ایک بیان شاید کافی نہ ہو۔ وہ اس سے پہلے ایران میں من پسند لیڈر کے انتخاب کو بھی جنگ بندی کی اہم شرط کے طور پر پیش کرچکے ہیں۔
ایران کو اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جس محاذ آرائی کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی ملا رجیم نے نظریاتی تقسیم کی بنیاد پر خود کو ایک خاص مسلک کا نمائیندہ بنا کر علاقے کے تمام ممالک کے لیے چیلنج بنانے کی کوشش کی۔
تل ابیب : اسرائیلی ڈیفینس فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ رات ایرانی شہر قم میں ایک بیلسٹک میزائل لانچر کو تباہ کر دیا…
چند ہی دنوں میں پٹرول کی قیمت میں کم از کم 30سے 40روپے کا اضافہ درکار ہوگا۔ مذکورہ اضافے کے اثرات ہماری محدود سے محدود تر ہوتی آمدنی پر انحصار کرنے والے سینکڑوں گھرانوں پر عذاب کی صورت نازل ہو ں گے ۔ ریت میں سردئیے شترمرغ کی طرح مگر ہم اس جانب دیکھنے کو آمادہ ہی نہیں ہورہے ۔ اپنی ‘‘نظریاتی’’ سوچ کے مطابق بڑھکیں لگائے چلے جارہے ہیں۔
کبھی کبھی وہ کالم لکھنا پڑتا ہے جس کو لکھنے پر دل راضی نہیں ہوتا مگر پھر بھی لکھنا پڑتا ہے۔ محض دل کی بھڑاس نکالنے…
جمہوریت میں دائیں اور بائیں بازو کے دھارے اپنی مخصوص ترجیحات سے قطع نظر جائز سیاسی رجحان کا درجہ رکھتے ہیں۔ تاہم مذہبی سیاست سے مراد…
